بنگلہ دیش میں بیت الخلا کے مسئلے کا حل

بنگلہ دیش میں سرکاری و نجی شراکت کے ذریعے صاف ستھرے بیت الخلاؤں کی مانگ پیدا ہونے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پھلتی پھولتی منڈیاں ایسے نتائج پیدا کر سکتی ہیں جو حکومتیں اپنے طور پر حاصل نہیں کر سکتیں۔

‘سینی ٹیشن مارکیٹنگ سسٹمز پراجیکٹ‘ نے بنگلہ دیش جیسے ملک میں بہتر طور سے بنائے گئے ڈھائی لاکھ بیت الخلا فروخت کیے ہیں جہاں حفظان صحت کے حوالے سے غیرمعمولی بہتری کے باوجود اسہال اور متعلقہ بیماریوں کے سبب سالانہ ایک لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے’ ادارہ برائے ترقی و تعاون’ اور یونیسف نے اس منصوبے میں مالی امداد دی ہے جس میں بنگلہ دیش کی وزارت صحت، غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم  iDE  [آئی ڈی ای]، ملک میں پلاسٹک کی سب سے بڑی صنعت، رنگ پور فاؤنڈری لمیٹڈ اور سینکڑوں مقامی کاروباری لوگ شامل ہیں جنہوں نے صاف ستھرے بیت الخلا تعمیر کرنے کے لیے مارکیٹنگ کے حوالے سے مدد اور تربیت حاصل کی۔ ان بیت الخلاؤں میں پلاسٹک سے بنا ایک بہتر برتن بھی لگایا جاتا ہے جو رنگ پور میں بنتا ہے۔

Picture of a man demonstrating a latrine to group of village people (© Aladdin Al Azad)
کھلنا میں ایک تاجر اپنے گاہکوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کیا جانے والا بیت الخلا دکھا رہا ہے۔ (© Aladdin Al Azad)

اس شراکت نے امریکی دفتر خارجہ، یونیورسٹی آف ورجینیا کے ڈارڈن سکول آف بزنس اور شراکت داری کی حامی اور فروغ کے لیے کام  کرنے والی غیرسرکاری تنظیم ‘کونکورڈیا ‘کی جانب سے’ پی تھری امپیکٹ ایوراڈ ‘جیتا ہے۔ (پی تھری کا مطلب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یا سرکاری و نجی شراکت داری ہے۔)

بنگلہ دیش کے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے چیف انجینئر رشید الحق نے حال ہی میں نیویارک میں ہونے والی ‘کونکورڈیا کانفرنس’ میں ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کہا، "یہ بہتر صحت و صٖفائی کے لیے ہمارے اعلیٰ اقدام کی محض ایک ابتدا ہے۔”

15 کروڑ 80 لاکھ آبادی کے ملک بنگلہ دیش میں کھلے عام رفع حاجت کرنے کا قریب قریب خاتمہ ہو چکا ہے مگر ناقص انداز میں بنائے گئے بیت الخلا تاحال ایک مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔

ڈینور سے تعلق رکھنے والا ایک خیراتی ادارہ ” آئی ڈی ای” 14 ممالک میں کام کر رہا ہے جو اس سے پہلے کمبوڈیا کے دیہی علاقوں میں بیت الخلاؤں کو بہتر بنا چکا ہے۔ اس ادارے  کے چیف ایگزیکِٹو، ٹم پریوٹ نے ایوارڈ دینے کی تقریب میں کہا، "ہمیں وہ دن دیکھنے کی امید ہے جب پورے بنگلہ دیش میں بیت الخلا اور حفظان صحت کا نظام مکمل طور پر قائم ہو جائے گا۔”

Two people standing by a latrine (© Jess MacArthur)
بیوی خاوند اپنا نیا بیت الخلا دکھا رہے ہیں جسے بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کی خاطر بہتر طریقے سے سِیل کیا گیا ہے۔ (© Jess MacArthur)

بنگلہ دیش کے لیے ‘آئی ڈی ای’ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کونر رگز کہتے ہیں کہ بیت الخلا میں بہتری لانے سے اس کی قیمت 25 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے جو کہ دوگنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ مگر حکومت کی جانب سے اعانتی رقم نے اسے انتہائی غریب لوگوں کے لیے سستا بنا دیا ہے۔ ناقص انداز میں بنائے اور قائم کیے گئے بیت الخلاؤں سے متوسط طبقے کی نچلی سطح کے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ صحت و صفائی میں بہتری کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔