رات کے وقت شہر کی سنسان سڑک کو عبور کرتا ہوا ایک شخص۔ (© Ebrahim Noroozi/AP Images)
ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی، کووڈ-19 کی وحہ سے بند سڑک پر لگی ہوئی ایک روشن تصویر۔ ایرانی رہنما نے ابتدا میں کووڈ-19 کو "منفی پروپیگنڈہ" قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ (© Ebrahim Noroozi/AP Images)

ایرانی حکومت برسوں پر پھیلی اپنی اقتصادی بدانتظامی اور دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے کی وجہ سے آنے والی اقتصادی تباہی سے بچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔

وائس آف امریکہ (وی او اے) کے مطابق حکومتی ترجمان علی ربیعی نے حال ہی میں تسلیم کیا کہ 70 لاکھ سے زائد ایرانی یا تو اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں یا انہیں بغیر تنخواہ کے گھر بیٹھا دیا گیا ہے۔ ربیعی نے مزید کہا کہ 35 فیصد سے زائد ایرانی بمشکل گزارہ کر پا رہے ہیں۔

جھنڈے کے آگے بیٹھے ہوئے حسن روحانی۔ (Office of the Iranian Presidency/AP Images)
صدر حسن روحانی 18 مارچ کو تہران میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ (Office of the Iranian Presidency/AP Images)

مشرق وسطی کے تجزیہ کار صاحب صادقی نے جریدے فارن پالیسی میں 5 مئی کو ایک مضمون میں لکھا کہ بڑھتی ہوئی وبا کے خوف کے باوجود ایران کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے معاشی مستقبل نے صدر حسن روحانی کے پاس کاروباروں کو دوبارہ کھولنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑا۔ روحانی نے اپریل کے وسط میں کاروباروں کو دوبارہ کھولا۔

وہ مزید لکھتے ہیں، "روحانی حکومت کے محصولات حیرت انگیز حد تک کم ہو چکے ہیں۔” اُن کے مطابق اس کے نتیجے میں ایران کی حکومت کو، جیسا کہ دوسرے ممالک کر چکے ہیں، ایک مسلسل اقتصادی شٹ ڈاؤن کے دوران ملکی معیشت کو زندہ رکھنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔

کووڈ-19 کی وباء کے پھوٹنے سے پہلے ہی ایرانی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اکتوبر 2019 میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ سال 2020 میں ایرانی معیشت 9.5 فیصد سکڑے گی۔

ایک ایرانی اپوزیشن لیڈر، زرتشت احمدی راغب نے 14 اپریل کو وی او اے کو بتایا، "اس وائرس کے پھوٹنے سے پہلے ہی ایرانی معیشت گر چکی تھی اور اب جب کہ لوگوں کو گھروں میں بیٹھ جانے کا کہا گیا ہے تو اس کی حالت مزید ابتر ہو گئی ہے۔”

یہ افراتفری کئی برسوں تک ایرانی حکومت کے دہشت گردوں کی مالی مدد کو عام ایرانیوں کی ضروریات پر ترجیح دیتے رہنے کہ بعد پیدا ہوئی ہے۔ سرکاری پروپیگنڈے اور دہشت گردی کے لیے قومی ترقیاتی فنڈ سے روحانی نے 4.8 ارب ڈالر نکالے۔

ابتدا میں ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای نے کورونا وائرس کے خوف کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ (ایرانی) حکومت کے دشمنوں کا پھیلایا ہوا ایک ایسا "منفی پروپیگنڈا” ہے جس کا مقصد 21 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والوں کی تعداد کو کم کرنا ہے۔ ایرانی حکومت نے اس وبا کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو بھی حقیقت کے مقابلے میں کم بتایا۔

حفاظتی لباس میں ملبوس ایک آدمی تدفین کے لیے قبر تیار کر رہا ہے۔ (© Ebrahim Noroozi/AP Images)
شمالی ایران کے شیر بابل کے قریب 30 اپریل کو کی جانے والی تدفین کی تیاری۔ ایرانی پارلیمنٹ کے ایک پینل کا کہنا ہے کہ حکومت نے کووڈ-19 سے ہونے والی اموات کی تعداد کم بتائی ہے۔ (© Ebrahim Noroozi/AP Images)

ریڈیو فردا کے مطابق اپریل کے وسط میں ایرانی پارلیمنٹ کے تحقیقی شعبے نے اطلاع دی کہ ایران میں 8,700 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور یہ تعداد حکومت کی بتائی جانے والی 4,777 کی تعداد سے تقریباً دوگنی ہے۔ اس پینل نے یہ بھی اطلاع دی کہ مریضوں کی تعداد 600,000 ہے جو کہ حکومتی تعداد یعنی 76,389 سے کم و بیش آٹھ گنا زیادہ ہے۔

کووڈ-19 کی وجہ سے ایرانی عوام کے لیے پیدا ہونے والی اضافی مشکلات کے باوجود، ایران کی حکومت اپنے عوام کے وسائل دہشت گردی پر خرچ کرتی چلی جا رہی ہے۔ امریکہ نے ایرانی حکومت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن کا مقصد حکومت کو تشدد کی آگ بھڑکانے سے روکنے اور ملک پر پیسہ خرچ کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

مارچ میں ایک حکم نامے کے ذریعے خامنہ ای نے امریکہ کی طرف سے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم نامزد کی جانے والی پاسدارانِ انقلاب کی سپاہ (آئی آر جی سی) کی فنڈنگ میں پارلیمنٹ کی طرف سے مختص کی جانے والی رقم میں 33 فیصد کا اضافہ کیا۔ انہوں نے بسیج مزاحمتی فورس کی فنڈنگ میں بھی تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا۔ بسیج فورس میں بچہ سپاہیوں کو دہشت برآمد کر نے اور اندرون ملک اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔