ایڈائی طوفان کے بعد امریکہ 5 طریقوں سے مدد کر رہا ہے

موزمبیق میں 15 مارچ کو آنے والا "ایڈائی” نامی استوائی طوفان گزشتہ دو عشروں میں جنوبی افریقہ میں آنے والا شدید ترین طوفان تھا۔ اس سے موزمبیق اور ہمسایہ ممالک ملاوی اور زمبابوے میں موسلا دار بارشیں برسیں اور تیز ہوائیں چلیں۔

اس طوفان سے تباہ کن سیلاب آئے جس سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ متاثر ہونے والے 19 لاکھ  افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

امریکہ ایڈائی طوفان سے متاثر ہونے والے افراد کی مندرجہ ذیل پانچ طریقوں سے مدد کر رہا ہے:

1۔ یو ایس ایڈ کی ٹیم بھیج کر

امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے (یو ایس ایڈ) نے 20 مارچ کو ماہرین کی ایک ٹیم موزمبیق میں تعینات کی۔ اس ٹیم کا مقصد امریکہ کی امدادی کاروائیوں میں رابطہ کاری پیدا کرنا، نقصان کا اندازہ لگائا، ترجیحی بنیادوں پر ضروریات کی نشاندہی کرنا اور ضرورت مند لوگوں کو انتہائی اہم امداد فراہم کرنے کے لیے مقامی حکام اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ قریبی طور پر مل کر کام کرنا ہے۔

"تباہی میں مدد کرنے والی ٹیم”کے نام سے جانی جانے والی اس ٹیم میں نقل و حمل کے ماہرین اور پناہ گاہوں، صحت، پانی، صفائی اور حفظان صحت کے ماہرین شامل ہیں۔

2۔ امریکی  فوجی امداد کی فراہمی

یو ایس ایڈ کی درخواست پر ایڈائی طوفان سے متاثر ہونے والی بستیوں کو انسانی ضروریات کی اشیا کی امداد کی فراہمی کی خاطر موزمبیق کی حکومت کے تعاون سے امریکی فوج نے 27 مارچ کو فضائی کاروائیوں کا آغاز کیا۔

People walking toward a C-130 plane on a tarmac (U.S. Embassy Maputo)
یو ایس ایڈ کی سرکردگی میں کھانے، شیلٹر کِٹوں اور گاڑیوں جیسی انتہائی اہم اشیا کو دور دراز علاقوں میں پہنچانے کے لیے یہ سی 130 جہاز استعمال کیا جائے گا۔ (U.S. Embassy Maputo)

امدادی سامان کی فراہمی میں تیزی پیدا کرنے کے لیے محکمہ دفاع کی افریقی کمانڈ نے ایک بار بردار سی 130 طیارے کے علاوہ  سامان اتارنے چڑہانے کے آلات سے لیس ‘ہنگامی حالات میں کام کرنے والا 435واں گروپ’ بھی تعینات کیا ہے۔

3۔ پلاسٹک کی مضبوط شیٹوں کو طیاروں کے ذریعے لے  جانا

یو ایس ایڈ کی ٹیم نے بئیرا شہر کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پناہ گاہوں اور پینے کے صاف پانی کی فوری ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں یو ایس ایڈ کا ادارہ دبئی اور پیسا میں واقع  ہنگامی گوداموں سے انتہائی اہم ضروری اشیا طیاروں کے ذریعے موزمبیق پہنچا رہا ہے۔ ان اشیا میں پانی صاف کرنے کے دو یونٹ، پانی کے برتن، پلاسٹک کی مضبوط شیٹیں، شیلٹروں کے لیے سامان، کچن کے سیٹ اور حفظان صحت کا سامان شامل ہیں۔

4- انسانی بنیادوں پر چلائے جانے والے پروگراموں میں مدد

اس طوفان میں لوگوں کی ہر چیز تباہ ہو گئی ہے۔ ان لوگوں کی مدد کی خاطر امریکہ ہنگامی شیلٹر، پانی، صفائی اور حفظان صحت کے پروگراموں میں مدد کی خاطر ‘ورلڈ وژن’ اور شیلٹر کی کٹوں’ کی فراہمی کے لیے ‘ نقل مکانی کی بین الاقوامی تنظیم’ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

Woman holding a baby, with teenage boy standing next to them (World Vision UK)
14 سالہ ایڈولینو اور اس کے اہل خانہ سکول میں قائم کی گئی شلٹر میں رہ رہے ہیں۔ ایڈائی طوفان میں اُن کا گھر تباہ ہو گیا ہے۔ (World Vision UK)

یوایس ایڈ کا ادارہ، بالخصوص عورتوں اور لڑکیوں کو امدادی سامان فراہم کرنے کے لیے ‘کیئر’ نامی تنظیم کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہا ہے۔

یو ایس ایڈ اور خوراک کے عالمی پروگرام کو امید ہے کہ اپریل کے آخر تک دس لاکھ افراد کو معقول مقدار میں خوراک فراہم کی جانے لگے گی۔ اس میں چاولوں، مٹروں اور بناسپتی گھی پر مشتمل یو ایس ایڈ کی طرف سے سوفالا، زمبیزیا اور منیکا کے علاقوں میں لوگوں کو فراہم کی جانے والی لگ بھگ 2,500 میٹرک ٹن امداد بھی شامل ہے۔

5۔ تباہی آنے سے پہلے تیاری کرنا

تباہی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے یو ایس ایڈ سارا سال خود انحصاری کے لیے تیار کرنے میں لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ موزمبیق میں اس طوفان کے بعد موقع پر پہنچنے والی جو ٹیمیں سب سے پہلے پہنچیں اُن میں ‘جنوبی افریقہ کو بچاؤ’ نامی وہ ٹیم بھی شامل تھی جس کی یو ایس ایڈ نے کئی سالوں تک تربیت کی ہے۔

یہ مضمون طویل شکل میں یو ایس ایڈ شائع کر چکا ہے۔