انتخاب کے دِن (8 نومبر) کے آںے میں ابھی دو ہفتے باقی ہیں اور لاکھوں امریکی اگلے صدر کے انتخاب کے لیے اپنا ووٹ ڈال بھی چکے ہیں۔

اور ہاں، ان سب کے ووٹوں کی حیثیت قانون کے عین مطابق ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کے نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 22 اکتوبر تک 40 لاکھ سے زیادہ امریکی اپنے ووٹ ڈال چکے ہیں۔

انتخاب کے دن اگر امریکی  ووٹ ڈالنے کے لیے نہ بھی جا سکیں تو انہیں ووٹنگ کے بالعموم دو متبادل طریقے بھی میسر ہوتے ہیں۔

  1. قبل از وقت ووٹنگ: جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت نے کچھ ایسی جگہیں متعین کی ہوتی ہیں جہاں جا کر لوگ انتخاب کے دن سے پہلے اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
  2. غیر حاضری کی ووٹنگ: اس میں عام طور سے ووٹر انتخاب والے دن سے قبل بیلٹ پیپر مکمل کرنے اور اسے ڈاک سے بھیجنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔

اس مرتبہ انتخاب کے دن یعنی 8 نومبر سے پہلے، قبل از وقت ووٹوں کی تعداد 5 کروڑ سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ آج تک اس طرح ووٹ ڈالنے والوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہو گی۔ ماہرین کو توقع ہے کہ ووٹ ڈالنے والوں کی مجموعی تعداد کم از کم 13 کروڑ ہوگی۔ اگر یہ اعداد صحیح ثابت ہوتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگلے صدر کے لیے 38 فیصد ووٹ قبل از وقت یا غیر حاضر ووٹوں کی شکل میں ڈالے جا چکے ہوں گے۔

امریکہ کے مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق، چار سال قبل ہونے والے صدارتی انتخاب میں تقریباً 33 فیصد ووٹروں نے، مذکورہ دو میں سے ایک طریقہ استعمال کیا تھا۔ 1996 کے مقابلے میں یہ تعداد 10 فیصد زیادہ تھی۔

کچھ ریاستوں میں یہ فیصد تعداد اس سے زیادہ رہی۔ پیو ریسرچ سینٹر کے محققین کے مطابق،  نیواڈا، ایریزونا، ٹیکسس، نارتھ کیرولائنا، مونٹانا، نیو میکسیکو اور ٹینیسی میں، نصف سے زیادہ ووٹ یا تو قبل از وقت ڈالے گئے یا غیرحاضر ووٹوں کی شکل میں ڈالے گئے۔

مرکز گریز نظام

بیشتر جمہوریتوں کے برعکس امریکہ میں انتخابات، مرکز کے زیر انتظام نہیں ہوتے۔ بلکہ ہر ریاست — اور بعض صورتوں میں، ہر کاؤںٹی  —  اپنے تئیں خود یہ طے کرتی ہے کہ شہری کیسے اور کب ووٹ ڈالیں گے۔ عدم مرکزیت پر مبنی اس نظام کی وجہ سے، ووٹنگ میں دھاندلی کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

ضابطے اور تاریخیں ہر ریاست میں مختلف ہوتی ہیں۔ تاہم 50 میں سے نصف سے زیادہ ریاستوں میں کسی نہ کسی شکل میں قبل از وقت یا غیر حاضری کی ووٹنگ کی اجازت ہے یعنی یا تو خود جا کر یا ڈاک میں بھیجے ہوئے بیلٹ پیپرز کے ذریعے آپ اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

اوریگن، واشنگٹن اور کولوریڈو کی ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں بیلٹ پیپر بھیجنے اور ووٹ ڈالنے کا عمل مکمل طور پر ڈاک کے ذریعے طے پاتا ہے۔

کیلی فورنیا اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں شہری قبل از وقت خود جا کر یا ڈاک کے ذریعے ووٹ دے سکتے ہیں، جبکہ  دوسری ریاستوں میں دونوں میں سے صرف ایک طریقہ استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

غیر حاضری کی ووٹنگ کا آغاز ایک صدی سے زائد عرصے پہلے امریکہ کی خانہ جنگی کے دوران ایک ایسے طریقے کے طور پر شروع ہوا جس کے تحت لڑائی میں مصروف سپاہی اپنے ووٹ اپنے گھروں کو بھیج سکتے تھے۔ بعض پابندیوں کے ساتھ 20ویں صدی کے وسط تک، بیشتر ریاستوں نے غیر حاضری کی ووٹنگ کسی نہ کسی شکل میں منظور کر لی تھی۔ تاہم ووٹروں کو یہ ثبوت فراہم کرنا پڑتا تھا کہ وہ انتخاب کے دن خود آکر اپنا ووٹ ڈالنے سے قاصر ہیں۔

کیلی فورنیا، اوریگن اور واشنگٹن اُن اولین ریاستوں میں شامل ہیں جنھوں نے 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ووٹروں کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ انتخاب کے روز دوسرے شہروں کا سفر، عارضی طور پر کسی غیر ملک میں قیام، جسمانی معذوری یا ملازمت کی وجہ سے بیرونِ شہر قیام جیسی کوئی مخصوص وجہ بتائے بغیر، غیر حاضری کے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ آج  مجموعی طور پر 27 ریاستیں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا [واشنگٹن، ڈی سی] اپنے شہریوں کو اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ وہ “کوئی عذر پیش کیے بغیر” غیر حاضری والا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

کیا آپ امریکی انتخابات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آپ انتخابی عمل کے بارے میں اول تا آخر مکمل معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس میں اگلے صدر کو پُر امن  انتقالِ اقتدار کے بارے میں معلومات بھی شامل ہیں۔