ایک ماسٹر ٹیلر کا آشوِٹز سے وائٹ ہاؤس تک کا سفر

شیکسپیئر ہیملیٹ میں لکھتا ہے کہ انسان کی شخصیت لباس سےتشکیل پاتی ہے۔ یہ بات مارٹن گرین فیلڈ پر یقیناً صادق آتی ہے۔ وہ ہولوکاسٹ سے زندہ بچ نکلے تا کہ وائٹ ہاؤس میں صدور کے لیے بطور خاص اپنے ہاتھوں سے سوٹ تیار کریں۔

ایک شخص نے اپنا ٹیٹو والا بازو واسکٹ اور ٹائی پر رکھا ہوا ہے۔ (© Getty Images/Joseph Victor Stefanchik)
مارٹن گرین فیلڈ جب آشوٹز کے اجتماعی قید خانے میں پہنچے تو پہلے دن ان کے بازو پر "A4406” کا نمر کندہ کردیا گیا تھا۔ کف لنکس انہیں جنرل کولن پاول نے تحفے کے طور پر دیے تھے۔ (© Getty Images/Joseph Victor Stefanchik)

88 سالہ گرین فیلڈ جب ولولہ انگیز تقریریں کرنے یا کمیونٹی کی سرگرمیوں میں مصروف نہیں ہوتے تو وہ بروکلین، نیویارک میں واقع کپڑے سینے کی اپنی فیکٹری میں ہفتے میں چھ  دن کام کرتے ہیں۔

تب کے چیکوسلاویکیہ کے ایک پہاڑی گاؤں، پولووا میں پیدا ہونے والے گرین فیلڈ کے گھرانے کو نازی جرمنی کی طرف سے کیے گئے یہودیوں کے قتل عام میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ان کے والد انجنیئر تھے۔ انھوں نے آشوِٹز میں ان سے کہا، "ہمیں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجانا چاہیے۔ تم ابھی جوان ہو اور تنومند ہو۔ تم اکیلے رہ کر زندگی گزار لو گے۔ تمہیں زندہ رہ کر ہمارا نام زندہ رکھنا ہے۔”

اور یہ باہمت نوجوان زندہ رہا اور اس نے کیمپ میں موجود عمر میں اپنے سے بڑے یہودیوں کو جن کا مقدر ہلاکت تھا، کپڑے سینا سکھایا۔ ان کے رشتے دار انہیں 1947ء میں امریکہ لے آئے۔ گرین فیلڈ نے اُس فیکٹری میں فلور بوائے کی حیثیت سے کام کرنا شروع  کر دیا جو آج ان کی ملکیت ہے۔

گرین فیلڈ بہت ہی کم عرصے میں اس فیکٹری میں چوٹی کے درزی بن گئے اور انہیں ڈوائٹ آئزن ہاور کے لیے 1952ء میں ان کے انتخاب سے قبل اور صدر منتخب ہونے کے بعد  سوٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ گرین فیلڈ  آئزن ہاور کے سوٹ کی جیبوں میں ان کے لیے خارجہ پالیسی کے بارے میں نوٹس بھی رکھ  دیا کرتے تھے۔

جب صدر بِل کلنٹن نے انہیں اپنے سوٹ کی فٹںگ کے لیے بُلایا، تو ان سے کہا، "مجھے نوٹس مت لکھنا۔ یہ رہا میرا فیکس نمبر۔” صدر اوباما بھی ان کے گاہک ہیں، اور پال نیومین، فرینک سناٹرا اور لیونارڈو ڈی کیپریو اور باسکٹ بال کے نامور کھلاڑی پیٹرک یوونگ اور شقیل او نیل (ان کے لیے بہت لمبے سوٹ سلتے تھے) بھی ان سے سوٹ سلواتے رہے ہیں۔ سابق جنرل اور وزیرِ خارجہ کولن پاول ان کے پسندیدہ گاہک ہیں۔

ہاتھ سے سلے ہوئے ہر سوٹ کی تیاری کے پیچھے بہت سے لوگوں کی محنت کار فرما ہوتی ہے۔ انہوں نے 120 تارکینِ وطن کو ملازم رکھا ہوا ہے۔ گرین فیلڈ کا کہنا ہے، "ہمارے ہاں ساری دنیا سے تعلق رکھنے والے بہترین کاریگر کام کرتے ہیں۔ ان کے بغیر میں کچھ بھی نہیں۔”

گرین فیلڈ کہتے ہیں، "امریکہ جیسی کوئی اور جگہ نہیں۔” اب ان کے بیٹوں نے، جن کے نام جے اور ٹوڈ ہیں کاروبار سنبھالا ہوا ہے۔

 


2015 میں انھوں نے دانشوروں کا لباس زیبِ تن کیا اور نیویارک سٹی میں یشیوا یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی کے صدر رچرڈ جوئیل نے گرین فیلڈ کی خود نوشت سوانح حیات، Measure of a Man  سے یہ الفاظ دہرائے: "ہر فرد ایک مکمل انسان ہوتا ہے، مجھے ایسے سوٹ بنانے ہوتے ہیں جن سے لوگوں کو یہ یقین حاصل کرنے میں مدد ملے کہ وہ اپنے تمام خواب پورے کر سکتے ہیں۔”

گرین فیلڈ نے بڑے فخر سے بتایا، "میں دونوں پارٹیوں کے لوگوں کے لیے سوٹ تیار کرتا ہوں۔” وہ ماضی میں   نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے 44 سائز کے کئی سوٹ تیار کر  چکے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب ٹرمپ نیویارک میں جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ اب وہ اس بات کے  منتظر رہیں گے کہ وائٹ ہاؤس کے اگلے مکین کی طرف سے انہیں کب بلاوہ آتا ہے۔

گرین فیلڈ کہتے ہیں، "صدور کے لیے لباس تیار کرنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میں ہر ایک کو اس کے لباس کے ذریعے خوبصورت بناتا ہوں۔”