نئے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باوجود امریکی کالج اور یونیورسٹیاں نئے نصابی سال کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ بین الاقوامی طالبعلموں کی تعلیم کو آگے بڑھانے کے ساتھ  ساتھ انہیں محفوظ رکھنے کے طریقوں پر بھی پوری توجہ دے رہی ہیں۔

ایک غیرمنفعتی ادارے، انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے مطابق امریکہ کے اعلٰی تعلیمی اداروں میں دس لاکھ  سے زائد بین الاقوامی طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق 2019ء میں امریکی معیشت میں اُنہوں نے 46 ارب ڈالر سے زائد کا اپنا حصہ ڈالا۔ وہ امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں کی زندگی کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں اور امریکی طلباء کی طرح تعلیم حاصل کرنے کی طلب بھی رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، سان ڈی ایگو کے بین الاقوامی طلباء کے پروگرام کی ڈائریکٹر، ڈولسے ڈوراڈو نے  کہا کہ بین الاقوامی طلبا "اس ملک کی دانشورانہ اور ثقافتی گہما گہمی میں ایک بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔”

حال ہی میں یونیورسٹی آف ٹیکساس کے چانسلر، جیمز ملیکن کے بین الاقوامی طالبعلموں کے نام تحریری بیان میں بھی ڈوراڈو اور امریکہ کے دیگر تعلیمی لیڈروں کے خیالات کی باز گشت سنائی دی۔ ملیکن نے اپنے بیان میں تعلیم اور پیشہ ورانہ مستقبل کے ساتھ وابستگی پر زور دیا۔ انہوں نے لکھا، "یونیورسٹی آف ٹیکساس میں اساتذہ، عملہ اور طلباء …   سب بین الاقوامی طلبا و طالبات اور تعلیمی ماہرین کا اسی طرح استقبال کرنے میں میرے ساتھ شامل ہیں جس طرح بین الاقوامی طلبا و طالبات اور تعلیمی ماہرین ہمارے ہاں اپنے تعلیمی قیام کے دوران نسلوں سے لطف اندوز ہوتے چلے آ رہے ہیں۔”

طالبعلموں کو محفوظ رکھنے کی گنجائش پیدا کرنا

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران طالبعلموں کو محفوظ رکھتے ہوئے، تعلیم حاصل کرنے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ لہذا کچھ امریکی یونیورسٹیاں وقتی طور پر طالبعلموں کے لیے آن لائن کلاسوں کا بندوبست کر رہی ہیں۔ تاہم زیادہ تر یونیورسٹیاں آن لائن اور کلاس روم میں پڑھائی کے ملے جلے انتظامات کر رہی ہیں۔ یونیورسٹیوں کے پاس آن لائن تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے کافی وقت تھا۔ اِن کلاسوں میں بین الاقوامی طالبعلموں کی خصوصی مدد کی جائے گی۔

مثال کے طور پر ریاست فلوریڈا کے شہر میلبورن میں واقع فلوریڈا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (فلوریڈا ٹیک) ہر ایک بین الاقوامی طالبعلم سے قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہے۔ اگر کسی طالبعلم کو سفری پابندیوں کا سامنا ہے تو جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے حتمی تاریخوں کو آگے کر دیا جاتا ہے۔ فلوریڈا  ٹیک کے امریکہ سفر نہ کر سکنے والے طالبعلم اپنے کورس آن لائن بھی مکمل کر سکتے ہیں۔ داخلے کے شعبے کے نائب صدر، برائن ارلِک نے بتایا کہ جو طالبعلم گرمیوں میں اپنے ملکوں کو واپس نہیں جا سکے انہیں پورے سیمیسٹر کے لیے فلوریڈا  ٹیک کے کیمپس کی رہائش استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 پلاسٹک کی رکاوٹوں کے پیچھے بیٹھی ہوئی ایک عورت ایک آدمی سے بات کر رہی ہے (© Florida Institute of Technology)
زیادہ آمد و رفت والے مقامات پر پلاسٹک کی حفاظتی رکاوٹوں کا شمار فلوریڈا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے نئے اٹھائے جانے والے حفاظتی اقدامات میں ہوتا ہے۔ (© Florida Institute of Technology)

وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے انسٹی ٹیوٹ، "فلوریڈا ٹیک سیف” کے نام سے ایک منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت طالبعلموں کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ کیمپس میں حفظان صحت کے بہترین طریقے اپنائیں۔ اگر ان میں کووڈ-19 کی علامادت ظاہر ہوں یا اگر اُن کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے تو انہیں دوسروں کے تحفظ کے لیے مخصوص اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ سکول نے اپنی رہائشی عمارتوں میں رہنے والے طالبعلموں کی تعداد بھی محدود کر دی ہے اور اب ایک کمرے میں ایک طالبعلم کو رہنے کی اجازت ہے۔

انسٹی ٹیوٹ صحت کے ٹیسٹوں میں آسانیاں پیدا کرے گا، کیمپس میں عوام کی آمدورفت محدود کرے گا، چہرے پر ماسک لگانے کو لازمی قرار دے گا، زیادہ آمد و رفت والے علاقوں میں پلاسٹک کی حفاظتی رکاوٹیں لگائے گا اور صفائی میں اضافہ کرے گا۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی، سان ڈی ایگو نے "ریٹرن ٹو لرن” کے نام سے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کے تحت طالبعلموں، اساتذہ، اور عملے کے کووڈ-19 کے باقاعدہ ٹیسٹ کیے جائیں گے اور خزاں کی سہ ماہی شروع ہونے سے پہلے کیمپس میں آنے والے طالبعلموںّ کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ اِن اقدامات میں سکول کے طبی محققین اور صحت کی سرکاری سفارشات سے راہنمائی حاسل کی جائے گی۔

دُور کے طالبعلموں کو خدمات کی فراہمی

کیلی فورنیا یونیورسٹی، سان ڈی ایگو کا ورچوئل سٹوڈنٹ یونین کا قیام اور دیگر آن لائن سہولتوں کی فراہمی سے اُن طالبعلموں کو مدد ملے گی جو امریکہ کا سفر نہیں کر سکتے۔ یونیورسٹی ویبی نارز، دنیا کے مختلف حصوں کے مقامی وقتوں کے مطابق آن لائن ہدایات، ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ڈاکٹروں اور طبی عملے تک رسائی، ورچوئل مشاورت اور مختلف زبانوں میں بحث مباحثے کے مختلف فورموں کا بندوبست کرے گی۔ گریجوایٹ طالبعلموں کے لیے ترقیاتی پروگراموں کو بھی ورچوئل شکل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ڈوراڈو نے کہا، "اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ طالبعلموں کو وسائل تک رسائی میسر ہو اورچاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں انہیں ہمارے کیمپس کے یکساں تجربات حاصل ہوں۔”

ڈوراڈو نے کہا کہ وہ جو امریکہ کا سفر کر سکتے ہیں تو  اُن کے "سرپرست ساتھی اور کوچ آنے والے بین الاقوامی طالبعلموں سے رابطے کر رہے ہیں تا کہ وہ موجودہ طالبعلموں اور کیلی فورنیا یونیورسٹی، سان ڈی ایگو کی برادری کے ساتھ  امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی متعارف ہو جائیں۔”

یونیورسٹی حکام  بیرونی ممالک کے ایسے فارغ التحصیل طالبعلموں کے گروپوں کی اہمیت پر زور دیتے ہیں جو امریکہ آنے والے طالبعلموں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

آخر میں، فلوریڈا ٹیک، کیلی فورنیا یونیورسٹی، سان ڈی ایگو اور بہت سے دوسرے امریکی تعلیمی اداروں کے  طالبعلم موسم سرما کی سہ ماہی تک، اگر وہ ضرورت محسوس کریں تو، التوا کی درخواستیں بھی دے سکتے ہیں۔ ارلِک نے بتایا، "ہمیں معمول سے تھوڑی سی زیادہ، مگر بہت زیادہ تعداد میں نہیں، [درخواستیں] موصول ہوئی ہیں۔ ہم طالبعلموں اور اُن کے خاندانوں کی یہ بات سن رہے ہیں کہ اس سب کچھ کے باوجود، وہ اپنی تعلیم فوری طور پر شروع کرنا چاہتے ہیں۔”

امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کے بارے میں مزید معلومات کی خاطر ایجوکیشن یو ایس اے پر جا کر دستیاب سہولتوں کے بارے میں جانیے۔