A woman and boy walking across dry riverbed (© Vahid Salemi/AP Images)
ایران کے شہر اصفہان میں دو افراد خشک ہوجانے والے دریائے زایںدہ رود میں سے جولائی کے مہینے میں گزر رہے ہیں۔ (© Vahid Salemi/AP Images) in July. (© Vahid Salemi/AP Images)

انتظامیہ کی آبی وسائل کی خراب حکمت عملی اور بدعنوانی کی  وجہ سے ایران کے شہروں، قصبوں اور کھیتوں میں  پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے  ہزاروں لوگ اپنے  گھر بار چھوڑ رہے ہیں اور مشتعل ہو کر مظاہرے کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس سال کے اوائل میں ایران کے بارے میں حکمت عملی کا خاکہ پیش کرتے  ہوئے کہا، “گزشتہ چند مہینوں میں ہونے والے احتجاج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایرانی عوام اپنی حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے شدید تنگ آچکے ہیں۔ ایران کے قدرتی وسائل کی حکومتی بدانتظامی کی وجہ سے شدید خشک سالیوں کے ساتھ ساتھ دیگر ماحولیاتی بحران بھی پیدا ہو گئے ہیں۔”

اس کے  باوجود جب ایران کے چوٹی کے ماحولیات اور آبی وسائل کے ماہرین اپنے ملک میں پیدا ہونے والی شدید آبی قلت کے مسائل کی نشاندہی کرنے اور اُن کا حل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پاسدارانِ انقلاب کے نام سے جانے جانے والے ایرانی سکیورٹی کے اہلکار اس کا جواب گرفتاریوں، تشدد اور دھمکیوں سے دیتے ہیں۔

ذیل میں چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔

  • کینیڈا اور ایران کی دوہری شہریت رکھنے والے جنگلی حیات کے ورثے کی فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر، کاووس سید- امامی فروری مبں جیل میں مشکوک حالات میں مردہ پائے گئے۔
  • امریکہ سے تعلیم حاصل کرنے والے ممتاز آبی ماہر، کاوہ مدنی نے ایران میں پانی کے بحران سے نمٹنے میں مدد کرنے کی خاطر2017ء کے آخر میں لندن میں اپنے تعلیمی شعبے کے عہدے کو خیرباد کہا اور ایران چلے آئے۔ چند ماہ کے اندر ایرانی سکیورٹی اداروں نے انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے پوچھ گچھ شروع کردی۔ جس سے تنگ آکر وہ اپریل 2018ء میں ملک سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔
  • ایران کے مرکز برائے انسانی حقوق کے مطابق مئی کے مہینے میں کم از کم 40  مزید ماحولیاتی ماہرین کو گرفتار کیا گیا۔
Map showing areas of drought and locations of protests (State Dept./Doug Thompson, Sources: Voice of America, Associated Press, Reuters)
(State Dept./Doug Thompson)

حالیہ مظاہروں کا تعلق پانی کی قلت سے ہے

روزافزوں مظاہرے اور احتجاج ان علاقوں میں ہو رہے ہیں جہاں خشک سالی اور پانی کی قلت بحرانی صورت اختیار کر چکی ہے۔ خصوصاً اصفہان اور اس کے گردونواح اور مغربی صوبہ خوزستان کے بہت سے قصبوں اور شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

وائس آف امیریکا کے مطابق اصفہان کی سڑکوں پر ہونے والے مظاہرے پورا پورا دن جاری رہے۔ یہاں کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت پانی کو قریبی صوبے یزد کی طرف موڑ رہی ہے، جس کی وجہ سے پانی کی قلت کے علاوہ زرعی زمینوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

جولائی کے مہینے میں تہران کے جنوب مغرب میں تقریبا 650  کلو میٹر کے فاصلے پر واقع خرم شہر میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہاں کے مکینوں نے پانی کے نلکوں سے “نمکین گدلے پانی کے آنے” کی شکایت کی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں اور قریبی واقع نمکیات والی زمینوں سے مرتب ہونے والے اثرات سے خبردار کیے جانے کے باوجود، 2004ء میں خوزستان کے دریائے کارون پر تعمیر کیا جانا والا گتوند ڈیم اس مسئلےکی جڑ ہے۔ دریا میں نمکیات کی بلند مقدار نے خوزستان کی کسی زمانے میں انتہائی زرخیز زمین کو بہت بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

مشرق وسطٰی کے انسٹی ٹیوٹ کے “ایران آبزروڈ” کے ڈائریکٹر، احمد خالد ماجد یار لکھتے ہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران “پانی کے قدرتی بہاؤ کے رخ کو موڑ کر اور عام ایرانیوں کی بجائے اشرافیہ کو فائدہ پہنچا کر” ایران نے سینکڑوں ڈیم تعمیر کیے ہیں۔”

ماجد یار بتاتے ہیں کہ ایرانی قائدین پڑوسی ممالک کی پانی کے انتظام کی پالیسیوں اور دیگر عوامل کو ایران کی خشک سالی اور ماحولیاتی مسائل کا الزام دیتے ہیں جبکہ “وہ ملک میں وسیع پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی اور بدانتظامی کے ساتھ ساتھ  حکومت کی غلط پالیسیوں کو ملک بھرمیں بد سے بدتر ہوتے بحران کا ذمہ دار قرار دینے سے آنکھیں چراتے ہیں۔”