امریکی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ نہیں ہے جہاں کیش بالکل استعمال نہ کیا جاتا ہو، لیکن ہر خریدی ہوئی چیز کی ادائیگی کیش میں کرنے والے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

کالجوں کے طالب علموں سمیت، بیشتر امریکیوں کے بٹوے میں کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے۔ انہیں آسانی اسی میں رہتی ہے کہ سٹوروں میں خریداری کی ادائیگی کریڈٹ کارڈ مشینوں کے ذریعے کریں، آن لائن خریداری کے لیے کریڈٹ کارڈ استعمال کریں، یا انفرادی یا مشترکہ ٹیکسی کا کرایہ بھی کریڈٹ کارڈ سے ادا کریں۔

لیکن امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے 10 لاکھ غیرملکی طالب علموں کے لیے قرض دینے والا کوئی ایسا ادارہ تلاش کرنا آسان کام نہیں ہے جو انہیں کریڈٹ کارڈ دینے کے لیے تیار ہو۔ بینک عام طور سے سوشل سیکورٹی نمبر مانگتے ہیں جو ہو سکتا ہے کہ طالب علموں کے پاس نہ ہو۔ اور وہ اس بات کا یقین کرنے کے لیے کہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادھار پر خریدی ہوئی چیز کی ادائیگی کے لیے طالبعلم پر اعتبار کیا جا سکتا ہے، اس کی اچھی کریڈٹ ہسٹری دیکھنا چاہتے ہیں — لیکن  کریڈٹ کارڈ کے بغیر کریڈٹ ہسٹری بنانا مشکل ہوتا ہے۔

Credit Cards_Urdu

 

ایک نئی کمپنی جس کے بانی کاروباری تنظیم کار کلپیش کپاڈیا ہیں، اس صورتِ حال کو یکسر تبدیل کر رہی ہے۔ کپاڈیا کبھی خود بھی ایک ایسے غیر ملکی طالب علم رہے ہیں جن کے پاس کوئی کریڈٹ کارڈ نہیں تھا۔ وہ ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے 20 سال قبل بھارت سے امریکہ آئے اور تعلیم کے بعد انھوں نے وال سٹریٹ میں پیشہ وارانہ کامیابی حاصل کی۔

آج کل، 66 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 10,000 سے زیادہ غیر ملکی طالب علموں کے پاس کپاڈیا کی سلیکون ویلی میں قائم ‘سیلف سکور’ نامی کمپنی کے ماسٹر کارڈ ہیں۔

طالب علموں کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ انہیں کارڈ جاری کرنے کا خطرہ مول لیا جا سکتا ہے۔ مارچ 2016 میں کمپنی کے قیام کے بعد سے اب تک جتنے طالب علموں نے کریڈٹ کارڈ کی درخواستیں دی ہیں، ان میں سے صرف 25 فیصد کو کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔

کپاڈیا کہتے ہیں کہ جو طالب علم یہ کارڈ استعمال کرتے ہیں ان میں سے تاخیر سے اپنی ماہانہ ادائیگی کرنے والوں کی تعداد 1 فیصد سے بھی کم ہے۔

یونیورسٹی آف جارجیا میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کرنے والی، گوئٹے مالا کی ایک مائکرو بایولوجسٹ، مارو کاستی لانوس نے 2014 میں فلبرائٹ سکالرشپ پر امریکہ آنے کے بعد ایک بنک میں اپنا اکاؤنٹ کھولا۔ انہیں اس وقت بڑی حیرت ہوئی جب ان کے بنک نے انہیں کریڈٹ کارڈ جاری کرنے سے انکار کر دیا۔

اپنے ملک کی ڈیل ویل یونیورسٹی میں پڑھانے والی، کاستی لانوس امریکہ اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے لیے چھٹی لے کر آئی ہیں۔ اپنے ملک میں ان کے پاس ایک اچھی خاصی رقم کا کریڈٹ کارڈ تھا۔ انھوں نے کہا، “یہاں ہر چیز ایک دائرے کے اندر گھومتی ہے۔” امریکہ میں ان کی کوئی کریڈٹ ہسٹری نہیں تھی۔ وہ بتاتی ہیں، “یہاں مجھے کوئی کریڈٹ کارڈ دینے کو تیار نہیں تھا۔” سیلف سکور نے انہیں دو ہفتے سے بھی کم وقت میں ایک کریڈٹ کارڈ جاری کر دیا۔

بیجنگ سے آئے ہوئے لاس اینجلیس کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ایک طالب علم، جیک گو کہتے ہیں کہ اگر کریڈٹ کارڈ ہو، “تو طالب علموں کے لیے شہر میں گھومنا پھرنا آسان ہو جاتا ہے” اور وہ کھانے کی چیزیں بھی آن لائن آرڈر کر سکتے ہیں۔

ابتدا میں سیلف سکور قرض لینے والوں کے لیے خرچ کی حد 500 ڈالر مقرر کرتی ہے۔ پھر یہ حد بتدریج 1,000 یا 1,500 ڈالر تک بڑھا دی جاتی ہے۔ کمپنی کریڈٹ کارڈ رکھنے والوں سے کوئی سالانہ فیس نہیں لیتی اور نہ ہی سود لیتی ہے بشرطیکہ ہر مہینے کریڈٹ کی ساری رقم ادا کر دی جائے۔

جو لوگ ہر مہینے پوری رقم ادا نہیں کرتے، انہیں 19.24 فیصد سالانہ شرح پر سود ادا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن امریکہ میں کریڈٹ کارڈ  رکھنے والے دو تہائی لوگوں کی طرح، اِن طلبا کی بھی ایک بڑی تعداد بروقت ادائیگی کر دیتی ہے اور انہیں سود ادا نہیں کرنا پڑتا۔

سیلف سکور کے لیے یہ بڑی پُرکشش مارکیٹ ہے۔ کپاڈیا کہتے ہیں، “اگر کوئی شخص 10,000 میل سے یہاں تعلیم کے ذریعے اپنی زندگی بہتر بنانے آیا ہے،” تو اسے قرض دینا خاصا محفوظ ہے۔ “آبادی کا یہ حصہ جوش و جذبے سے بھر پور ہوتا ہے۔”

وائس آف امریکہ کے ایک مضمون پر مبنی۔.