ایک ملین پاکستانی عورتوں کے لیے نیٹ ورکوں کی تیاری

کھڑے اور کام کرنے والے کاروباری اشخاص کے ہیولے۔ (© Shutterstock)
(© Shutterstock)

آنے والے تین برسوں میں امریکہ اور پاکستان میں قائم کمپنیوں نے طب اور کاروبار سے لے کر تعلیم تک مختلف شعبوں میں، ایک ملین یعنی دس لاکھ پاکستانی عورتوں اور لڑکیوں کو ماہرین سے جوڑنے کا وعدہ کیا ہے۔

اِن کمپنیوں میں سٹی، ایس اینڈ پی گلوبل، دا ریسورس گروپ اور کے ایف سی (کنٹکی فرائیڈ چکن) جیسے برانڈ نام کی امریکی کمپنیاں شامل ہیں۔ ‘پاکستان ملین ویمن مینٹرز انشی ایٹو’ (پاکستان کے ایک ملین عورتوں کی سرپرستی کرنے والے پروگرام) میں شرکت کرنے والی پاکستانی کمپنیوں میں دیگر کے علاوہ کراچی میں قائم زافا فارمیوسٹیکل لیبارٹریز اور ہم نیٹ ورک لمٹیڈ بھی شامل ہیں۔

میز پر آمنے سامنے بیٹھی عورتیں ایک دوسرے سے باتیں کر رہی ہیں۔ (State Dept.)
پاکستان ملین ویمن مینٹرز انشی ایٹو کے ستمبر میں افتتاح کے موقع پر جنوبی اور وسطی ایشیا کے امور کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ، ایلس جی ویلز (دائیں سے دوسرے) پاکستانی خواتین کے ساتھ اُن کے سرپرستانہ مقاصد پر تبادلہ خیال کر رہی ہیں۔ (State Dept.)

اس پروگرام کی سرکردگی کرنے والی امریکہ – پاکستان عورتوں کی کونسل کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، رادھیکا پرابھو کہتی ہیں، "بہت ہی کم عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ کسی ایسے فرد کو جانتی ہیں جو اُن کی پیشہ وارانہ ترقی میں مدد کر سکتا/سکتی ہو۔ یہ پروگرام اس (تنہائی) کو ختم کرنے اور عورتوں کے لیے نیٹ ورک بنانے میں مدد دیتا ہے۔”

‘پیپسی کو’ پاکستان نے بتایا کہ وہ سائنس، ٹکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کا پسہائے منظر کی حامل افرادی قوت میں پہلی مرتبہ داخل ہونے والی نوجوان پاکستانی خواتین کی سرپرستی کریں گے۔ اس غرض سے "اُنہیں کام کے ابتدائی مہینوں میں تربیت دی جائے گی جس سے اُن کی کامیابی اور اپنے کام پر ٹکے رہنے کے مواقعوں میں اضافہ ہوگا۔” کمپنی نے یہ بات اپنے فیس بک پیج پر ایک بیان میں کہی۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

سٹیٹ ایس سی اے: آج صبح پاکستان ملین ویمن مینٹرز انشی ایٹو پروگرام کی ابتدا کے ساتھ، امریکہ – پاکستان عورتوں کی کونسل کے افتتاح پر خوشی ہے۔ باصلاحیت پاکستانی گریجوایٹس اور تبادلے کے فلبرائٹ کے طلبا بھی ایک دلچسپ بحث میں شریک ہوئے۔

عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کاروباری نظامت کاروں کی شرح کم ہے۔ عالمی بنک کا کہنا ہے کہ اِس خسارے کو پورا کرنے کا ایک اہم طریقہ سرپرستی کے ذریعے عورتوں کے پیشہ وارانہ نیٹ ورک بنانا ہے۔

پاکستان ملین ویمن مینٹرز انشی ایٹو کے تین بڑے مقاصد مندرجہ ذیل ہیں:

  • آگاہی بڑہانے کے لیے پاکستان کے چوٹی کے تجارتی اداروں کو سرپرستی کے بارے میں آگاہی بڑہانے کے لیے متحرک کرنا۔
  • ایک ایسا اتحاد بنانا جو سرپرست بننے کی خواہشمند عورتوں اور مردوں کو وسائل فراہم کرسکے۔
  • عورتوں کی افرادی قوت کی شراکت اور عورتوں کی کاروباری نظامت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سرپرستانہ تعلقات کو آگے بڑہانا۔

پرابھو نے کہا، "اعداد و شمار بڑے واضح ہیں: ہمیں عورتوں کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی ضروورت ہے۔ یہ پاکستان میں کاروبار کے لیے اچھا ہے اور یہ عورتوں کے لیے اچھا ہے۔ سرپرستی انتہائی اہم ہے۔”