Stone ruins of ancient city (© Dea/V. Giannella/Getty Images)
مائکرونیشیا میں پوہنپائی جزیرے پر واقع نین مڈول شہر کے کھنڈرات کا ایک منظر۔ (© Dea/V. Giannella/Getty Images)

نین مڈول کو جانے والا راستہ وہاں ختم ہوجاتا ہے جہاں درخت پانی سے ملتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی نہر سے آگے پتھروں کا ایک قدیم شہر نظروں کے سامنے ابھرتا ہوا دکھائی دیتا  ہے۔ مگر اس شہر کو مدد کی ضرورت ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کی بلند و بالا دیواریں آنے والی نسلوں تک مائکرونیشیا کی وفاقی ریاستوں میں آنے والے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی رہیں۔

اس سال امریکہ کے محکمہ داخلہ نے مائکیرونیشیا، پالاؤ، اور جزائر مارشل میں تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے تقریباً  دس لاکھ  ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ 375,000  ڈالر کی رقم اس کے علاوہ  ہے جو امریکہ کا محکمہ خارجہ نین مڈول کے تحفظ کے لیے پہلے ہی  فراہم کر چکا ہے۔

مائکرونیشیا میں امریکہ کے سفیر رابرٹ رائلی نے بتایا، "نین مڈول کے نناوے جزائر ایک ثقافتی خزینہ ہیں۔ تاہم نباتات کے پھیلاؤ سے اس کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحالی کے ایک بڑے منصوبے کے ذریعے درختوں اور پودوں کو ختم کرکے تاریخ دانوں اور سیاحوں کے لیے بہتر رسائی کے راستے بنائے جا سکتے ہیں۔

Man in native dress standing next to rocks by body of water (© Dea/V. Giannella/Getty Images)
نین مڈول کے قدیم شہر کے حکمرانوں کی نسل سے تعلق رکھنے والے بادشاہ اِلٹن سیٹن کی اپریل 2018 میں لی گئی ایک تصویر۔ (© Dea/V. Giannella/Getty Images)

مائکرونیشیا سے باہر کی دنیا نین مڈول کی اس بستی کے بارے میں کم جانتی ہے۔ سمندری چٹانوں کے اوپر عبادت گاہوں، قربان گاہوں، محلوں اور مقبروں کے ڈھانچے کھڑے ہیں۔ یہاں عمارتیں سمندری پانی سے بننے والی نہروں میں تیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں پتھروں کا وزن تقریباً 50 میٹرک ٹن تک ہے۔ یہ شہر پوہنپائی جزیرے کے شاہی خاندان سعوڈلیور کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔ اس خاندان نے اس جزیرے پر 500 سال حکومت کی۔ اس کے تقریباتی مقامات اور رہائشیں، ایک بڑے مذہب اور ثقافت کی داستانیں سناتی ہیں۔

محکمہ خارجہ کی امداد سے سائنسدانوں کو اِن ڈھانچوں کا ایسے طریقے سے جائزہ لینے کی اہلیت میسر آئے گی جس کے تحت یہ دیکھا جائے گا کہ نباتات کا اس جگہ کے طرزِ تعمیر سے کیا تعلق بنتا ہے۔ رائلی نے اردن کے پتھروں کے شہر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ” ایک ثانوی مقصد یہ بھی ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ آیا زیرزمین یا پودوں اور درختوں کے نیچے چھپی ایسی کوئی اور جگہیں بھی ہیں جو گم ہو چکی ہیں جیسا کہ پیٹرہ میں [ایک پرانا گمشدہ شہر] دریافت ہوا ہے۔”

ایک مضبوط بنیاد کی تعمیر

بحرالکاہل اور بحر ہند کے "اوشنیا” کہلانے والے خطے میں ایسٹر جزیرے کے ساتھ نین مڈول آثار قدیمہ کا ایک بڑا مقام ہے۔ یہاں پر بڑے بڑے پتھروں سے بنی عمارتوں کے ڈھانچے ملتے ہیں۔ یونیسکو 2016ء میں اسے عالمی ثقافتی ورثے کا مقام تسلیم کر چکی ہے۔

Ancient ruins in jungle (© Nicole Evatt/AP Images)
نین مڈول میں پتھروں سے بنی ہوئی عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔ (© Nicole Evatt/AP Images)

رائلی نے کہا، "ہر دفعہ جب میں وہاں جاتا ہوں تو مجھے بہت سی چیزیں متاثرکن طریقے سے حیران کرتی ہیں۔ اس جگہ کی وسعت اور انجنیئرنگ کی پیچیدگی کے ساتھ ساتھ 50 ٹن تک وزنی پتھروں کی ایک بڑی مقدار کو بڑے آرام  سے جائے تعمیر تک لایا گیا اور انہیں انجنیئرنگ کے ڈیزائن کے مطابق خوبصورتی سے جڑ دیا گیا۔”

1986ء سے لے کر آج تک امریکہ مائکرونیشیا کی وفاقی ریاستوں کو اڑھائی ارب ڈالر کی رقم مہیا کر چکا ہے۔ بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور ثقافتی تحفظ کے لیے یہ امداد مائکرونیشیا کے پھلنے پھولنے میں مدد گار ثابت ہوئی ہے۔

امریکی محمکہ داخلہ کے ڈگ ڈومینیک نے بتایا کہ برسوں پہلے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور [مائکرونیشیا] اس سفر پر اکٹھے روانہ ہوئے۔ انہوں نے کہا،”آزادانہ میل جول کے ایک سمجھوتے کے تحت معاشی ترقی، بجٹ کے معاملات میں خود انحصاری اور اقتصادی خود انحصاری کے فروغ کی خاطر دونوں ریاستیں باہمی مقاصد کے لیے کام کرنا جاری رکھیں گی۔”