ایران نے تہران کے علاقے میں 17 لاکھ افراد کو جیلوں میں ڈالا: رپورٹ

Graphic showing targets of Iran's persecution (State Dept.)

ایک نئی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے گزشتی چار دہائیوں میں تہران کے علاقے میں اپنے 17 لاکھ  لوگوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا اور اِن میں سے بہت سے لوگوں کو پھانسیاں دی گئیں۔

"رپورٹرز ودآوًٹ بارڈرز" [سرحدوں سے ماورا صحافیوں] کے مطابق اِن میں جو لوگ شامل ہیں اُن مبیں 5,700  سے زائد بہائی مذہبی اقلیت کے افراد اور کم از کم 860  پیشہ ور صحافی اور شہری صحافی ہیں۔  پیرس میں قائم اس غیرسرکاری تنظیم نے "جھوٹ کے چالیس سال" کے عنوان سے اپنی ایک رپورٹ 7 فروری کو شائع کی۔

اس رپورٹ میں دی گئی معلومات کی بنیاد افشا کی گئی ایک ایسی ایرانی فائل پر مبنی ہیں جس میں گزشتہ 40 سال کی عدالتی کاروائیوں کی تفصیل درج ہے۔

رپورٹرز ودآوًٹ بارڈرز نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا کہ ان معلومات سے "حکومت کی جانب سے بولے جانے والے اُن جھوٹوں کی قلعی کھل جاتی ہے جو اس نے ایران کے عدالتی ظلم و ستم کے بارے میں گھڑ رکھے ہیں۔"

گرفتار کیے جانے والے بہت سے افراد میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے لوگ، ضمیر کے قیدی، حکومت کے مخالفین یا سرگرم کارکن شامل ہیں۔

اس رپورٹ کی چونکا دینے والی معلومات میں جو چیزیں شامل ہیں اِن کے مطابق 1980 کی دہائی سے لے کر اب تک کم سِن افراد سمیت 61,940   سیاسی قیدیوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ 1988ء میں رہبر اعلٰی روح اللہ خمینی کے احکامات کے تحت  4,000  افراد کو موت کی سزائیں دی گئیں۔

رپورٹرز ودآوًٹ بارڈرز کے سیکرٹری جنرل کرسٹوفے ڈیلوائر کہتے ہیں، "اس رپورٹ کا وجود اور اس میں درج لاکھوں افراد سے متعلق معلومات نہ صرف ایرانی حکومت کے برسوں پر پھیلے اِس جھوٹ کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں کہ ایرانی جیلوں میں کوئی سیاسی قیدی یا صحافی نہیں ہے بلکہ اُن مسلسل سازشوں کو بھی آشکار کرتی ہیں جن کے تحت حکومت نے 40 سال میں مردوں اور عورتوں پراُن کی رائے یا رپورٹنگ کی وجہ سے ظلم  ڈھائے۔"