Two ships at sea (U.S. Coast Guard)
امریکی کوسٹ گارڈ کا جہاز، "ایلکس ہیلی" جون میں غیرقانونی ماہی گیری میں مصروف ایک جہاز کو کامیابی سے پکڑنے کے بعد چینی کوسٹ گارڈ کے جہاز سے مل رہا ہے۔ (U.S. Coast Guard)

کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ آپ کی پلیٹ میں موجود مچھلی قانونی طور پر پکڑی گئی ہے؟ غیرقانونی ماہی گیری سے مقامی معیشتوں کو اربوں کا نقصان ہوتا ہے اور ماحولیاتی نظام تباہ ہوکر رہ جاتا ہے۔ امریکہ غیرقانونی، بلا اطلاع اور بے ضابطہ ماہی گیری روکنے کے لیے قائم کی گئی متعدد شراکتوں کا حصہ ہے۔

16 جون کو کینیڈا، چین، جاپان، روس اور جنوبی کوریا کی معاونت سے امریکی کوسٹ گارڈ کے ایک ہوائی جہاز نے سمندر میں چینی پرچم تلے چلنے والے ایک بحری جہاز کو دیکھا جو "ڈرِفٹ نیٹنگ” [گھسیٹنے والے سمندری جال] کے ذریعے مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔ مچھلیاں پکڑنے کا یہ طریقہ غیرقانونی ہے جس میں بہت بڑے ڈھیلے ڈھالے جال میلوں دورتک پھیلا دیئے جاتے ہیں جو بلاامتیاز مچھلیوں اور دیگر سمندری جانوروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

تاہم جاپانی شہر ہوکائیڈو سے 750 سمندری میل دور امریکی کوسٹ گارڈ کا "ایلکس ہیلی” نامی ایک بحری جہاز موقع پر موجود تھا۔ امریکہ اور چین کے بین الاقوامی گروپ نے مچھلیاں پکڑنے والے "رن ڈا” نامی چینی جہاز کی تفتیش کی تو پتہ چلا کہ یہ جہاز  مچھلیاں پکڑنے کے لیے ممنوعہ جال استعمال کر رہا تھا۔ چنانچہ اس جہاز کو قانونی کارروائی کے لیے چینی کوسٹ گارڈ کی تحویل میں دے دیا گیا۔

ہر سال لاکھوں ٹن شارک، ڈولفن، وہیل، کچھوے اور معدومی کے دھانے پر پہنچی سمندری مخلوقات ڈرِفٹ جالوں میں پھنس کر مر جاتی ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ نے دو دہائیاں قبل ماہی گیری کے اس طریقہ کار پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔

مزید برآں کھلے سمندروں میں نفاذ قانون کے حوالے سے شراکتوں کے علاوہ بہت سے ممالک "شپ رائیڈر” جیسے پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں جن میں ان کے قانون کا نفاذ کرنے والے افسر امریکی بحری جہازوں پر سوار ہوسکتے ہیں اور اپنے اپنے ممالک کے مخصوص اقتصادی زوںوں میں غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

People boarding ship from dinghy (U.S. Coast Guard)
شمالی بحرالکاہل میں ڈرِفٹ نیٹ کا استعمال کرنے کے شک میں "رن ڈا” نامی مچھلیاں پکڑنے والے جہاز کی تلاشی لینے کے لیے ایک کثیر الملکی ٹیم جہاز پر چڑھ رہی ہے۔ (U.S. Coast Guard)

غیرقانونی ماہی گیری کی روک تھام بے حد اہم ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک تہائی مچھلی کا خطرناک طور سے اور حد سے زیادہ شکار کیا جاتا ہے جس سے مچھلیوں کی تمام اقسام کو خطرات کا سامنا ہے۔ انسانی خوراک کا بڑا حصہ مچھلیاں پورا کرتی ہیں اور بالواسطہ یا بلاواسطہ دنیا بھر میں 12 فیصد تک خاندانوں کی گزر بسر کا انحصار مچھلیوں پر ہے۔

نئے آلات

People uncovering massive fishing net on ship (U.S. Coast Guard)
امریکہ اور چین کے کوسٹ گارڈ مچھلیاں پکڑنے والے جہاز سے نو کلومیٹر لمبا ڈرِفٹ نیٹ برآمد کر رہے ہیں۔ (U.S. Coast Guard)

امریکہ اور عالمی شراکت داروں کے پاس دن بدن بہتر ہوتی ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جس سے دنیا میں قانونی اور پائیدار ماہی گیری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ غیرقانونی ماہی گیری کی نشاندہی کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

ایسے نئے ٹریکنگ نظام سامنے آ چکے ہیں جن کی بدولت مچھلیاں پکڑنے والے سے لے کر کھانے کی میز تک سمندری خوراک کے تمام مراحل پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اس سے دنیا بھر میں خریداروں کے لیے یہ جاننا ممکن  ہو جاتا ہے کہ آیا  مچھلی قانونی طریقے سے پکڑی گئی ہے یا نہیں۔ اس سے معاشی مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی ترقی کا امریکی ادارہ یو ایس ایڈ جنوب مشرقی ایشیا کے لیے ایسے پروگرام تیار کرنے کی غرض سے ماہی گیری کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

یوایس ایڈ اور جنوب مشرقی ایشیا کے ماہی گیری کی ترقی کے مرکز کی شراکت سے "یوایس ایڈ اوشنز” کے نام سے قائم کردہ ایک  ادارے کے ذریعے امریکہ بحرالکاہل کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرنے کی غرض سے ماہی گیروں کے ساتھ مل  کام کر رہا ہے۔ فلپائن میں یوایس ایڈ کی معاونت سے چلنے والے بحری جہازوں کے ٹرانسپونڈروں کے ایک ایپ کے ذریعے ماہی گیروں کو سمندری ڈیٹا درج کرنے اور اپنے اہل خانہ سے رابطے میں رہنے کی سہولتیں حاصل ہوگئی  ہیں۔

آرسیلیو فیٹزانن جونیئر کی کمپنی نے اِن ٹرانسپونڈروں کو یوایس ایڈ کی شراکت سے تیار کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ کئی سال تک اس ٹریکنگ سسٹم کا بنیادی مقصد حکومتوں اور غیرسرکاری تنظیموں کو فائدہ پہنچانا رہا جبکہ ماہی گیروں کو ان کا براہ راست پہنچنے والا فائدہ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ٹرانسپونڈر ٹیکنالوجی سے ماہی گیروں، ان کے کام اور اُن کے اہلخانہ  سے رابطے میں رہنے کی سہولتیں دستیاب ہو گئی ہیں۔