بیس بال کی 2018 کی ورلڈ سیریز میں ایک نئی تارِیخ رقم

لاس اینجلیس ڈاجرز اور بوسٹن ریڈ سوکس نامی ٹیموں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں امریکہ اور دنیا بھر میں بیس بال کے شائقین ایک نئی تاریخ رقم ہوتی ہوئی دیکھ  رہے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے مینیجروں کا تعلق امریکہ  میں بسنے والے اقلیتی نسلی گروہوں سے ہے۔

1903ء میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے ان مقابلوں میں ایسا آج تک پہلے کبھی نہیں ہوا۔

ڈاجرز کے مینیجر، ڈیو رابرٹ جاپان میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ جاپانی اور والد افریقی نژاد امریکی ہیں۔ ریڈ ساکس کے مینیجر، ایلیکس کورا کا تعلق پورٹو ریکو سے ہے۔ بیس بال لیگ کی  30 بڑی ٹیموں کے مینیجروں میں سے چار کا تعلق اقلیتی گروہوں سے ہے۔

آج یہ کھیل پہلے سے  کہیں زیادہ بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لینے والے 254 کھلاڑیوں کا تعلق امریکہ کے علاوہ  دوسرے ممالک سے ہے۔ یعنی کم و بیش ہر دس میں سے تین کھلاڑیوں کا تعلق کسی بیرونی ملک سے ہے۔ بہت سے کھلاڑی لاطینی امریکہ سے  ہیں۔ اس کے علاوہ نامور کھلاڑیوں  کی صف میں شامل کھلاڑیوں کا تعلق جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے ہے۔

جاپان کے شوہی اوہتانی نے اس سال لاس اینجلیس کے لیے بالنگ اور بیٹنگ کرنے والے مخصوص کھلاڑی کی حیثیت سے اپنا پہلا سنسنی خیز میچ کھیلا۔ ایسا شاز و نادر ہی ہوتا ہے کہ ایک ہی  کھلاڑی بالنگ اور بیٹنگ  کرتا ہو۔ 24 سالہ شوہی اس سے قبل ہوکائیڈو نپن ہیم فائٹرز نامی ٹیم کے نامور کھلاڑی رہ چکے ہیں۔

عالمی مقابلوں کے یہ دونوں مینیجر ایک زمانے میں ڈاجرز میں اکٹھے کھیلا کرتے تھے۔ اس کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں نے ریڈ سوکس کی طرف سے بھی بیس بال کھیلی۔

دنیا کی بہترین سات سیریز میں شمار ہونے والی اس سیریز کو جو بھی  جیتے گا وہ اس عالمی سیریز کی انگھوٹھی پہننے والا تاریخ کا دوسرا ایسا مینیجر بن جائے گا جس کا تعلق نسلی اقلیت سے ہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والے اولین مینیجر افریقی نژاد امریکی، سیٹو گیسٹن تھے۔ وہ 1992 اور 1993 میں ٹورنٹو بلیو جیز نامی فاتح ٹیم کے مینیجر تھے۔

اس کھیل کی تاریخ میں ڈاجرز کو [نسلی مربوطی میں] ایک خاص مقام حاصل ہے۔ 1947 میں بروکلین ڈاجرز نامی ٹیم  نے ایک افریقی نژاد امریکی، جیکی رابنسن کو کھلاڑی کے طور پر شامل کیا۔  بیس بال میں اپنی کارکردگی کی وجہ سے رابنسن "ہال آف فیم" [مشہور کھلاڑیوں کی فہرست] میں شامل ہوئے جبکہ شہری حقوق کی ایک نامور شخصیت کے طور پر آج بھی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔