حال ہی میں ایران میں عیسائیوں کی گرفتاریوں کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے یعنی 2018ء کے دوران 1,000  فیصد اضافہ۔ اس فہرست میں ایک سو ایسے عیسائی بھی شامل ہیں جنہیں اپنے گھروں میں کرسمس کے موقع پر جمع ہونے پر حراست میں لیا گیا۔

یہ معلومات بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمشن کی 2019ء کی سالانہ رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔ آزاد اور [امریکہ کی] دونوں سیاسی پارٹیوں کا حمایت یافتہ یہ ادارہ امریکی صدر، کانگریس اور وزیر خارجہ کو مشورے دیتا ہے۔

فروری میں تہران میں ہونے والے مظاہروں میں ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے جانے والے 300 صوفیوں کے بارے میں بھی اس رپورٹ میں دستاویزات شامل کی گئی ہیں۔ (احتجاج کرنے والے ایک شخص کو گرفتاری کے فوراً بعد پھانسی دے دی گئی۔) اس رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ “ایرانی حکومت مسلمانوں (بالخصوص سنیوں اور صوفیوں)، بہائیوں اور عیسائیوں کی دن بدن بڑھتی ہوئی تعداد کو منظم انداز سے نشانہ بنا رہی ہے۔

Multiple pictures of Baha'i religious leaders (© Ricardo Moraes/Reuters)
19 جون 2011 کو ریو ڈی جنیرو میں ایک احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایران میں قید بہائی مذہبی لیڈروں کی تصاویر اٹھا رکھی ہیں۔ (© Ricardo Moraes/Reuters)

ایران کے 90 فیصد سے زائد لوگ شیعہ مسلمان ہیں۔ گزشتہ 40 برسوں میں اسلامی جمہوریہ کے زیرنگیں مذہبی اقلیتیں جد و جہد میں مصروف ہیں۔ سخت گیر، مطلق العنان مذہبی جمہوریہ کے قوانین و ضوابط کی بنیاد جعفری شیعہ اسلام پر ہے۔

20 اپریل کو رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کمشن کے ایک اہل کار، گیری بوئر نے وائس آف امیریکا کو بتایا، “افسوس کہ اس سال بھی ایران میں کوئی [مثبت] پیشرفت نظر نہیں آتی۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران “مختلف مذہبی اقلیتوں کے ساتھ زیادتیاں کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ اِن اقلیتوں میں وہ مسلمان اقلیتیں بھی شامل ہیں جو شیعہ حکومت کے ساتھ اتفاق نہیں کرتیں۔”

کمشن کی رپورٹ میں مندرجہ ذیل واقعات بھی شامل ہیں:-

  • اگست 2018 میں ایران کی انقلابی عدالتوں نے 286 صوفیوں کے ایک گروپ کو قید اور کوڑوں کی سزا دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ “کچھ افراد کے سلسلے میں تو مقدمات 15 منٹ سے زیادہ بھی نہیں چلے۔”
  • 2018ء کے اختتام تک 70 سے زائد بہائی جیلوں میں قید تھے اور کم از کم 60 بہائیوں کو اُن کے مذہب کی بنیاد پر ایرانی یونیورسٹیوں میں داخلے دینے سے انکار کر دیا گیا۔
  • 2018ء میں کم از کم 171 عیسائیوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے مقابلے میں سال 2017 میں 16 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بیرونِ ملک عیسائی مذہبی سیمیناروں میں شرکت یا گھر میں چرچ میں کی جانے والی عبادات کا انعقاد کرنے کا شمار ایسی سرگرمیوں میں ہوتا ہے جن کی وجہ سے عیسائیوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔

ایرانی حکومت کی سرپرستی میں کیا جانے والا پراپیگنڈہ

Woman walking past wall with image of menorah on it (© Behrouz Mehri/AFP/Getty Images)
2015ء میں ایک ایرانی یہودی خاتون بہشتی قبرستان جا رہی ہے۔ تہران میں یہ واحد یہودی قبرستان ہے۔ (© Behrouz Mehri/AFP/Getty Images)

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018ء میں ایرانی حکومت یہود مخالف پراپیگنڈہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اجازت بھی دیتی رہی۔ ایران کے صدارتی دفتر کے ایک اعلٰی عہدیدار نے تہران میں ایک یہود دشمن کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں یہودیوں پر بین الاقوامی معیشت کے جوڑ توڑ اور ہولوکاسٹ کے استحصال کا الزام لگایا گیا۔

Graphic showing symbols of minority religions and estimated numbers of members in Iran (State Dept./Images © Shutterstock)
(State Dept./Images © Shutterstock)

رپورٹ میں کہا گیا ہے، “ایرانی اہل کار اور علماء باقاعدگی سے اسرائیلی ریاست کو مٹانے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں اور یہودی کمیونٹی کے افراد کو اسرائیل کے ساتھ حقیقی یا فرضی روابط کی بنا پر نشانہ بناتے رہتے ہیں۔”

مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے اقدامات

وزیر خارجہ مائیک پومپیو جولائی میں وزارت خارجہ میں مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے دینی علما کی دوسری کانفرنس کی میزبانی کریں گے۔ اس کانفرنس میں دنیا کے طول و عرض میں مذہبی آزادی کو فروغ دینے کی خاطر سینکڑوں حکومتی اور مذہبی راہنما، مذہبی زیادتیوں کا شکار ہونے والے افراد اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں شرکت کریں گیں۔

محکمہ خارجہ بھی مذہبی آزادی پر ایک رپورٹ جاری کرتا ہے۔

پومپیو نے جنوری میں کہا، “دنیا میں ہر شخص اپنے ضمیر کے مطابق کسی مذہب پر ایمان رکھنے، یا نہ رکھنے میں آزاد ہونا چاہیے۔ حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ مذہبی آزادی کو تحفظ دیں۔ اور مذہبی آزادی کا فروغ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ حکمت عملی کی بنیادی ترجیح ہے۔”