ایران میں عورتیں: 1979ء سے پہلے اور بعد میں

1979ء کے ایرانی اسلامی انقلاب سے قبل، دنیا کے دیگر ممالک کی عورتوں کے ساتھ ساتھ ایرانی عورتیں بھی حقوق حاصل کرتی جا رہی تھیں۔ سیکڑوں عورتیں عوام کی منتخب کردہ مقامی کونسلوں میں خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ججوں، سرکاری ملازموں، سفیروں اور پولیس افسران سمیت لاکھوں کی تعداد میں عورتیں افرادی قوت میں شامل تھیں۔

ایران کے اسلامی انقلاب نے یہ سب پیشرفتیں مٹا کر رکھ دیں۔

Graphic about restrictions on Iranian women's activities (State Dept.)

گزشتہ چار دہائیوں میں ایرانی عورتوں نے جد و جہد کرکے جو چند ایک بنیادی آزادیاں دوبارہ حاصل کی ہیں اُن میں اپنی مرضی کے شعبہائے تعلیم اور ملازمتوں کے شعبوں کا انتخاب شامل ہیں۔ ایران میں چار کروڑ عورتوں کو آج جس تلخ حقیقت کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ قانون خاوند کو خاندان کا سربراہ تسلیم کرتا ہے اور ملازمت سمیت عورت کو ہر صورت میں خاوند کی تابعداری کرنا ہوتی ہے۔

Graphic with examples of segregation of Iranian women and girls (State Dept.)

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تخمینے کے مطابق اگر عورتوں کو افرادی قوت میں مکمل طور پر شرکت کرنے کی اجازت دیدی جائے تو ایران کی معیشت میں زبردست بہتری آ سکتی ہے اور ایران کی مجموعی قومی آمدنی میں 40 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 23 مارچ کو کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ ایرانی عوام کو غلامی سے آزادی اور کام کرنے کی آزادی ملے  اور انسانی حقوق کے وہ تحفظات حاصل ہوں جو ہم دنیا کے ہر ایک فرد کے لیے چاہتے ہیں۔”