باہمی تعاون سے ایشیائی آرٹ کے خزینوں کا تحفظ

Seated Buddha sculpture (Courtesy of Rogers Fund/Metropolitan Museum of Art)
7ویں صدی میں چین کا تانگ شاہی خاندان۔ روغنی لکڑی سے تیار بدھا کا کھوکھلا مجسمہ جس پر نباتاتی رنگ اور سونے سے ملمع سازی کی گئی ہے۔ (Rogers Fund/Metropolitan Museum of Art)

حال ہی میں سمتھسونین انسٹیٹیوشن میں نمائش کے لیے قدیم ایشائی آرٹ کے تین فن پارے  رکھے گئے۔ یہ فن پارے اس سے پہلے کبھی بھی ایک ساتھ  نہیں رکھے گئے۔

ڈونا سٹراہن سمتھسونین کی فریئر اینڈ آرتھر ایم سیکلر ایشین آرٹ گیلری میں تحفظ اور سائنسی تحقیق کی سربراہ ہیں۔ وہ  بتاتی ہیں، "چینی روغنی لکڑی سے بنے ہوئے بدھا کے یہ مجسمے دنیا میں بچ جانے والے  اپنی نوعیت کے آخری فن پارے ہیں۔”  روغنی بدھا کے بھید” کے زیرعنوان ہونے والی اس نمائش کی تیاریاں سٹراہن کی نگرانی میں کی گئیں۔ سیکلر گیلری میں ہونے والی اس نمائش میں بدھا کے تین  قدِ آدم مجسمے نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔

ایشائی آرٹ کے ماہرین سمتھسونین گیلریوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ فن پاروں کی نمائش گاہوں کے مقابلے میں ان گیلریوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ گیلریاں سائنسی تحقیق اور تحفظ کے مراکز بھی ہیں اور اسی وجہ سے مختلف ممالک اکثر فریئر سیکلر گیلریوں کے ساتھ  مل کر کام کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر حال ہی میں جاپان کے تعاون سے یہاں دو محافظانہ دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ان دفاتر کا مقصد جاپانی آرٹ کے مطالعے اور تحفظ  کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ جنوبی کوریا کی حکومت نے ایک پانچ سالہ وظیفےکے لیے سرمایہ فراہم کیا ہے تاکہ محققین اس پروگرام کے تحت موقع پر موجود رہ کر کوریائی آرٹ پر تحقیق کر سکیں۔ ممتاز کوریا ئی فن پاروں کی نمائش بھی اسی پروگرام کا ایک حصہ تھی۔ کمبوڈیا کی حکومت نے سیکلر کے عہدیداروں کے ساتھ مل کر کمبوڈیا کے قومی عجائب گھر میں آرٹ کے تحفظ کی پہلی تجربہ گاہ قائم کی ہے۔

Seated Buddha statue (Courtesy of Freer Gallery of Art/Smithsonian Institution)
7ویں صدی میں چین کا تانگ شاہی خاندان۔ روغنی لکڑی سے تیار بدھا کا کھوکھلا مجسمہ جس پر نباتاتی رنگ اور سونے سے ملمع سازی کی گئی ہے۔ (Freer Gallery of Art/Smithsonian Institution)

سٹراہن کہتی ہیں، "ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہ فن پارے لمبے عرصے تک محفوظ رہیں۔ اگر یہ ہزار سال پرانے ہیں تو ہماری کوشش ہے کہ یہ مزید ہزار سال تک محفوظ رہیں۔”

سائنس اور بدھا

سیکلر گیلری میں ہونے والی ‘روغنی بدھا کے بھید’ کے عنوان سے ہونے والی یہ نمائش فنون لطیفہ اور آرٹ کے پس منظر میں کام کرنے والے سائنسی عوامل کو اجاگر کرتی ہے۔

بدھا کے ان مجسموں کو مختلف قسم کے ایسے سائنسی تجربات سے گزارا گیا ہے جن میں انہیں نقصان نہ پہنچے۔  ان تجربات میں سی ٹی سکین (کمپیوٹر کی مدد سے کیا جانے والا) ٹیسٹ شامل ہے۔ یہ ایک قسم کا ایکس رے ٹیسٹ ہوتا ہے جس میں  فلورین کا استعمال کیا جاتا ہے اور الیکٹران والی خوردبین سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان تجربات کا مقصد اس روغنی لکڑی کی اندر والی تہوں میں پوشیدہ راز افشاء کرنا تھا۔  سٹراہن کہتی ہیں، "ہم نے اس بات کا کھوج لگانے  کی کوشش میں اچھا خاصا وقت صرف کیا کہ یہ مجسمات بنائے کیسے گئے تھے۔”

اس نمائش میں بالٹی مور کے آرٹ میوزیم اور نیویارک سٹی کے میٹروپولیٹن میوزیم کے ساتھ ساتھ سیکلر گیلری سے مستعار لیے جانے والے بدھا کے مجسمے نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔ سٹراہن کا کہنا ہے، "اس سے قبل انہیں ایک ہی جگہ اکٹھا کبھی نہیں رکھا گیا۔ میٹروپولیٹن اور والٹرز نے اپنے شاہکار مجسمے کبھی بھی کسی کو عاریتاً ادھار نہیں دیئے۔ سیکلر گیلری اور سٹراہن کی نیک نامیاں اِن کو یکجا کرنے میں معاون ثابت ہوئیں۔

 

Seated Buddha statue (Courtesy of Walters Art Museum)
580 تا 590 کے لگ بھگ چین کا سوئی شاہی خاندان۔ لکڑی سے بنا ہوا بدھا کا ٹھوس مجسمہ جس پر سونے کی ملمع سازی کی گئی ہے۔ (Walters Art Museum)

آرٹ کے نمونوں کی پرواہ  اور تعلقات

قدیم چینی آرٹ کے میوزیم کے منتظم جے کیتھ  ولسن کہتے ہیں، ” ہم  جس طرح فن پاروں کا خیال رکھتے ہیں، جس طرح ان کی نقل و حمل کرتے ہیں اور پھر جس طرح انہیں نمائش کے لیے پیش کرتے ہیں، اس سے ہم اس صنعت میں ایک طرح کا قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔” یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے عجائب گھر، ماہرانہ تحقیق، مطالعے اور تربیت کی خاطر سیکلر گیلری کی طرف دیکھتے ہیں۔

ابتداء سے ہی جاپان ان دو گیلریوں میں شراکت دار چلا آ رہا ہے۔ جاپانی آرٹ کے میوزیم کے ماہر منتظم جیمز اولک کہتے ہیں، "ہمارے قائم  رہنے کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم ان  ثقافتوں، ان تہذیبوں کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں جن کی ہم نمائندگی کرتے ہیں، اور یہ ایک  دو طرفہ عمل ہے۔”

ان گیلریوں میں ایشیائی آرٹ  کی ایک سب سے بڑی تحقیقی لائبریری بھی موجود ہے۔ یہاں پر حال ہی میں ہونے والی نمائشوں میں افغانی، چینی، بھارتی، جاپانی اور ایرانی آرٹ کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا گیا ہے۔