امریکہ کے لوگ چین کے لوگوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اس سال کے اوائل میں جب عوامی جمہوریہ چین کووِڈ-19 کی عالمی وباء سے نمٹنے کی کوشش کر رہا تھا تو امریکی کمپنیاں امداد، سامان فراہم کرنے اور وباء کی روک تھام کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئیں۔

مشروبات کی کمپنیوں سے لے کر شپنگ کے کاروباروں اور عالمی بنکوں تک، تمام قسم کی امریکی کارپوریشنوں نے چینی عوام کو سینکڑوں ملین ڈالروں کی مالیت کے آلات، طبی سازوسامان، خوراک، اور پانی کے ساتھ ساتھ پیسوں کی شکل میں بھی عطیات دیئے۔ انہوں نے اپنی مہارتوں کو بروئے کار لا کر پورے چین میں مقامی کمیونٹیوں کی مدد کی۔

اس بحران کی ابتدا میں فیڈ ایکس اور یو پی ایس فاؤنڈیشن نے بار برداری اور نقل و حمل میں اپنی مہارت کو کئی ملین ماسک، حفاظتی لباس اور دستانے چین میں طبی کارکنوں تک پہنچانے کے لیے امریکی میں قائم غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کے لیے استعمال کیا۔

فیڈ ایکس کے صدر اور چیف آپریٹنگ آفیسر راج سبرامنیم نے کہا، “مدد کرنے اور سامان پہنچانے کے لیے ہم انسانی امداد اور آفات کی صورت میں امدادی سامان فراہم کرنے والی تنظیموں کے ساتھ قریبی طور پر مل کر کام کرنا جاری رکھیں گے۔ اس طرح ہم سب سے زیادہ ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے لیے وہ کام کر رہے ہیں جو ہم بہترین طریقے سے کرتے ہیں۔”

کوکا کولا نے لاکھوں ڈالر کا عطیہ دیا۔ اس کے علاوہ کوکا کولا نے اپنے “کولڈ واٹر 24” نامی اس نظام کو بھی متحرک کیا جس کے تحت چین میں کورونا وائرس کی وباء کا مقابلہ کرنے والے لوگوں تک پینے کا پانی پہنچانے کی خاطر کوکا کولا کے تقسیم کاری کے نظام کو استعمال میں لایا گیا۔ اِن لوگوں میں سرکاری ملازمین، طبی عملے کے ارکان اور رضاکاروں جیسے لوگ شامل تھے۔

چین میں امریکہ کے چیمبر آف کامرس نے کہا کہ اس نے 120 سے زائد کمپنیوں کی طرف سے پورے چین کی مقامی کمیونٹیوں کے لیے دیئے جانے والے 74 ملین ڈالر مالیت کے عطیات کی رابطہ کاری میں مدد کی۔

چین میں امریکہ کے چیمبر آف کامرس نے ایک بیان میں کہا، “نوول کورونا وائرس کی عالمی وباء نے ہم میں سے بہت سوں کو ایسی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم امریکہ کی کاروباری برادری نے شاندار طریقے سے اپنا ردعمل پیش کیا ہے۔”

جے پی مورگن چیز، مورگن سٹینلے اور گولڈ مین ساکس جیسے امریکی بنکوں نے بھِی چینی خیراتی اداروں اور امدادی سامان کے لیے ملین ڈالروں کے حساب سے عطیات کے طور پر دینے کے ساتھ ساتھ کئی ملین ڈالر کے وعدے بھی کیے ہیں۔ اسی طرح صارفین کے لیے استعمال کی اشیاء تیار کرنے والی کمپنی، جانسن اینڈ جانسن نے چینی کمیونٹیوں کے لیے حفاظتی سامان اور طبی آلات بھی فراہم کیے ہیں۔

بِل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا شمار اُن نجی فاؤںڈیشنوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اس وباء کے لیے چین کو عطیات دیئے ہیں۔ گیٹس فاؤنڈیشن نے چین میں کووِڈ-19 کا مقابلہ کرنے کے لیے 5 ملین ڈالر کا عطیہ دینے کا وعدہ کیا۔ اس کے علاوہ یہ فاؤنڈیشن اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے چین کے سرکاری اور نجی شعبے کے شراکت کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے 30 مارچ کو اس مہلک مرض کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر کی جانے والی امریکی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، “اس جنگ کو جیتنے کے میں ہم سب کو ایک کردار ادا کرنا ہے۔ اس وائرس کے خاتمے کے لیے ہر شہری، خاندان اور کاروبار کوئی نہ کوئی فرق لا سکتا ہے۔”