یو ایس کیپیٹل کی سیڑھیوں پر لوگوں کے ایک دستاویز کو کندھوں پر اٹھانے کا تصویری خاکہ۔ (State Dept./D. Thompson)
(State Dept.)

اس وقت امریکی صدارت اور مقننہ کے دونوں ایوانوں میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے جو امریکہ میں دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے۔ ایسی صورتحال  کسی جماعت کے لیے اپنے مقاصد کی حمایت میں قوانین منظور کرانے میں معاون ہو سکتی  ہے، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بِل بلا روک و ٹوک منظور ہو جاتے ہیں۔

روایات کا امتزاج، جانچ پڑتال و توازن اور ریاضی، کسی بِل کے قانون بننے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آئیے ریاضی سے آغاز کرتے ہیں۔ 435 رکنی ایوان نمائندگان اکثریتی رائے سے قانون منظور کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بِل کی اس ایوان میں منظوری کے لیے کم از کم 218 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

مگر سینیٹ میں جس کے ارکان کی تعداد 100 ہے، یہ معاملہ ذرا پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ سینیٹروں کا کوئی گروہ کسی تحریک پر ووٹنگ کا عمل  “تاخیری حربے” سے روک سکتا ہے تاوقتیکہ 60 سینیٹر اس امر پر متفق نہ ہو جائیں کہ بل پر باتیں کرنے کو ختم کرنے اور اس پر ووٹنگ کرنے کا وقت آ گیا  ہے۔

مثال کے طور پر موجودہ امریکی سینیٹ میں 52 ری پبلکن ارکان کو ایسے صورتحال سے بچنے اور کسی بِل پر ووٹنگ کرنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے آٹھ  ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔ اگر مطلوبہ ووٹ میسر آ جائیں تو بھی سینیٹ کو بِل منظور کرنے کے لیے رسمی ووٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم اس کے لیے صرف اکثریتی یعنی51 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ اگر قانون متنازع نہ ہو اور کوئی سینیٹر ووٹنگ روکنے کی کوشش نہ کرے تو اس بِل کی منظوری کے لیے اکثریتی ووٹ ہی کافی ہو گا۔

صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ سینیٹ تاخیری حربے سے چھٹکارا پا لے اور کسی بھی تحریک کی سینیٹ سے منظوری کے لیے 51 فیصد اکثریتی ووٹ ہی کافی ہونے چاہییں۔ اُن کا کہنا ہے کہ دوسری صورت میں محض چند ایک بِل ہی منظور ہو پائیں گے۔

امریکی سینیٹ کے اعزازی مورخ ڈونلڈ رچی کا اندازہ ہے کہ سینیٹروں کی جانب سے بِل پر رائے دہندگی روکنے کے لیے تاخیری حربے کے استعمال میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے، “اس سے ہر سینیٹر کو ایک طاقتور کھلاڑی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔”

ماضی میں ووٹنگ کو روکنے کی خاطر تاخیری حربے کے طور پر، سینیٹر ساری رات تقریریں کرتے رہتے تھے۔ حالیہ برسوں میں سینیٹروں کو قیادت کو پسپا کرنے کے لیے تاخیری حربے کی محض دھمکی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ رِچی کا کہنا ہے کہ اکثریتی پارٹی کو اگر یہ علم ہو کہ اُن کے پاس اتنے ووٹ نہیں ہیں کہ وہ دوسرے فریق کو روک سکیں گے تو اُنہیں ساری رات جاگ کر اُن کو تقریر کرتا ہوا دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

امریکی سینیٹ میں تاخیری حربے کے استعمال کا گراف۔(State Dept.)

تاخیری حربے سے کسی خاص قانون کو روکنے کی نسبت ایک وسیع تر مقصد حاصل کیا جاتا ہے۔ اس میں سینیٹ کے دونوں فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا رجحان پروان چڑہتا ہے۔ یہ چیز سینیٹ کو ایوان نمائندگان کے مقابلے میں  ایک بالکل مختلف ایوان بناتی ہے۔ ایوان نمائندگان میں گزشتہ 20 برسوں میں ایک روایت چلی آ رہی ہے جس میں اکثریتی پارٹی کی توجہ ایسے بل پر مرکوز ہوتی ہے جو دوسری پارٹی کی مدد کے بغیر پاس ہو سکئے۔ 

جب سینیٹ اور ایوان نمائندگان کسی موضوع پر اپنے اپنے بل پاس کرلیتے ہیں تو پھر اس کی دو مختلف شکلوں پر کام کیا جاتا ہے۔ اگر اس طرح سامنے آنے والا اتفاق رائے ایوان نمائندگان اور سینیٹ سے منظور ہو جائے جس کے لیے دوبارہ ووٹنگ کی جاتی ہے، تول بل کو اگلے مرحلے میں صدر کو بھیج دیا جاتا ہے۔ یہاں تک شاذ و نادر ہی پہنچا جاتا ہے۔ رچی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی نظام کو “ایسا بنایا ہی نہیں گیا کہ یہ آسان ہو۔” حتٰی کہ جب ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ایک ہی پارٹی کی اکثریت ہو تو پھر بھی ممبران ہمیشہ کسی قانون کے بارے میں یکساں رائے نہیں رکھتے۔

تاہم ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے قوانین ہی واحد عنصر نہیں ہیں۔ صدر اور عدالتوں کا بھی اس میں اہم کردار ہوتا ہے۔ اس سے ہم آئین کے “جانچ پڑتال اور توازن” کے اُس مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں جو اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ حکومت کی کوئی بھی برانچ بہت زیادہ با اثر نہ بننے پائے۔ 

جب قانون کانگریس میں منظور ہو جاتا ہے تو پھر اسے وائٹ ہاؤس بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر بل کا مہینوں کا سفر صدر کے قلم کی ایک جنبش سے اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ اگر صدر ایک طویل یا برسوں پر محیط بل پر دستخط کر دے تو یہ قانون بن جاتا ہے۔

اگر صدر بل کو مسترد کر دے یا ویٹو کر دے تو یہ درحقیقت بل کا خاتمہ ہوتا ہے۔ کانگریس، ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں اسے دو تہائی اکثریت سے منظور کر کے صدر کی ویٹو کو مسترد کر سکتی ہے۔ یہ “توازن” صدر کو کسی ایسے قانون کو روکنے سے باز رکھتا ہے جس کی بہت زیادہ حمایت کی جاتی ہو۔ تاریخی طور پر، کانگریس نے صدر کی طرف سے 10 فیصد سے بھی کم بلوں کو دو تہائی ووٹوں سے منظور کیا جنہیں صدر نے ویٹو کیا ہو۔ 

یہ مضمون فری لانس مصنف تمارا لِٹل نے تحریرکیا۔