تعلیمی سال 2018 – 2019 کے دوران 200 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ملین سے زیادہ طلبا امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے آئے۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برسوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔

تعلیمی شعبوں کے نام، اعداد و شمار اور علامتیں۔ (State Dept.)
تعلیمی سال 2018 – 2019 میں انجنیئرنگ، ریاضی اور کمپیوٹر سائنس، اور بزنس اور مینیجمنٹ کے شعبوں میں طلبا کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ (State Dept.)

امریکی کلاس روموں  اور کمیونٹیوں میں آنے والے طلبا نے  انجنیئرنگ اور کمپیوٹر سائنس سے لے کر بزنس اور مینیجمنٹ جیسے شعبوں میں تعلیم حاصل کی اور ثقافتی سفیروں کا کردار ادا کیا۔ اسی طرح امریکی طلبا کی دن بدن بڑھتی ہوئی ایک بڑی تعداد بیرونی ممالک کا رخ کر رہی ہے۔ جن ممالک میں وہ جاتے ہیں اُن کے تنوع میں بھِی روز افزوں اضافہ  دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یہ معلومات بین الاقوامی تعلیم کے انسٹی ٹیوٹ (آئی آئی ای) اور محکمہ خارجہ کے تعلیمی اور ثقافتی امور کے بیورو کی جانب سے "بین الاقوامی تعلیمی تبادلے سے متعلق اوپن ڈورز” کے عنوان سے جاری کی جانے والی سال 2019 کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔

تعلیمی اور ثقافتی امور کی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ میری روائس نے کہا، "بین الاقوامی تبادلہ ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تمام طلبا کے لیے زیادہ متحرک بناتا ہے اور جس طرح کہ بین الاقوامی طلبا کو کسی امریکی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنا تبدیل کر سکتا ہے ویسے ہی بیرونی ممالک میں جانے والے امریکی طلبا کو حاصل ہونے والے تجربات بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔”

اس سال کی اوپن ڈورز رپورٹ کے اجرا سے امریکہ کی وزارت خارجہ اور وزارت تعلیم کی جانب سے مشترکہ طور پر منائے جانے والے 70ویں سالانہ بین الاقوامی تعلیمی ہفتے کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ یہ یادگار ہفتہ اُن جاری کاوشوں کا ایک حصہ ہے جو امریکیوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کے لیے تیار کرتی ہیں۔ اِس میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے، سیکھنے اور تبادلے کے تجربات سے بہرہ ور ہونے کے لیے بیرونی ممالک کے مستقبل کے لیڈروں کو زیادہ تعداد میں راغب کرنا اور اس کے جواب میں زیادہ سے زیادہ امریکی طلبا کو بیرونی ممالک میں بھیجنا شامل ہے۔

آئی آئی ای کے صدر اور سی ای او، ایلن گڈ مین نے کہا کہ بین الاقوامی تعلیم کا انسٹی ٹیوٹ 1948ء سے اوپن ڈورز رپورٹ جاری کرتا چلا آ رہا ہے۔ گو کہ پہلی رپورٹ جاری کرنے کے وقت سے لے اب تک بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے، مگر اِن برسوں میں ہونے والی طلبا کی نقل و حمل میں ایک تسلسل پایا جاتا ہے۔ جو ممالک سب سے زیادہ طلبا امریکہ بھیجتے ہیں اُن میں بہت سے ممالک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ امریکہ  بین الاقوامی طلبا کی بدستور اولین منزل مقصود ہے۔ گزشتہ برس دنیا میں تعلیم کے لیے دوسرے ممالک میں جانے والے پانچ ملین طلبا کی 20 فیصد تعداد کو امریکہ میں خوش آمدید کہا گیا۔

امریکہ میں تعلیم کے لیے آنے والے بین الاقوامی طلبا کی سب سے زیادہ تعداد والے ممالک۔ (State Dept.)
تعلیمی سال 2018 – 2019 میں بین الاقوامی طلبا کی مجموعی تعداد کے نصف کا تعلق چین اور بھارت سے تھا۔ (State Dept.)

تعلیمی سال 2017 – 2018 کے دوران 341,000 سے زائد امریکی طلبا نے تعلیمی کریڈٹ کے لیے بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے پروگراموں میں حصہ لیا۔ اس سے کہیں زیادہ تعداد میں طلبا بیرونی ممالک میں کام، انٹرن شپ، اور رضاکارانہ مواقعوں کے لیے گئے۔ گو کہ امریکی طلبا کی اکثریت یورپ میں تعلیم حاصل کرنے جاتی ہے مگر دنیا کے دیگر ممالک میں بھی تعلیم کے لیے جانے والے امریکی طلبا کی تعداد میں بہت بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ برس جاپان، یونان، ہالینڈ، اسرائیل اور ارجنٹینا، اِن تمام ممالک میں اضافے کی شرح دو ہندسوں میں رہی۔ جبکہ امریکہ کے بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی مجموعی تعداد کا نصف برطانیہ کے حصے میں آیا۔

گڈ مین نے کہا، "امریکہ میں (آنے والے) بین الاقوامی طلبا اور بیرون ملک (جانے والے) امریکی طلبا کی ریکارڈ تعدادوں کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ طلبا کو سوچ کے نئے خیالات اور طریقوں سے واسطہ پڑ رہا ہے۔ انہیں دن بدن پیچیدہ ہوتی اور باہم جڑتی ہوئی دنیا میں کامیاب ہونے اور اپنا حصہ ڈالنے کی زیادہ سے زیادہ اہلیت حاصل ہوگی۔”

یہ مضمون فری لانس مصنف مائیو آلسپ نے تحریر کیا۔