بہت سارے ممالک چلی کی مثال کی تقلید کر رہے ہیں [معلوماتی خاکہ]: پومپیو

Two seated men talking (© Rodrigo Garrido/Reuters)
سانتیاگو، چلی میں 12 اپریل کو وزیر خارجہ مائیک پومپیو، بائیں، چلی کے صدر سبیسٹین پائنیرا سے ملاقات کر رہے ہیں۔ (© Rodrigo Garrido/Reuters)

چلی، پیراگوئے، پیرو اور کولمبیا کے چار روزہ دورے کے موقع پر وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 1990 میں جمہوریت کی جانب پرامن منتقلی کے بعد چلی میں آنے والی قابل ذکر تبدیلیوں کا نمایاں ذکر کیا۔

چلی نے سرمایہ کاری کے آسان اور شفاف ماحول کے ذریعے مضبوط اور مستحکم معاشی کارکردگی حاصل کر لی ہے۔ چلی کی غیرمعمولی ترقی کے پیچھے تجارت کا ایک ایسا کھلاپن کارفرما ہے جسے اس نے دنیا بھر کی 85 فیصد مجموعی آمدنی کی نمائندگی کرنے والی معیشتوں کے ساتھ سمجھوتوں کے ذریعے فروغ دیا ہے۔

پومپیو نے 12 اپریل کو چلی کے تاجروں اور سرکاری لیڈروں پر مشتمل سامعین کو بتایا کہ چلی نے "لاطینی امریکہ کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں غربت میں زیادہ کمی کی ہے: سال 2000 میں [غربت کی شرح] 36 فیصد تھی اور آج 9 فیصد ہے۔"

لاطینی امریکہ میں کامیابی کی راہ کا انتخاب

پومپیو نے کہا، "اس براعظم کے بہت سے ممالک چلی کی مثال کی تقلید کر رہے ہیں۔" انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اُن ممالک کے برعکس، بالخصوص وینیزویلا کے جہاں مطلق العنان حکومتیں ہیں، لاطینی امریکہ میں جمہوریت اور آزاد منڈیوں کی معیشت کو اپنانے والے امریکی شراکت دار ممالک خوشحال ہو رہے ہیں۔

Chart contrasting Venezuela and Chile (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)
(State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

پومپیو نے کہا کہ جس طرح  پورے لاطینی امریکہ میں حکومتیں ناکام ہوجانے والے سوشلسٹ  نظام کو سرمایہ دارانہ نظام سے اور بدعنوانی کو شفافیت سے بدلتے جا رہے ہیں اسی طرح وہ ایسے متحرک معاشی نظام قائم کر رہے ہیں جو کئی نسلوں تک چلیں گے۔

انہوں نے کہا، "آپ کے علم میں یہ بات ہونا چاہیے کہ امریکہ آپ کی پشت پر کھڑا ہے۔"