ایٹمی توانائی کا بین الاقوامی ادارہ کیا ہے؟

دنیا بھر کے ممالک کی خوراک اور توانائی کی پیداوار اور دیگر سائنسی ترقیوں میں جدت طرازیوں کا انحصار جوہری ٹکنالوجی پر ہے۔

جوہری توانائی کے [جو ایٹمی توانائی بھی کہلاتی ہے] گوناگوں استعمال نے اپنے تئیں بلکہ اسے ہتیھار کے طور پر استعمال کیے جانے کے خوف نے 1957 میں دنیا کے لیڈروں کو ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے [آئی اے ای اے] کے قیام کی ترغیب دی۔ اس ادارے کا کام جوہری توانانی کے باحفاظت اور محفوظ استعمال کو فروغ دینا ہے۔

1953 میں صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے “ایٹم فار پیس” [ایٹم برائے امن] کے عنوان سے خطاب کیا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ نے اس مقصد کے لیے جو تنظیم قائم کی اسے بھی “ایٹم فار پیس کا نام دیا گیا۔

 ایک بڑے کمرے میں ڈیسکوں اور کرسیوں پر نیم دائرے کی شکل میں بیٹھے لوگ رافیل ماریانو گروسی کو ایک بڑی سکرین پر دیکھ رہے ہیں (© Mary Altaffer/AP Images)
ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل، رافیل ماریانو گروسی 11 اگست کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات سے متعلق اجلاس کے دوران ویڈیو لنک کے ذریعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کر رہے ہیں۔ (© Mary Altaffer/AP Images)

یہ ادارہ گو کہ اقوام متحدہ سے منسلک ہے تاہم اس کی حیثیت ایک آزاد ادارے کی سی ہے اور یہ ہر برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔

اس وقت دنیا کے 175 ممالک اس ادارے کے رکن ہیں اور اِن کی توجہ کا مرکز مندرجہ ذیل امور ہوتے ہیں:

  • پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کو فروغ دینا۔
  • جوہری سلامتی کے معیار اور سکیورٹی کے راہنما اصول طے کرنا۔
  • یہ تصدیق کرنا کہ جوہری سرگرمیوں کا رخ فوجی مقاصد کی جانب تو نہیں موڑا جا رہا۔

ادویات کی تیاری اور فصلوں کی پیداوار میں اختراعات

آئی اے ای اے دنیا کے ممالک کی، دیگر امور کے علاوہ  مندرجہ ذیل پرامن مقاصد کے لیے جوہری وسائل استعمال کرنے میں مدد کرتا ہے:-

بجلی: دنیا کے 32 ممالک میں 400 سے زائد جوہری ری ایکٹر ہیں جو آئی اے ای اے کی مدد سے دنیا کی 10 فیصد بجلی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔

غذائی سلامتی: جوہری ٹکنالوجی کے زرعی استعمال سے کیڑوں مکوڑوں اور فصلوں کو لگنے والی بیماریوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداور میں اضافہ، زمین اور آبی وسائل کا تحفظ اور غذائی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ادویات: صحت کے بارے میں افریقہ میں ایبولا کا ابتدا ہی میں پتہ چلانے سمیت جوہری ٹکنالوجی کینسر اور دیگر امراض کی تشخیص اور علاج میں مدد کرتی ہے۔

جوہری ٹکنالوجی کے پرامن استعمال کیے جانے کی تصدیق

 سفید کوٹ، حفاظتی خود، دستانے، ماسک اور حفاظتی جوتے پہنے لوگ ایک جوہری ری ایکٹر کا معائنہ کر رہے ہیں (© Efrem Lukatsky/AP Images)
ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل، رافیل ماریانو گروسی درمیان میں دائیں طرف چرنوبل، یوکرین میں 27 اپریل 2021 کو چرنوبل جوہری پلانٹ میں ایک پناہ گاہ کے اندر اوپر سے ڈھکے ہوئے ری ایکٹر کا معائنہ کر رہے ہیں جو پھٹ چکا ہے۔ (© Efrem Lukatsky/AP Images)

آئی اے ای اے کو ایک کلیدی تصدیقی کردار سونپا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جوہری مواد کو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے نہ استعمال کیا جائے۔ یہ اقدام براہ راست 1970 کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی  معاونت کرتا ہے۔ اب تک تقریباً تمام ممالک اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔

جب آئی اے ای اے کے معائنہ کار کسی جوہری تنصیب کا دورہ کرنے جاتے ہیں تو وہ ایک آڈٹ بھی کرتے ہیں جس کے دوران وہ کسی ایک خاص جگہ پر ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور وہاں سے حاصل کی جانے والی معلومات کا آئی اے ای اے کو پہلے سے فراہم کردہ معلومات سے موازنہ کرتے ہیں۔

یہ ادارہ حفاظتی مہروں کا استعمال کرتا ہے اور اس امر کی نگرانی کے لیے کیمرے لگاتا ہے کہ کسی جوہری پلانٹ میں مواد اور آلات کو کیسے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آئی اے ای اے اس امر کی تصدیق کی خاطر ماحولیاتی نمونے بھی لے تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متعلقہ پلانٹ جوہری مواد کو صرف پرامن مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

 میز پر رکھا ہوا آئی اے ای اے کا خصوصی "بلیو کیمرہ" (© Michael Gruber/AP Images)
دسمبر 2021 میں ویانا میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل، رافیل ماریانو گروسی کی طرف سے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران آئی اے ای اے کا کیمرہ دکھایا یا۔ (© Michael Gruber/AP Images)

اس کے علاوہ آئی اے ای اے جوہری تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد کرنے میں بھی ایک انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس ضمن میں یہ ادارہ حفاظتی معیار اور رہنما اصول طے کرتا ہے اور جوہری یا ریڈیائی تابکاری کے واقعات سے نمٹنے میں مدد کرنے کے لیے دنیا کے ممالک کو تربیت اور بین الاقوامی مدد فراہم کرتا ہے۔