ایک ذہین لڑکی کا ایپ: آن لائن ہراساں کرنے والے ایک بار سوچنے پر مجبور

ایک شو میں پربھو ری تھنک نامی اپنا ایپ ایک ٹی وی شو کے دوران سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔ (© Michael Desmond/ABC/Getty Images)

ریاست ایلانوائے کے شہر نیپروِل سے تعلق رکھنے والی تریشا پربھو ہائی سکول کی کوئی عام سی طالبہ نہیں ہیں۔ وہ 13 سال کی عمر سے ہی اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبے کی موجد ہیں جب انہوں نے 'ری تھنک ایپ' تیار کیا تھا۔ یہ ایک پیٹنٹ ٹیکنالوجی یعنی ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے جملہ حقوق پربھو کے نام رجسٹرڈ ہیں۔ اس ایپ کا مقصد نوجوانوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر ڈرانے دھمکانے کے واقعات کی روک تھام ہے۔

پربھو نے یہ ایپ اس وقت بنایا جب انہیں فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی ایک 12 سالہ لڑکی کے بارے میں علم ہوا جس نے آن لائن ذہنی اذیت کے نتیجے میں خودکشی کر لی تھی۔

اس ایپ میں حساب وکتاب کے ایسے اصول شامل ہیں جو اذیت رساں پیغام کا اُس وقت پتہ چلا لیتے ہیں جب اسے تحریر کیا جا رہا ہوتا ہے۔ پتہ چلنے پر ایک انتباہ جاری کیا جاتا ہے اور صارف کو توقف کرنے اور کچھ پوسٹ کرنے سے پہلے ازسرنو غور کرنے کا کہا جاتا ہے۔

اگرچہ اس ایپ کا مقصد آزادی اظہار کو روکنا یا لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار سے باز رکھنا نہیں ہے تاہم یہ نوجوانوں کو اپنے ساتھیوں اور اکثر خود کو ہیجانی رویے کے اظہار سے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے جس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

بالاآخر اس ایپ کے صارفین فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی چیز آن لائن پوسٹ کرنا ہے۔ تاہم جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ 93 فیصد سے زیادہ مواقعوں پر یہ ایپ صارفین کو ایسی چیزیں پوسٹ کرنے سے باز رکھتا ہے جو دوسروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔

2015 میں شروع کیے جانے والے "ری تھنک" کو امریکہ بھر میں طلبہ کو آن لائن غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا۔

پربھو سمجھتی ہیں کہ وہ 'ایس ٹی ای ایم' (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی) مضامین پر توجہ دینے سے ہی اپنا ایپ بنانے میں کامیاب ہوئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں بہتر آن لائن عادات کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ہے کیونکہ "آن لائن ستائے جانے کے اثرات تاعمر رہتے ہیں جن میں ذہنی دباؤ، عزت نفس میں کمی، سکول چھوڑنا اور شراب و دیگر نشہ آور اشیا کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔"

Illustration of phone and brain (© Trisha Prabhu)
(© Trisha Prabhu)

ایک اندازے کے مطابق 52 فیصد امریکی نوجوان آن لائن ہراساں کیے جانے کا سامنا کر چکے ہیں مگر صرف وہی اس کی قیمت نہیں چکاتے۔ اپنے ہمسروں کو آن لائن ہدف بنانے والے نوجوانوں کے لیے کالج میں داخلے کے دروازے بند  اور مستقبل میں نوکری کے امکانات ختم ہو سکتے ہیں۔

یونیورسٹی میں داخلے سے متعلقہ حکام اور ملازمتی اداروں کی جانب سے درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا پروفائل کا جائزہ لینے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔ لہٰذا جلدبازی میں بلا سوچے سمجھے کیے گئے آن لائن تبصرے مواقع کھونے، شرمندگی اور عمر بھر کے پچھتاوے کا باعث بن سکتے ہیں۔

پربھو اپنے ہم عمروں کو خبردار کرتے ہوئے کہتی ہیں، "براہ مہربانی آپ جو کچھ بھی آن لائن پوسٹ کرتے ہیں اس کی اہمیت پر غور کریں۔ یہ آپ اور آپ کی ڈیجیٹل شناخت کا اظہارہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔"

پربھو کے مطابق ری تھنک جیسی سوچ بالاآخر پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے، "2018 کے اوائل میں ہم ہسپانوی اور ہندی زبانوں میں 'ری تھنک' متعارف کروا رہے ہیں۔ چینی اور روسی زبانوں سمیت دیگر زبانوں میں بھی اُن کا یہ ایپ مہیا کرنے کا پروگرام ہے۔

"ری تھنک" ایپ نے پربھو کی زندگی تبدیل کر کے رکھ  دی ہے۔ انہوں نے اپنی کمپنی قائم کی، "ٹی ای ڈی" یعنی ٹیڈ ٹاک کے پلیٹ فارم سے تقریریں کیں اور "ری تھنک" سے متعلق اپنے تصور کو ایک ٹی وی شو میں پیش کیا جہاں سرمایہ کاروں نے انہیں اپنی کمپنی میں 20 فیصد حصص کے بدلے سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔

حصولِ تعلیم کے علاوہ وہ لڑکیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیتی ہیں اور انہیں پروگرامنگ کوڈ سکھاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، "8 سے 18 سال عمر کی نوجوان لڑکیوں کو ناصرف کوڈ سکھانا بلکہ انہیں ٹیکنالوجی کے خوف پر قابو پانے میں مدد دینا میری زندگی کا سب سے اطمینان بخش تجربہ ہے۔"