ایران کا خلا میں خلائی گاڑی بھیجنا اقوام متحدہ کی میزائل ٹکنالوجی سے متعلق قرارداد کی خلاف ورزی ہے

پہاڑوں کے اوپر فضا میں پرواز کرتا ہوا ایک میزائل۔ (Sepahnews via AP)
شام میں ریاست اسلامی کے جنگجوؤں پر داغا جانے والا ایک بیلسٹک میزائل۔ ایران نے یہ تصویر اکتوبر 2018 میں جاری کی۔ (Sepahnews via AP)

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ایران کا خلائی گاڑی کو خلا میں بھیجنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایسے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے متعلق قرارداد کی کھلی خلاف ورزی ہے جو جوہری ہتھیار لے جا سکتے ہوں۔

ٹوئٹر کا ترجمہ

“بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد2231 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے  #Iran [ایران] کی حکومت نے آج ایک خلائی گاڑی خلا میں بھیجی ہے۔ خلائی گاڑی کا چھوڑا جانا اس بات کو ایک مرتبہ پھر ثابت کرتا ہے کہ ایران میزائلوں کی ایسی جدید استعداد پر کام کر رہا ہے جس سے یورپ اور مشرق وسطٰی کو خطرہ ہے۔”

پومپیو نے تین جنوری کو کہا کہ اِن خلائی گاڑیوں میں "جس ٹکنالوجی کو استعمال کیا جاتا ہے وہ درحقیقت وہی ہوتی ہے جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں سمیت بیلسٹک میزائلوں میں استعمال کی جاتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جولائی 2015 کی  قرارداد نمبر 2231 میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں سے باز رہے۔

پومپیو نے حال ہی میں اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل کے پروگرام کے خلاف کاروائی کرے۔

پومپیو نے کہا کہ ایران کا خلائی گاڑیوں کا خلا میں بھیجنا، ایران کی طرف سے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کو ایک بار پھر ثابت کرتا ہے۔"

تصویر پر چسپاں عبارت کا ترجمہ

"علاقے میں 10 سے زائد بیلسٹک میزائلوں کے نظاموں کے ساتھ ایران کے پاس سب سے بڑی میزائل بردار فوج ہے۔"

محکمہ خارجہ کے مطابق ایران نے جنوری 2017 میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ایک میزائل داغا جس کے بارے میں اکثریت کو یقین ہے کہ یہ 500 کلوگرام وزنی مواد اٹھا کر 2,000 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ اس فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی زد میں یورپ کے بہت سے ایسے دارالحکومت آتے ہیں جنہیں میزائلوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران نے یکم دسمبر 2018 کو کثیرالنوع ہتھیار لے جانے کی استعداد رکھنے اور درمیانے درجے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا۔ اس کے بعد پاسداران  انقلابِ اسلامی کی فوج کی فضائی اور خلائی فورس کے کمانڈر نے کہا کہ ایران ہر برس 40 سے 50 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کرتا ہے۔

خلائی گاڑی کا چھوڑا جانا اس بات کو ایک مرتبہ پھر ثابت کرتا ہے کہ ایران میزائلوں کی ایسی جدید استعداد پر کام کر رہا ہے جس سے یورپ اور مشرق وسطٰی کو خطرہ ہے۔

تین جنوری کو شائع ہونے والے اس مضمون میں تازہ ترین معلومات کا اضافہ کیا گیا ہے۔