امریکہ بحر ہند اور بحرالکاہل کی اپنی تزویراتی حکمت عملی کو بحرالکاہل سے ہندوستانی برصغیر تک پھیلے ہوئے خطے کے لیے "ایک آہنی اور پائیدار عزم” کے طور پر بیان کرتا ہے۔

Mike Pompeo at lectern (© Alex Wong/Getty Images)
امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو 30 جولائی 2018 کو تقریر کر رہے ہیں۔ (© Alex Wong/Getty Images)

2018ء میں اس ابتدائیے کے خد و خال  بیان کرتے ہوئے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا، "بحر ہند اور بحر الکاہل کے امن اور خوشحالی سے امریکی قوم اور پوری دنیا کے مفاد جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے بحر ہند اور بحر الکاہل خطے کو بہرصورت آزاد اور کھلا ہونا چاہیے۔”

جب وزیر خارجہ نے 30 جولائی تا 5 اگست تک خطے کا دورہ کیا تو اس ابتدائیے کی توجہ تین شعبوں یعنی معاشیات، حکمرانی اور سلامتی پر مرکوز کی گئی۔ پومپیو کا پہلا پڑاؤ بنکاک تھا جہاں انہوں نے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی تنظیم، آسیان کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کی اور "زیریں میکانگ ابتدائیے” میں شرکت کی۔ پومپیو آسٹریلیا اور مائیکرونیشیا کی وفاقی ریاستوں کا دورہ بھی کیا۔

امریکہ کی کاروباری شراکت کاریاں

آزاد اور کھلے بحر ہند اور بحرالکاہل کے امریکی مقصد میں امریکہ کے تجارتی لین دین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بحر ہند اور بحرالکاہل میں امریکہ سے زیادہ سرمایہ کاری کوئی دوسرا ملک نہیں کرتا۔ 2018ء تک امریکہ 940 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کر چکا ہے جس سے خطے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔

پومپیو نے اپنی 2018ء کی تقریر میں کہا، "دنیا بھر کے شہریوں کو یہ علم ہے کہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ [کاروبار کرتے ہوئے] جو کچھ آپ دیکھتے ہیں وہی کچھ آپ کو ملتا ہے: یعنی دیانت دارانہ ٹھیکے، ایمان دارانہ شرائط اور غیرقانونی کام کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔”

سرمایہ کاری کے علاوہ 2018ء میں امریکہ نے 11 کروڑ ڈالر ڈیجیٹل، توانائی اور بنیادی ڈھانچوں سے متعلق پراجیکٹوں کے لیے وقف کیے تاکہ خطے میں خوشحالی عام کرنے میں مدد کی جا سکے۔ دنیا کی ایک تہائی آبادی اس خطے میں رہتی ہے اور دنیا کی چھ سب سے بڑی معیشتوں میں سے چار کا تعلق اس خطے سے ہے۔

Small thatched-roof house at night (© Marc Anderson/Alamy)
اوپر تصویر میں دکھائے گئے پاپوا نیو گنی سمیت، امریکہ پورے خطے کے ممالک میں نجی اور سرکاری شراکت میں سرمایہ کاری کا عزم کیے ہوئے۔ (© Marc Anderson/Alamy)

مثلاً امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ اکٹھے مل کر پاپوا نیو گنی میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں 2030ء تک  پاپوا نیو گنی کے 70 فیصد علاقے میں بجلی پہنچا دی جائے گی۔

علاقائی سلامتی ‘ہالی وڈ سے بالی وڈ تک’

اس ابتدائیے کے سکیورٹی کے حصے پر امریکہ خطے کے ممالک کے ساتھ  مل کر فوجی تربیت اور سمندری جہاز رانی کی سلامتی پر کام کرتا ہے۔ ان کاموں کی قیادت امریکہ کی بحر ہند اور بحر الکاہل کی کمانڈ کرتی ہے جسے فوجی رہنما عرف عام میں "ہالی وڈ سے بالی وڈ تک” پھیلی ہوئی کمانڈ کہتے ہیں۔

Aircraft carrier at sea (U.S. Navy/Mass Communication Specialist 2nd Class Kaila V. Peters)
جولائی میں علاقے میں کی جانے والی ایک جنگی مشق کے دوران امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز ‘ یو ایس ایس رونلڈ ریگن’۔ (U.S. Navy/Mass Communication Specialist 2nd Class Kaila V. Peters)

امریکہ "شپ رائڈر” نامی پروگراموں کے تحت مختلف ممالک کی مدد کرتا ہے۔ اس پروگرام میں ساحلی ممالک کے قانون نافذ کرنے والے افسران امریکی بحری جہازوں پر سفر کر سکتے ہیں اور اپنے ممالک کے بلا شرکت غیرے اقتصادی علاقوں میں غیر قانونی کام کرنے والوں پر مقدمات چلا سکتے ہیں۔ اِن میں سے کچھ پروگراموں کا مقصد انسانی بیوپار اور منشیات کی سمگلنگ کو روکنا ہوتا ہے۔

یہ مضمون ایک مختلف شکل میں 30 جولائی 2019 کو ایک بار پہلے بھی شائع ہو چکا ہے۔