Steel construction with supervision in South Africa (© Shutterstock)
امید ہے کہ ایک نیا امریکی ادارہ جنوبی ایشیا میں اس تعمیراتی منصوبے کی طرح نئے ترقیاتی منصوبوں پر کام کرے گا۔ (© Shutterstock)

2019ء میں امریکہ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں نجی امریکی سرمایہ کاری لے جانے کا ایک نیا طریقہ کار متعارف کرائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس نئے طریقہ کار کو “امریکہ کی ترقیاتی مالیات میں ایک نئے دور کا نام دیا ہے۔”

یہ نظام مخففاً ڈی ایف سی کہلانے والی امریکہ کی بین الاقوامی ترقی کی مالیاتی کارپوریشن کے زیرانتظام چلایا جائے گا۔ دوسرے ممالک کو طویل مدتی قرض کے جال میں پھنسائے بغیر امریکی کاروباروں کو دنیا بھر کی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنے میں مدد کرنے کی خاطر، 60 ارب ڈالر کی مالی سرمایہ کاری تک اس کارپوریشن کو دسترس حاصل ہوگی۔

اس کارپوریشن کی قرض دینے کی استعداد اُس امریکی ادارے کے مقابلے میں دوگنی ہے جس کی جگہ یہ کارپوریشن لینے جا رہی ہے۔ قرض حکومتوں کو نہیں بلکہ نجی سرمایہ کاروں کو دیئے جائیں گے۔

ڈی ایف سی کے قیام پر کام کرنے والے رے ڈبلیو واشبرن اسے “سرکار کے زیرانتظام کی جانے والی ان سرمایہ کاریوں کا ایک ٹھوس متبادل قرار دیتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی معاشی حالت پہلے کی نسبت مزید کمزور بنا دیتی ہیں۔”

Cars and trucks on a street (© Shutterstock)
ادیس ابابا، ایتھوپیا میں ٹریفک۔ اس طرح کی سڑکوں اور ان پر چلنے والی گاڑیوں پر امریکی کمپنیاں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔ (© Shutterstock)

واشبرن بیرون ملک  نجی سرمایہ کاری کی کارپوریشن (او پی آئی سی) کے موجودہ سربراہ ہیں۔ اس ادارے کو نئی کارپوریشن یعنی ڈی ایف سی میں ضم کردیا جائے گا۔ واشبرن کہتے ہیں، “زیادہ وسائل، زیادہ لچک اور سرمایہ کاری کی زیادہ گنجائش کی وجہ سے امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ  بہتر نتائج حاصل کر سکے گا۔”

اس نئے ادارے میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ یہ ادارہ سرمایہ کاریوں کے ذریعے محدود قسم کی ملکیت حاصل کر سکے گا جو کہ او پی آئی سی میں نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی منڈیوں میں شامل ہونے کی خواہش مند کمپنیاں ڈی ایف سی کو اپنے نئے کاروبار کے شیئرز (حصص) کی فروخت سے نئے کاروباروں کے لیے سرمایہ حاصل کرسکتی ہیں۔ یہ کمپنیاں اس سرمائے کو ترقی پذیر ممالک میں مقامی ملازمتوں، نئے کاروباروں اور بنیادی ڈھانچوں کے پراجیکٹوں کی شکل میں لگا سکتی ہیں۔

یہ نئی اہلیت اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے نجی شعبے کو، کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔

یہ طریقہ کار اس قانون کا حصہ ہے جس پر کانگریس کی متفقہ منظوری  کے بعد، اکتوبر میں صدر ٹرمپ نے دستخط کیے۔ اس قانون کو دا بِلڈ ایکٹ  کا نام دیا گیا ہے۔

“امریکی کاروبار قانون کی حکمرانی، شفافیت، تنازعات کی صورت میں قانونی چارہ جوئی اور برابری کے مواقع پر زور دیتے ہیں …. ہمارے کاروباری ماحول اور پھلتی پھولتی معیشت کے پیچھے یہ اہم راز کارفرما ہیں۔”

— ٹبور پی ناگی، جونیئر، اسسٹنٹ سیکرٹری برائے افریقی امور
امریکی محکمہ خارجہ

بِلڈ ایکٹ میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ڈی ایف سی صحت، ٹرانسپورٹ، رہائشی، انفارمیشن اور مواصلاتی ٹکنالوجیوں جیسے شعبوں کے پراجیکٹوں کو ترجیح دے گی۔ خواتین کی ملکیت میں چلائے جانے والے کاروباروں کو بھی خاص مقام حاصل ہوگا۔

امریکہ کی طرف سے دی جانے والی دیگر امدادوں کی طرح، ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کا بوجھ لادے بغیر ان پراجیکٹوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشتیں ترقی کریں گی۔

جو کمپنیاں ڈی ایف سی کے ساتھ معاہدے کریں گیں ان کو بھی انہی ماحولیاتی، سماجی اور محنت کشوں کے حقوق کے معیاروں پر پرکھا جائے گا جن پر امریکہ میں کام کرنے والی کمپنیوں کو پرکھا جاتا ہے۔