بحری قزاقوں کے کردار فلموں کو تو دلچسپ بناتے ہیں، مگر فلمیں چوری کرنے والے قزاق نقصان پہنچاتے ہیں

"پائریٹس آف دی کیریبین" میں جیک سپیرو کا کردار ادا کرنے والے، جانی ڈیپ کا موم سے بنایا ہوا مجسمہ، لندن کے مادام توساد کے مومی عجائب گھر میں۔ (© Ferdaus Shamim/WireImage/Getty Images)

چند سال قبل The Expendables 3 نامی فلم کو اس کے افتتاح سے پہلے ہی کروڑوں لوگ دیکھ  چکے تھے۔ کیسے؟ غیرقانونی طور پر۔

فوربس میگیزین کے مطابق ماردھاڑ سے بھرپور یہ فلم، جس میں سلویسٹر سٹیالون اور آرنلڈ شوارزنیگر نے اداکاری کے جوہر دکھائے تھے، اس کے باقاعدہ طور پر جاری کیے جانے سے تین ہفتے پہلے ہی “قزاقوں” کے ہاتھ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں 7 کروڑ لوگ اسے غیر قانونی طور پر دیکھ چکے تھے اور یوں اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 10 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔

ماضی کے برعکس، آج کل لوگ لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ، سمارٹ فون اور گیمنگ کنسولوں جیسے نئے نئے آلات پر فلمیں دیکھ  رہے ہیں۔ اس طرح بہت سے ناظرین قانون شکنی کے مرتکب ہو  رہے ہیں کیونکہ وہ  فلموں کی غیر قانونی کاپیاں دیکھتے ہیں۔ وہ ان فلموں کو انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر تے ہیں اور یوں کاپی رائٹ اور ملکِ دانش کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

موشن پکچرزایسوسی ایشن آف امریکہ کے عالمی مواد کے تحفظ کے سربراہ، ڈین مارکس کہتے ہیں، “حالیہ برسوں میں فلموں اور ٹیلی ویژن پروگراموں کی آن لائن دستیابی میں بے پناہ اضافہ ہونے کے باوجود ان پروگراموں کی چوری سے فن کاروں اور پروگرام تخلیق کرنے والوں کو اب بھی بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ گذشتہ سال، صرف امریکہ میں 98 کروڑ 10 لاکھ  فلموں اور ٹیلیویژن پروگراموں کو چوری سے ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔”

Giant King Kong statue at movie venue (© VCG/VCG via Getty Images)
گوانگزُو، چین میں، فلم “کانگ: سکل آئی لینڈ” کی تشہیر کے لیے دیو ہیکل کنگ کانگ کا مجسمہ۔ (© VCG/VCG via Getty Images)

فلموں کی چوری سے صرف ہالی وُڈ کے بڑے بڑے سٹوڈیوز کو ہی نقصان نہیں پہنچتا۔ اِس چوری کی وجہ سے آمدنی کا جو نقصان ہوتا ہے اُس سے تفریحی صنعت میں کام کرنے والے بڑھئی، بجلی کا کام کرنے والے اور دوسرے دستکار بھی شامل ہیں۔ اِس کے علاوہ دنیا بھر میں ان ملکوں کی معیشتیں بھی متاثر ہوتی ہیں جہاں یہ فلمیں بنائی جاتی ہیں۔

اگر آپ فلموں کی غیر قانونی کاپیاں ڈاؤن لوڈ نہ بھی کر رہے ہوں تو بھی فلموں کی چوری سے آپ متاثر ہو سکتے ہیں۔

ان حقائق پر غور کیجیے:

  • ایسے مواد کی غیر قانونی ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ میں جس سے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہوتی ہو، شمالی امریکہ، یورپ اور ایشیا و بحرالکاہل کے علاقوں میں استعمال ہونے والی انٹرنیٹ کی بینڈوِڈتھ کا 24 فیصد حصہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کے کنکشن کی رفتار سست ہے، تو ہو سکتا ہے کہ ایسا غیر قانونی فائل شیئرنگ کی وجہ سے ہو رہا ہو۔
  • اگر آپ غیر قانونی طور پر فلمیں ڈاؤن لوڈ نہیں کرتے، مگرممکن ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو جانتے ہوں — اور شاید آپ کو ایسے لوگوں کی طرف سے ای میل اور تصویریں بھی ملتی ہوں — جو ایسا کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل سٹیزنز الائنس کے مطابق، صارفین کے کمپیوٹروں میں ایسی سائٹس پر سے جو غیر قانونی ڈاؤن لوڈ مہیا کرتی ہیں، میل ویئر (کمپیوٹروں کو نقصان پہنچاںے کے لیے بنایا گیا سافٹ ویئر) آںے کا امکان 28 گنا زیادہ ہوتا ہے۔  لہٰذا آپ کے جاننے والوں میں اگر کوئی غیر قانونی ڈاؤن لوڈ کا شوقین ہے تو اُسے بتا ئیے کہ اس طرح اس کے کمپیوٹر میں میل ویئر آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس میل ویئر کو اس کی ذاتی معلومات چرانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • موشن پکچر ایسوسی ایشن آف امریکہ کے مطابق، صرف امریکہ میں فلم اور ٹیلی ویژن کی صنعتوں سے 20 لاکھ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ مقامی کاروباری اداروں کو جو اس صنعت کو سہولتیں فراہم کرتے ہیں، ہر سال 43 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ اسی قسم کے اعداد و شمار کا اطلاق بیرونی ملکوں میں فلمسازی کے مراکز پر بھی ہوتا ہے۔ اگر چوری کی وجہ سے، بننے والی فلموں کی تعداد میں کمی آ جائے، تو اس کے اثرات ساری دنیا میں ان تمام ملکوں میں محسوس کیے جائیں گے جہاں فلمیں بنائی جاتی ہیں۔