چینی حکومت کا اصرار ہے کہ ویغوروں اور دیگر مسلمان اقلیتوں کے افراد کو حراست میں لینا اور تعلیم نو، انسداد دہشت گردی کی جائز کاروائیاں ہیں۔

غالب شواہد بتاتے ہیں سچائی یہ نہیں ہے۔

آئیے حقائق پر ایک نظر ڈالیں۔ چینی حکام نے دس لاکھ سے زائد ویغوروں، نسلی قازقوں اور دیگر مسلمانوں کو کیمپبوں میں زیرِحراست رکھا ہوا ہے۔ اِن کیمپوں میں قیدیوں کو اپنی مذہبی اور نسلی شناختوں کو ترک کرنے اور کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ اِن کیمپوں میں لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور انہیں مشقتی کیمپوں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اور ہاں ایک بڑا ہدف ویغور داانشور ہیں جن کی تحریریں اور تعلیم، ویغور ثقافت کو پروان چڑہاتی ہیں۔

اس سے بھی بڑھکر چینی حکومت نے:

گفتگو کرتے ہوئے ایک شخص تک لوگ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ (© Andy Wong/AP Images)
ویغوروں کے چینی شنجیانگ کے خود مختار علاقے کے چیئرمین، شہرت ذاکر، درمیان میں، جولائی میں ویغوروں کے ساتھ حکومتی سلوک سے متعلق سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ (© Andy Wong/AP Images)

ستمبر میں وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ہونے والے وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ایک اجلاس میں کہا، “شنجیانگ میں چین کی جابرانہ مہم کا تعلق دہشت گردی سے نہیں ہے۔” اس کا “تعلق اس کے اپنے شہریوں کے اسلامی عقیدے اور ثقافت کو مٹانے سے ہے۔”

اُسی ہفتے چینی سفیر نے دعوی کیا کہ یہ کیمپ دہشت گردی کی روک تھام میں فائدہ مند تجربات ثابت ہوئے ہیں۔

نائب وزیر خارجہ جان سلیون نے چینی دعووں کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ نظریہ کہ چینی حکومت یہ کام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کر رہی ہے ایک “جھوٹا بیانیہ” ہے۔ ویغور مسلمانوں کو محض مذہب اور ویغور ثقافت کے بارے میں کتابیں رکھنے، جنازے کے موقع پر قرآن پاک کی تلاوت کرنے، اور حتٰی کہ اسلامی ہلال والی ٹوپی پہننے پر بھی حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

محکمہ خارجہ میں بین الاقوامی مذہبی آزادی کے عمومی سفیر، سیم براؤن بیک اور محکہ خارجہ میں انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار نیتھن سیلز نے مئی میں ایک مشترکہ مضمون میں کہا، “چین جو کچھ کر رہا ہے وہ دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ وسیع پیمانے پر کیا جانے والا ایک گھناؤنا جبر ہے۔”