ایپل کے شریک بانی کے نام پر کمپیوٹر کی کلاسیں

ایپل کے شریک بانی سٹیو وازنیئک کو یقین ہے کہ آن لائن تعلیم کمپویٹر کی صنعت میں بہت سے شعبوں میں ملازمتوں کے دروازے کھول سکتی ہے۔ (© AP Images)

اس ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی میں مہارت آپ کو دلچسپ اور اطمینان بخش پیشے میں لے جانے کا ذریعے بن سکتی ہے۔ مگر ایسی صلاحیتوں کے حصول میں تربیت  درکار ہوتی ہے۔ بعض اوقات لوگ یہ صلاحیتیں حاصل کرتے ہوئے بھاری قرض تلے دب جاتے ہیں۔

اسی لیے ایپل کمپیوٹر کے بانی سٹیو وازنیئک  مستقبل کے ٹیکنالوجی کارکنوں کو اس صورتحال سے محفوظ رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔

وازنیئک نے سٹیو جابز کے ساتھ مل کر ایپل کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے پرسنل کمپیوٹر کی تیاری میں مدد دی تھی۔ اب وہ آن لائن تعلیم کے ترقی پذیر شعبے میں قدم رکھ  رہے ہیں۔

‘واز یو‘ نامی ادارہ ایسے کورسز تیار کر رہا ہے جن کی بدولت طلبہ کو کمپیوٹر کے میدان میں سافٹ ویئر ڈویلپر اور کمپیوٹر سپورٹ سپیشلسٹ بننے میں مدد ملے گی۔ بعدازاں یہ ادارہ سائبر سکیورٹی اور دیگر مخصوص تربیتیں بھی فراہم کرے گا۔

یہ کام تجارتی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے جسے منفعتی ادارے سدرن کیریئر انسٹیٹیوٹ’ کے ذریعے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ ادارہ پہلے ہی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور دیگر پیشہ وارانہ تربیت دینے کا کام کرتا ہے۔

کورسیرا اور یوڈیسٹی جیسے آن لائن تربیت مہیا کرنے والے ادارے اور یونیورسٹیاں مفت اور معاوضے کے ساتھ اس شعبے میں ‘وسیع اور کھلے آن لائن کورس’  یا ایم او او سی کرانے میں مصروف ہیں جن سے دنیا میں کہیں بھی کمپیوٹر تک رسائی رکھنے والا کوئی بھی شخص استفادہ کر سکتا ہے۔ ان کورسوں میں سائنس سے ریاضی اور انتظام و انصرام سے فنون لطیفہ تک ہر قسم کے موضوعات شامل ہیں۔

Three men standing behind a computer, one holding a keyboard (© AP Images)
سٹیو جابز، جان سکلی اور سٹیو وازنیئک 1984میں ایپل IIc کمپیوٹر کی نقاب کشائی کر رہے ہیں۔ (© AP Images)

وازنیئک نے اس کام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا، "ہمارا ہدف لوگوں کو ایسی ڈیجیٹل صلاحیتوں کی تعلیم و تربیت دینا ہے جو ان کی پیشہ وارانہ طور پر مدد کر سکیں  اور انہیں سالہا سال کے لیے مقروض نہ ہونا پڑے۔” وہ کہتے ہیں کہ ‘عام طور پر لوگ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کیریئر کے انتخاب سے خوفزدہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔ تاہم  میں جانتا ہوں کہ وہ کر سکتے ہیں۔ میں انہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ ایسا کیونکر ممکن ہے۔”

امریکہ میں جہاں سستے سرکاری کمیونٹی کالج کا کیریئر سرٹیفکیٹس اور ڈگریوں کے لیے منفعتی کمپنیوں سے مقابلہ ہوتا ہے وہاں بعض طلبہ بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں جبکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کے پاس نوکری ملنے کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔

تاہم کوڈنگ اور ٹیکنالوجی سے متعلق دوسری مہارتوں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل اکیڈمی آف انجینئرنگ کے مطابق 2009 اور 2015 کے درمیان کمپیوٹر اور انفارمیشن سائنسز میں بیچلر ڈگری کے طلبہ کی تعداد میں 74 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

‘واز یو’ ادارے کے مطابق اسے امید ہے کہ وہ 2018 میں دنیا بھر کے 30 شہروں میں رسمی کلاسیں شروع کر سکے گا جبکہ دور دراز علاقوں کے طلبہ کو ‘لائیو آن لائن انسٹرکٹر’ کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔ علاوہ ازیں یہ متوقع طلبہ کو پیشہ وارانہ ملازمتوں کے شعبوں کے انتخاب میں مدد دینے کے لیے ایپلی کیشن کی پیش بھی کرتی ہے۔

67 سالہ وازنیئک اپنے موجودہ پیشوں سے ناخوش لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنا شعبہ تبدیل کرنے کے بارے میں سوچیں۔ ان کا کہنا ہے، پڑھنا شروع کریں۔ اگر آپ کے پاس گھر میں فاضل وقت ہے تو اسے ضائع مت کریں۔ اپنے لیے کوئی بڑا کام کریں اور یہ بقیہ تمام زندگی آپ کے کام آئے گا۔”