ایران کے بارے میں امریکی حکمت عملی کے نتائج ظاہر ہونے لگے

Man in suit walking past display of missiles (© Al Drago/Reuters Pictures)
امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے ایران، برائن ہک ایرانی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی برادری کو لاحق خطرات کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ (© Al Drago/Reuters Pictures)

محکمہ خارجہ کے ایک اعلٰی عہدیدار نے 2 اپریل کو بتایا کہ امریکہ کی ایران پر عائد کی جانے والی پابندیوں اور “زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم” سے مطلوبہ  نتائج حاصل ہو رہے ہیں اور مشرق وسطی میں دہشت گردی پھیلانے سے [ایرانی] حکومت کو روک رہے ہیں۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے ایران، برائن ہک نے کہا، “ہماری پابندیاں ایران کی اپنے نیابتی آلہ کاروں کی حمایت کو کمزور کر رہی ہیں اور ایک طویل مدت کے بعد پہلی مرتبہ انہیں دہشت اور عسکریت پسندی پھیلانے کی خاطر مالی وسائل تک نسبتاً کم رسائی حاصل ہے۔”

ہک نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے:

  • 970 ایرانی اداروں اور افراد کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا۔
  • 70 سے زائد مالیاتی اداروں پر پابندیاں لگائیں۔
  • اسد حکومت اور حزب اللہ جیسے دہشت گرد شراکت داروں کی مالی مدد کرنے والے تیل کےغیرقانونی نیٹ ورکوں کو ہدف بنایا۔

ایران کے تیل کے گاہکوں کی تعداد گھٹ کر تھوڑی ہو گئی ہے۔ ہک نے بتایا کہ تیل کے 23 درآمد کنند گان جو کبھی ایران سے تیل خریدا کرتے تھے اب ایسا نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا، “ایسے میں جب تیل کی قیمتیں اس وقت سے کم ہیں جب ہم نے پابندیوں کا اعلان کیا تھا اور تیل کی عالمی پیداوار مستحکم ہے، تو ہم ایران کے خام تیل کی خریداری کو بالکل ختم کرنے کی راہ پر تیزی سے گامزن ہیں۔”

ٹوئٹر کی عبارت کا ترجمہ: – نمائندہ خصوصی ہک: ریال کی دو تہائی قدر کم ہو جانے کے بعد @IMFNews نے پیش گوئی کی ہے کہ #Iran کی معیشت سال 2019 میں 3.6% سکڑ جائے گی اور نومبر میں افراط زر کی شرح 40%  کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ بحران حکومت کا خود کا پیدا کردہ  ہے۔  

ہک نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکی پابندیوں اور دباؤ کا مقصد ایرانی حکومت کو علاقائی لڑائیوں میں ملوث ہونے سے روکنا ہے۔

ہک نے کہا، “ایرانی اثرونفوذ اور حمایت، خطے کی امن اور خوشحالی سے کہیں بھی مطابقت نہیں رکھتے۔”

نہ قابل تقلید مثال اور نہ ہی شراکت کار

امریکی دباؤ سے حکومتی بدعنوانی، بدانتظامی، انسانی حقوق کی پامالی اور ماحولیاتی تباہی اس کے ہمسایوں کے سامنے بے نقاب ہوئی ہیں اور ہک نے یہ نقطہ اٹھایا ہے کہ ایران نہ تو کوئی قابل تقلید مثال ہے اور نہ ہی قابل بھروسہ کاروباری شراکت کار ہے۔

ہک نے کہا، “یہ [حکومت] جہاں کہیں بھی جاتی ہے تصادم، مصائب اور تکالیف اس کے ساتھ آتے ہیں۔”

گزشتہ برس ایران کی اپنی غیرقانونی اور توسیع پسندانہ حکومت کو پھیلانے کی ایک بہت بڑی تزویراتی حکمت عملی کا امریکی دباؤ نے مقابلہ کیا۔ ایران سے خطے کو لاحق خطرات کو کم کر کے بہت سے تنازعات کو حل کرنے کی امید کی جاتی ہے۔

ہک نے کہا، ” وزیر خارجہ پومپیو ہمارے اختیار میں موجود تمام وسائل کو بروئے کار لانا جاری رکھیں گے تاکہ خطے کے امن کے مفاد میں اور ایران کے اپنے لوگوں کی خاطر اس [ایرانی] حکومت پر اپنی تباہ کن پالیسیاں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا  جا سکے۔”