بڑی سیاسی پارٹیاں کانگریس کے کنٹرول کو کیسے تقسیم کرتی ہیں؟

امریکی صدور اکثر انتظامی برانچ کے ساتھ ساتھ ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول کے ساتھ پہلی بار اقتدار میں آتے ہیں۔ مگر 1980 کے بعد ہر صدر کو اپنی مدت صدارت کے کچھ حصے میں منقسم حکومت کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں مخالف سیاسی پارٹی کو کم از کم کانگریس کے ایک ایوان میں اکثریت حاصل رہی۔

ایموری یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اور انتخابی امور کے ماہر ایلن ابرامووٹز کہتے ہیں کہ بہت سے ممالک میں اس طرح کی تقسیم ممکن نہیں ہوتی مگر امریکہ میں یہ “عام سی بات ہے۔”

صدیوں پہلے امریکہ کے بانیوں نے ایک ایسے ایوان نمائندگان کا تصور پیش کیا تھا جو عوام اور سینیٹ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہو اور استحکام  لانے والا ایک متوازن ادارہ ہو۔ ایوان نمائندگان کے اراکین کے لیے کم از کم عمر کی حد کم ہے  اور رکنیت کی مدت دوسال ہے جبکہ سینیٹ کی رکنیت کی مدت چھ سال ہے۔ رٹگرز یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر راس کے بیکر کہتے ہیں کہ “جب ایوان دو مختلف پارٹیوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں تو اختلافات بڑی واضح شکل میں سامنے آتے ہیں،”

نئی — منقسم — کانگریس نے اسی مہینے کام شروع کیا ہے اور اس کی ہیئت گزشتہ کانگریس سے کوئی بہت زیادہ مختلف نہیں۔ تاہم پارٹیوں کی نمائندگی میں نو نشستوں کے فرق سے امریکی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول ری پبلیکن پارٹی کی ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ ری پبلکنوں نے 222 جبکہ ڈیموکریٹوں نے 213 نشستیں جیتی ہیں۔ ایک منتخب ڈیموکریٹ رکن کی وفات سے ڈیموکریٹس کی نشستوں کی تعداد کم ہو کر 212 رہ گئی ہے۔

سینیٹ کا کنٹرول 51 ووٹوں کے ساتھ اب بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس ہے۔ گزشتہ مدت میں ڈیموکریٹوں کے 50 ووٹ تھے اور ایک فیصلہ کن ووٹ نائب صدر کملا ہیرس کا تھا۔ ڈیموکریٹک کاکس یا ووٹنگ بلاک میں تین آزاد سینیٹروں کے ووٹ بھی شامل ہیں جو اپنا ووٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں ڈالتے ہیں۔

118ویں کانگریس میں سیاسی جماعتوں کے اراکین کی تعداد دکھانے والا تصویری خاکہ (State Dept./M. Gregory)
(State Dept./M. Gregory)

صدر بائیڈن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور وہ وائٹ ہاؤس میں اس وقت تک رہیں گے جب تک وہ (دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں) یا کوئی اور منتخب صدارتی امیدوار جنوری 2025 میں اپنی اگلی چار سالہ مدت کا آغاز نہ کر دے۔

تو پھر امریکی ووٹر حکومت کی مختلف برانچوں کو چلانے کے لیے مختلف سیاسی نقطہائے نظر کے حامل لوگوں کو منتخب کیوں کرتے ہیں؟ ابرامووٹز کا کہنا ہے کہ یہ امریکیوں میں دونوں پارٹیوں کے درمیان پائی جانے والی چھوٹی سی تقسیم کا نتیجہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جہاں بعض ووٹروں نے اپنی پسند کی پارٹی کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کیا وہیں بہت سے آزاد (“پانسہ پلٹنے والے”) ووٹروں نے اپنے حلقے میں مخصوص امیدواروں کی بنیاد پر انتخاب کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ”پارٹیوں کے [درمیان] توازن بہت سے مختلف انتخابات کا نتیجہ ہے۔”

تقسیم کے نتیجے میں کیے جانے والے سمجھوتے

بیکرکے مطابق منقسم حکومت سیاست دانوں سے ایک گروپ کی حیثیت سے ووٹروں کی اکتاہٹ کو اجاگر کرتی ہے۔ حالانکہ وہ اپنے مقامی نمائندے کو پسند کرتے ہیں۔”وہ محسوس کرتے ہیں کہ تعطل ایک اچھی چیز ہے۔”

وائٹ ہاؤس اور ایوان نمائندگان میں مختلف جماعتوں کے عملی اثرورسوخ کا مطلب یہ ہوگا کہ قانون سازی کے لیے سمجھوتوں کی ضرورت ہوگی۔

ابرامووٹز کا کہنا ہے کہ مسقبل قریب میں “صدر کے لیے اپنے قانون سازی کے پروگرام کے کچھ حصوں پر عمل کرنا اگر ناممکن نہ بھی ہوا تو مشکل ضرور ہوگا۔”

اگر ری پبلکن پارٹی نے ایوان میں زیادہ نشستیں حاصل کی ہوتیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ پالیسیوں کے ایک بڑے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے متمنی ہوتے۔ بیکر کا کہنا ہے کہ “ری پبلکن [پارٹی] کو قلیل اکثریت حاصل ہے مگر یہ مینڈیٹ نہیں ہے۔”

ابرامووٹز کا کہنا ہے کہ کانگریس کے اندر ری پبلکن پارٹی کے ہاتھوں میں ایوان نمائندگان کا کنٹرول آنے کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ پارٹی قانون سازی کے بلوں پر ووٹنگ کرانے اور اُن چیزوں کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تحقیقاتی اختیارات استعمال کرنے  کے بارے میں فیصلے کر سکتی ہے جنہیں دوسری پارٹی پسند نہیں کرتی۔ ری پبلکن اُن بہت سی کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کو کنٹرول کریں گے جو بجٹ اور پالیسیوں کی نگرانی کرتی ہیں۔ ہر کمیٹی کا چیئرمین ری پبلکن ہوگا اور کمیٹیوں میں ری پبلکن پارٹی کےاراکین کی اکثریت ہوگی۔ جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مقابلے میں ری پبلکن پارٹی عملے کے زیادہ افراد کو بھرتی کر سکے گی۔

کانگریس کے ایوان نمائندگان کا منظر (© Andrew Harnik/AP)
امریکی ایوان نمائندگان نے اپنا نیا سپیکر منتخب کرنے کے لیے جنوری 2023 کے اوائل میں کئی بار ووٹنگ کی جو ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔ (© Andrew Harnik/AP)

اس تبدیلی سے حاصل ہونے والے فوائد اہم ہیں۔ مثال کے طور پر اکثریتی پارٹی ایوان نمائندگان کی قواعد و ضوابط کی طاقتور کمیٹی کو کنٹرول کرتی ہے جس سے اسے اس بات کا فیصلہ کرنے میں فوقیت حاصل ہو جاتی ہے کہ کن تجاویز پر ووٹنگ کرائی جائے اور پیش کیے جانے والے بلوں کی کن ترمیمات پر ایوان میں بحث کی اجازت دی جائے۔

تاہم ایوان میں ری پبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹک پارٹی پر 10 نشستوں کی اکثریت حاصل ہے۔ ابراموٹز کہتے ہیں اس کے لیے ری پبلکنوں کو اپنی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے متحد رہنے کی ضرورت ہوگی۔ ایک طرف قدامت پسند شعلہ بیانوں اور دوسری طرف اعتدال پسندوں کی موجودگی میں سمجھوتہ کرنا ضروری ہوگا۔ ابراموٹز کے مطابق یہاں پر بنیادی چیز”218 ووٹ ہیں۔”

اکثریتی پارٹی ایوان نمائندگان کے سپیکر یا لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔ روایتی طور پر سپیکر کا بہت اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ اُس وقت اس کی خصوصی اہمیت ہوتی ہے جب اس کی پارٹی کسی متحدہ موقف کا مظاہرہ کرتی ہے۔ (سپیکر کا جانیشینی کی صف میں نائب صدر کے بعد دوسرا نمبر ہوتا ہے۔)

15 مرتبہ ووٹنگ ہونے کے بعد ایوان کے اراکین کی اکثریت نے کیلی فورنیا کے ایک حلقے سے منتخب ہونے والے کیون مکارتھی کا سپیکر کے طور پر انتخاب کیا۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے چھوٹے گروپوں بلکہ انفرادی ری پبلکنوں کو بھی زیادہ اختیارات دینے پر اتفاق کیا۔ اس سمجھوتے کے تحت کوئی اکیلا ری پبلکن رکن بھی سپیکر کو ہٹانے کے لیے ووٹ کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ کانگریس کے ہر نئے اجلاس میں اس طرح کے قواعد اور کمیٹیوں میں کی گئیں تعیناتیوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

عدلیہ پر سینیٹ کا اختیار

سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر کمیٹیاں چلائیں گے۔ تاہم وہاں کے سخت قوانین کی موجودگی میں بہت سے اقدامات کو منظور کرنے کے لیے بڑی اکثریت یعنی ڈیموکریٹوں کے 51 ووٹوں سے کہیں زیادہ ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹوں کے محدود کنٹرول کے باوجود بائیڈن عدالتی اور انتظامی برانچ کی تقرریوں کی زیادہ آسانی سے توثیق کروا سکیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایوان نمائندگان کے بغیر سینیٹ عدلیہ سے متعلق توثیقوں کے عمل کو کلی طور پر کنٹرول کرتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر امریکی سپریم کورٹ میں ججوں کی کوئی نشست خالی ہوتی ہے تو بائیڈن دیرپا طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے نامزد کردہ فرد، بشرطیکہ تصدیق ہو جائے، تاحیات جج کے طور پر کام کرتا رہے گا۔ ابرامووٹز کا کہنا ہے کہ “یہ انتہائی اہم ہے۔”