بلنکن کا محکمہ خارجہ کے لیے ‘تاریخی’ تبدیلیوں کا اعلان

وزیر خارجہ اینٹّنی بلنکن فارن سروس انسٹی ٹیوٹ میں سٹیج پر کھڑے تقریر کر رہے ہیں۔ (© Leah Millis/AP Images)
وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن 27 اکتوبر کو آرلنگٹن، ورجینیا میں محکمہ خارجہ کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ میں امریکی سفارت کاری کو جدید بنانے کے بارے میں تقریر کر رہے ہیں۔ (© Leah Millis/AP Images)

27 اکتوبر کو وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ سائبر سیکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی اور اکیسویں صدی کے دیگر چیلنجوں سے بہتر طو پر نمٹنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں میں بنیادی تبدیلیاں لا رہا ہے۔

بلنکن نے محکمہ خارجہ کی جدید کاری کا منصوبہ بیان کرتے ہوئے کہا، “ہمارے ہاتھ میں تاریخی، دیرپا تبدیلی لانے کا ایک موقع ہے اور ہم اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔”

اس منصوبے میں مندرجہ ذیل اُن پانچ شعبوں میں محکمے کی مہارت اور کارکردگی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو امریکی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں:-

  • موسمیات۔
  • عالمی صحت۔
  • سائبر سکیورٹی اور ابھرتی ہوئی ٹکنالوجیاں۔
  • معاشیات۔
  • کثیرالجہتی سفارت کاری۔

بلنکن نے یہ منصوبہ ارلنگٹن، ورجینیا میں واقع فارن سروس انسٹی ٹیوٹ میں پیش کیا۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں امریکی سفارت کار اور محکمہ خارجہ کے دیگر ملازمین تربیت حاصل کرتے ہیں۔

سائبر سکیورٹی کا نیا بیورو

بلنکن نے کہا کہ وہ کانگریس کی مدد سے ایک عمومی سفیر کی سربراہی میں سائبر سپیس اور ڈیجیٹل پالیسی کے لیے ایک نیا بیورو تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کوانٹم انفارمیشن سائنس اور بائیوٹیکنالوجی اور ترجیحات کی حامل ابھرتی ہوئی دیگر ٹیکنالوجیوں پر بین الاقوامی پالیسی تیار کرنے اور اسے مربوط بنانے کے لیے اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے ایک نئے خصوصی ایلچی کے نام کا اعلان کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا، “ہم سائبر حملوں کو روکنا چاہتے ہیں کیونکہ  اِن سے ہمارے لوگوں، ہمارے نیٹ ورکوں، کمپنیوں اور اہم بنیادی ڈھانچوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ انٹرنیٹ سیکھنے کی ایک تبدیلی والی قوت کے طور پر، معاشی ترقی کے طور پر برقرار رہے نہ کہ جبر و تشدد کے ایک ذریعے کے طورپر برقرار رہے۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹکنالوجی کے لحاظ سے امریکہ دنیا کا ترقی یافتہ ترین ملک ہے اور کہا، “محکمہ خارجہ کو طاقت کے ذریعے با اختیار بنانا چاہیے۔”

 اینٹونی بلنکن قطاروں میں اپنی نشستوں پر بیٹھے اُن لوگوں سے مل رہے ہیں جن کے سامنے میزوں پر کمپیوٹر رکھے ہیں۔ (State Dept./Freddie Everett)
وزیر خارجہ بلنکن 27 اکتوبر کو ارلنگٹن، ورجینیا میں فارن سروس انسٹی ٹیوٹ میں عملے کے اراکین اور طلباء سے ملاقات کر رہے ہیں۔ (State Dept./Freddie Everett)

بلنکن نے کہا، “ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کرنے، انٹرنیٹ کی آزادی کی حمایت کرنے اور نگرانی کرنے والی ٹکنالوجی کے غلط استعمال کو کم کرنے کے لیے بروئے کار لایا جائے۔”

آب و ہوا کے ضمن میں انہوں نے اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا کہ انتظامیہ نے موسمیاتی مسائل کے لیےعلاقائی بیوروز میں اور بیرونی ممالک میں بھارت اور برازیل جیسے اہم سفارت خانوں میں اس مقصد کے لیے وقف کل وقتی نئے عہدے قائم کیے ہیں۔

بلنکن نے کہا کہ اب جب کہ دنیا کووڈ-19 سے چھٹکارا پاتی جا رہی ہے امریکہ اس بات کا تعین کر رہا ہے کہ مستقبل میں صحت کے تحفظ کے عالمی خطرات کو روکنے، اِن کا پتہ چلانے اور اِن سے نمٹنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ کس طرح بہترین طریقے سے رہنمائی اور شراکت داری کی جا سکتی ہے۔

تجدید شدہ تعاون

بلنکن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ عالمی معیشت، انٹرنیٹ پالیسی، ماحولیات کے تحفظ اور انسانی حقوق کو درپیش باہمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کرے گا۔

انہوں نے کہا، “اگر ہم بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام نہیں کریں گے تو پھر ہم ایک ایسا خلا پیدا کر دیں گے جسے وہ لوگ پر کریں گے جن کی اور ہماری اقدار اور مفادات مشترک نہیں ہیں۔ یا [اگر] کوئی آگے نہیں آتا تو ہم اجتماعی کارروائی کے فوائد کو ضائع کر بیٹھیں گے۔”