ایک تعمیراتی عجوبہ جو آج وینیز ویلا کی بدنام جیل ہے

1956ء میں وینیز ویلا کے دارالحکومت کراکس میں ایک ایسی عمارت کی تعمیر کی ابتدا ہوئی جسے امریکی براعظموں کے سب سے بڑے شاپنگ مال بننا تھا۔ اس کے منفرد اور دہرے دائروں والے ڈیزائن نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔ اس کی وینیز ویلا کی جدیدیت اور دولتمندی کی ایک علامت کے طور پر تعریف کی گئی۔

تاہم مال کے منصوبے مکمل طور پر پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔ 'ایل ہیلی کوائڈ' کے نام سے جانے جانی والی اس عمارت میں آج کل وینیز ویلا کی خفیہ پولیس کے دفاتر اور ملک کی بدنام ترین جیلیں ہیں۔

ایل ہیلی کوائڈ مرکزی کراکس میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے اور وینیز ویلا میں گزشتہ 60 برسوں میں آنے والی تبدیلیوں کی ایک مستقل یاد دہانی ہے۔ ایسیکس یونیورسٹی میں لاطینی امریکہ کے شعبے کی ڈائریکٹر، لیزا بلیک مور 2019 کی بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں کہتی ہیں،"ایل ہیلی کوائڈ سے ہمیں جدید وینیز ویلا کا استعارہ ملتا ہے۔ یہ جھونپڑی نما گھروں کے سمندر میں جدیدیت کی ایک عہد ساز شبیہہ ہے۔"

جو ہیلی کوائڈ آج کھڑا ہے وہ اس سے زیادہ مختلف ہو ہی نہیں سکتا جو اس کو بنانے والوں نے سوچا تھا۔ اس کی تعمیر سے قبل دنیا بھر کے لیڈروں اور تنظیموں نے اس عمارت کی فن تعمیر کی جدت طرازی کی تعریف کی۔ یہ عمارت ایک سلاخ کے گرد بل کھاتی ہوئی پہاڑی کی طرح ہے۔

ایل ہیلی کوائڈ پر پیشرفت اس وقت رک گئی جب 1958ء میں مارکوس پیئرز کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ 1980 کی دہائی تک مال کی اس نامکمل عمارت کو کسی استعمال میں نہ لایا گیا تا وقتیکہ اسے ایس ای بی این یا سیبن کہلانے والی انٹیلی جینس کی ملکی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

Rosmit Mantilla in T-shirt and cap waving bundled rainbow flag (© Fernando Llano/AP Images)
وینیز ویلا کے سیاست دان، روسمٹ منٹیلا۔ (© Fernando Llano/AP Images)

آج بھی یہ عمارت مشہور ہے۔ مگر اس کی شہرت کی وجہ اس کا شاندار ڈیزائن نہیں بلکہ اس کے اندر ہونے والے مظالم ہیں۔ وہ جگہیں جنہیں پرتعیش اشیا بیچنے والی دکانوں کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا اُن کو قید کوٹھڑیوں اور بعض کو تشدد کے کمروں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایل ہیلی کوائڈ میں اُن سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جن کو مادورو کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کیا جاتا ہے۔

اپنے آپ کو کھلے بندوں ہم جنس پرست کہنے والے وینیز ویلا کے اولین کانگریس مین، روسمٹ منٹیلا بھی اِن قیدیوں میں شامل ہیں۔ 2016ء میں اپنی رہائی کے بعد منٹیلا انسانی حقوق کی ان پامالیوں کے خلاف ایک نمایاں آواز بنے ہوئے ہیں جو انہوں نے مال کو قید خانے میں بدلی جانے والی اس جیل کے اندر دیکھیں۔ اُن کی اور دیگر لوگوں کی گواہی کو مفصل انداز میں دستاویزی شکل میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار ' دا گارڈین ' کو 2017 میں اپنی کہانی سناتے ہوئے  انہوں نے بتایا، "ہیلی کوائڈ وینیز ویلا میں تشدد کا مرکز ہے۔ یہ زمین پر جہنم ہے۔"

یہ مضمون فری لانس مصنفہ مائیو السپ نے تحریر کیا اور اس میں ایسوسی ایٹڈ پریس سے استفادہ کیا گیا۔