ایران کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی برائن ہک نے حال ہی میں اختصار سے بتاتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت کو دہشت کی اپنی عالمی مہم کو آگے بڑھانے کے لیے وسائل سے محروم کرنے کے لیے پانامہ سے لے کر جرمنی اور جاپان تک دیگر ممالک امریکہ کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔

ہک نے کہا، "ہماری پابندیاں ایران کی اُس کے آلہ کاروں کی حمایت کو کمزور بنا ر ہی ہیں اور ایک طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ دہشت اور عسکریت پسندی پھیلانے کے لیے [ایران کو]  پیسوں تک کم رسائی حاصل ہے۔"

ہک نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کی گئی پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی سپاہ (آئی آر جی سی) ایران کی نصف معیشت کو کنٹرول کرتی ہے جس سے آئی آر جی سی کے لیے اندرون ملک سرمایہ کاری کی بجائے بیرونی ممالک میں دہشت گردی کے لیے پیسے فراہم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروبار کرنے سے انکار کر رہی ہیں اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اپنے ساتھ لے کر جا رہی ہیں۔ اس طرح آئی آر جی سی اُس کیش سے محروم ہوتی جا رہی ہے جس کی اسے دنیا بھر میں دہشت گردی کی سازشیں تیار کرنے اور یمن، عراق، شام اور لبنان میں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے علاقائی تصادموں کو طوالت دینے کے لیے اسے ضرورت ہے۔

Actions the EU and individual countries have taken against Iran (State Dept.) (Photo: © Majid Asgaripour/Mehr News Agency/AP Images)
(State Dept.)

ہک نے کہا، "ہم پُر اعتماد ہیں کہ ایران سے لاحق خطرات کے بارے میں ہمارا مشترکہ نقطہ نظر مزید مشترکہ کاروائیوں کی شکل میں سامنے آتا رہے گا۔" انہوں نے مزید کہا، " ایران کے خباثت بھرے رویے کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ نے اقدامات اکیلے نہیں اٹھائے۔ ہم اِن سب ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔"