بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو ایک ایسی تیرتی ہوئی سائنسی تجربہ گاہ سمجھیں جس میں مسلسل تجربات کیے جا رہے ہیں۔

 ایک چھوٹی سی جگہ پر ایک آدمی نیکر اور بنیان پہنے ورزشی مشین پر دوڑ رہا ہے (NASA)
خلاباز مارک ٹی وینڈ ہئے، بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر مخففاً "کولبرٹ” ٹی ٹو نامی دوڑنے والی ورزشی مشین پر ورزش کر رہے ہیں۔ (NASA)

خلائی سٹیشن کے ساتھ کام کرنے والے ناسا کے ایک سائنس دان، برائن ڈینزبری بتاتے ہیں کہ خلائی سٹیشن پر منصوبہ بندی کی ایک معمول کی مدت کے دوران 250 اور 350 کے درمیان تجربات کیے جاتے ہیں۔ سائنس دان خلاباز آج تک خلائی سٹیشن پر 3,000 سے زائد تجربات کر چکے ہیں۔

زیادہ تر تجربات میں امریکی خلائی ادارہ، ناسا بین الاقوامی شراکت کاروں کو اُس وقت نقل و حمل میں مدد کرتا ہے جب وہ تجربات کی ترجیحات طے کرتے ہیں، اُن کے اوقات مقرر کرتے ہیں، خلائی سٹیشن تک سامان پہنچا تے ہیں اور زمین سے متعلق تجربات کے نتائج وصول کرتے ہیں۔

امریکی خلاباز اور شراکت کار ممالک کے خلاباز تجربات کے انسانی ہاتھوں سے کیے جانے والے حصوں  پر اکٹھے مل کر کام کرتے ہیں۔

یورپی اداروں کے ساتھ شراکت کاری

یورپی خلائی ادارہ (ای ایس اے) خلائی سٹیشن پر بہت سے تجربات کی سرپرستی کر چکا ہے۔ اِن تجربات میں سے بہت سے تجربات ناسا اور دیگر بین الاقوامی شراکت کاروں کے ساتھ مل کر کیے گئے ہیں۔ ای ایس اے کے ایک جاری تجربے میں خلائی پرواز کے دوران پٹھوں کی قوت پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت خلائی پرواز کے دوران عملے کے اراکین کے پٹھوں کی قوت، سختی اور لچک جیسے حیاتیاتی و کیمیائی خواص پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

اِن نتائج سے ممکن ہے انسانوں کے غیرمتحرک حالت میں پٹھوں کی قوت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکے اور زمین یا خلا میں ممکنہ طور پر بحالی صحت کے نئے طریقہائے علاج دریافت کیے جا سکیں۔

ڈینزبری کہتے ہیں، "اس سے زمین پر پٹھوں کے کمزور پڑ جانے کی بیماری کے بارے میں آگاہی ملنے کے امکانات کے ساتھ ساتھ مستقبل کے چاند یا مریخ پر جانے والے طویل دورانیے کے مشنوں میں خلابازوں کو صحت مند اور توانا رکھنے کے لیے اقدامات اٹھانے کے بارے میں بھی آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔”

ناسا، ای ایس اے کی سرپرستی میں کیے جانے والے حیاتیاتی سیارچوں کے تجربے میں بھی مدد کر رہا ہے۔ اس میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پتھروں کی سطح پر پیدا ہونے والے انتہائی چھوٹے چھوٹے جرثومے پتھروں کو آہستہ آہستہ کس طرح توڑ سکتے ہیں اور اِن میں سے مفید معدنیات اور دھاتیں کیسے نکال سکتے ہیں۔ یہ جرثومے پتھروں کو اور ان کے اندر موجود مادے کو پودے اگانے اور خوراک پیدا کرنے کے لیے مٹی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے وہ دن آئے جب یہ کام چاند پر کیا جا سکے۔

 ایک چھوٹی سی جگہ پر مشین پر کام کرتا ہوا آدمی (© ESA)
ای ایس اے کے سائنس دان، لوکا پارمیتانو بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر حیاتیاتی پتھر کے تجربے پر کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں حیاتیاتی سیارچوں کے تجربے کی راہ ہموار ہوئی۔ (© ESA)

ڈینزبری کہتے ہیں، "میرے نزدیک یہ انتہائی دلچسپ بات ہے کیونکہ مجھے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ زمین پر [بائیو] کان کنی کے لیے چھوٹے جرثوموں کو کتنا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔”

سپیس ایکس سی آر ایس- 21 بار بار استعمال کی جانے والی ایک تجارتی خلائی گاڑی ہے جسے  ناسا نے ٹھیکے پر حاصل کر رکھا ہے ۔ آنے والے موسم خزاں میں یہ خلائی گاڑی مذکورہ تجربے کے لیے خلائی سٹیشن تک سامان لے کر جائے گی۔