تاریخی لحاظ سے سیاہ فام کالج اور یونیورسٹیاں کامیابی کا سبب

1990 کی دہائی میں جب کرسٹل ڈیگریگری بہاماز میں بڑی ہو رہی تھیں تو انہوں نے اپنے ریاضی کے استاد اور دیگر تعلیمی پیشہ ور افراد کی زبانی ریاست ٹینیسی میں تاریخی لحاظ سے ایک سیاہ فام یونیورسٹی، یعنی فِسک یونیورسٹی کے بارے میں سنا۔

جب ڈیگریگری ثانوی سکول کی آخری کلاس میں پہنچیں تو اس وقت اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اعلٰی تعلیم کی ایک امیدوار ہیں۔ اُن کو الرجیاں تھیں جن کی وجہ سے وہ اپنی کلاسوں سے غیرحاضر رہا کرتی تھیں اور اس سے اُن کی تعلیمی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی تھیں۔ اُن کے سکول کا ماحول ان کے لیے موافق نہیں تھا۔

 کرسٹل ڈیگریگری دیوار پر لگے "جوبلی ہال" فسک یونیورسٹی کے سائن کے سامنے (Courtesy of Crystal A. deGregory)
ڈیگریگری کے پاس فِسک یونیورسٹی سے بیچلر کی ڈگری، وینڈر بلٹ یونیورسٹی سے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں اور ٹینیسی کی ریاستی یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری ہے۔ (Courtesy of Crystal A. deGregory)

فِسک یونیورسٹی کے اس وقت کے داخلوں کے ڈائریکٹر، انتھونی ای جونز نے نئے طلبا کی تلاش کے لیے ڈیگریگری کے سکول کا دورہ کیا۔ مخففاً ایچ بی سی یوز کہلانے والے تاریخی طور پر سیاہ فام کالجوں اور یونیورسٹیوں سے متعلق کہانیوں کی ویب سائٹ، HBCUstory.org,  کی بانی ڈیگریگری کہتی ہیں، ” وہ  (جونز) ان حقائق سے گھبرائے نہیں۔ انہیں یقین تھا کہ میں فِسک میں کامیاب ہوجاؤں گی اور انہوں نے مجھے بھی اسی بات پر قائل کیا۔”

فِسک اُن 101 کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جنہیں امریکی محکمہ تعلیم ایچ بی سی یوز کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ یہ یونیورسٹیاں اور کالج  1964 سے پہلے بنیادی طور پر افریقی نژاد امریکیوں کو تعلیم دینے کے لیے قائم کیے گئے تھے اور یہ قومی سطح پر تسلیم شدہ تنظیم سے منظور شدہ ہیں۔ 1965 کے اعلٰی تعلیم کے قانون میں پہلی بار "ایج بی سی یو” کی اصطلاح استعمال کی گئی  اور اسی قانون کے تحت اِن تعلیمی ادروں کو وفاقی فنڈنگ کے دائرہ کار میں لایا گیا۔

اِن میں سے بعض چار سالہ ڈگریوں کی یونیورسٹیاں ہیں جبکہ کچھ دو سالہ ڈگریوں کے کمیونٹی کالج ہیں۔ اِن میں قانون کے سکولوں سے لے کر میڈیکل سکولوں اور فنون لطیفہ یا مذہب کی ڈگریاں دینے والے ہر قسم کے تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ ہر نسل سے تعلق رکھنے والے طلبا ایچ بی سی یوز میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ سب ایچ بی سی یوز اکثریتی لحاظ سے سیاہ فام نہیں ہوتے۔ تقریباً 300,000 طلبا اور طالبات ایچ بی سی یوز میں پڑھتے ہیں۔

انسان دوست تنظیم، یونائیٹڈ نیگرو کالج فنڈ کے مطابق گو کہ اِن تعلیمی اداروں میں کالج جانے والے افریقی نژاد امریکی طلبا کی 10 فیصد تعداد داخلہ لیتی ہے تاہم ایچ بی سی یوز سے 20 فیصد افریقی نژاد امریکی گریجوایٹ نکلتے ہیں اور 32 فیصد افریقی نژاد امریکی سٹیم (یعنی سائنس، ٹکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی) کے گریجوایٹ نکلتے ہیں۔

 ریاستوں میں ایچ بی سی یوز کی تعداد دکھانے والا امریکہ کا نقشہ (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

پہلے  ایچ بی سی یوز امریکی خانہ جنگی سے قبل شمال میں اس وقت قائم کیے گئے جب امتیازی سلوک کی وجہ سے سیاہ فام طلبا کے روایتی طور پر سفید فام  تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی تھی۔ ان ایچ بی سی یوز میں سیاہ فام اساتذہ، مذہبی علما اور کاریگر افراد کو تربیت دی جاتی تھی۔ شروع کے نئے اداروں میں اوہائیو میں ولبر فورس یونیورسٹی، پنسلوینیا کی چینی یونیورسٹی اور پنسلوانیا ہی کی لنکن یونیورسٹی شامل تھیں۔

یونیورسٹی آف آئیڈاہو کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، سڈنی فری مین جونیئر کا کہنا ہے کہ خانہ جنگی اور تعمیر نو (1865 تا 1877) کے بعد جنوبی ریاستوں میں ایچ بی سی یو قائم کیے گئے تاکہ نو آزاد غلاموں میں تعلیم یافتہ طبقہ پیدا کیا جاسکے۔

آج بھی ایچ  بی سی یوز اپنی برتری کی شہرت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر تعلیم، بیٹسی ڈیووس نے ایک بیان میں کہا، "ہر ادارہ منفرد ہے اور وہ اس ملک کے تعلیمی تانے بانے کا ایک اہم حصہ ہے۔”

الومنائی کا اثر و نفوذ

ان کے بڑے وقف کردہ وسائل اور فعال الومنائی یعنی فارغ التحصیل طلبا و طالبات کی وجہ سے واشنگٹن کی ہوورڈ یونیورسٹی، صرف عورتوں کے لیے جارجیا کا سپیلمین کالج، سپیل مین کے قریب صرف مردوں کا مور ہاؤس کالج، اور ورجینیا میں ہیمپٹن یونیورسٹی کا شمار مشہور ترین ایچ بی سی یوز میں ہوتا ہے۔ ان اور دیگر ایچ بی سی یوز کے بہت عرصہ پہلے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا اور طالبات بہت مشہور ہوئے۔

شہری حقوق کی ہیرو، ڈایان نیش اُس وقت فِسک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں جب انہوں نے ‘فریڈم رائڈز” یعنی آزادی کے سفروں کے نام سے ایک تحریک منظم کی جس میں ایچ بی سی یوز کے اس وقت کے طلبا اور فارغ التحصیل طلبا شریک ہوئے۔ انہی میں امریکی بپٹسٹ کالج سے تعلق رکھنے والے اور مستقبل کے امریکی ایوان نمائندگان کے رکن، جان لیوس اور سنٹرل سٹیٹ یونیورسٹی کی ایک سفید فام طالبہ، مارگریٹ وینونا بیمر مائرز بھی شامل تھیں۔ اس فعالیت سے امریکی ریاستوں کے درمیان چلنے والی بسوں میں سفر کے سلسلے میں برتا جانا والی نسلی امتیازی سلوک ختم کرنے میں مدد ملی۔

 بہت سے لوگ ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے لائن بنا کر کھڑے ہیں جبکہ باقی لوگ اُن کے پیچھے کھڑے ہیں (© Eldred Reaney/The Tennessean-USA Today Network)
1961ء میں ریاست ٹینیسی کے شہر نیش وِل میں پولیس کی بربریت کے خلاف ڈایان نیش، درمیان میں، مظاہرین کی قیادت کر رہی ہیں۔(© Eldred Reaney/The Tennessean-USA Today Network)

ولبرفورس اور چینی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل، بیئرڈ رسٹن نے منٹگمری میں بسوں کے  بائیکاٹ اور اُس "مارچ آن واشنگٹن” کو منظم کرنے میں مدد کی جس میں مور ہاؤس کالج کے ایک گریجوایٹ، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے "میرا ایک خواب ہے” نامی تقریر کی تھی۔

1954 میں، ہوورڈ یونیورسٹی کے قانون کے گریجوایٹ، تھرگڈ مارشل اور دیگر وکلاء کی ایک ٹیم نے امریکہ کے سپریم کورٹ میں تاریخی مقدمے، براؤن بنام  بورڈ آف ایجوکیشن، ٹوپیکا، کینسس کو جیت کر سرکاری تعلیم میں نسلی بنیادوں پر علیحدہ علیحدہ تعلیم کو ختم کیا۔ (مارشل 1967ء میں سپریم کورٹ کے جج بنے)۔

 کلاسیکی طرز کی عمارت کے باہر کھڑے تھرگڈ مارشل (© Hank Walker/The LIFE Picture Collection/Getty Images)
تھرگڈ مارشل، براؤن بنام بورڈ آف ایجوکیشن کی سماعت کے دوران امریکہ کے سپریم کورٹ کے باہر کھڑے ہیں۔ سالوں بعد وہ سپریم کورٹ کے جج بنے۔ (© Hank Walker/The LIFE Picture Collection/Getty Images)

لیزلی جونز ہوورڈ یونیورسٹی کی گریجوایٹ ہیں اور انہوں نے ایچ بی سی یوز کو فروغ دینے والی تنظیم، دا ہنڈرڈ سیون کی قائم کی۔ لیزلی جونز کا کہنا ہے، "ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ ایچ بی سی یوز کا ذکر کیے بغیر شہری حقوق کے بارے میں بات کر سکیں۔ یہ ناممکن ہے۔”

ایچ بی سی یوز سے تعلیم حاصل کرنے والے وکلا نے حال ہی میں اُن افراد کے خلاف مقدمات تیار کرنے شروع کیے ہیں جن پر سیاہ فاموں کے قتل کی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ مثال کے طور پر، زیویر یونیورسٹی اور ہوورڈ یونیورسٹی کے قانون کے سکول کے، ایل کرِس سٹیورٹ، جارجیا میں ریشارڈ بروکس کے خاندان کے وکیل ہیں۔۔ (27 سالہ سیاہ فام، بروکس کو 12 جون کو اٹلانٹا کے ایک پولیس افسر نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ اس افسر کو برطرف کردیا گیا ہے اور اس پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے)۔

ایک اور ایچ بی سی یو، ٹیکساس سدرن یونیورسٹی نے ایک مکمل سکالر شپ مختص کر دیا ہے جو جارج فلاائیڈ کی 6 سالہ بیٹی کو تب دیا جائے گا جب وہ کالج جانے کی عمر کو پہنچے گی۔  (46 سالہ سیاہ فام، فلائیڈ 25 مئی کو منیاپولس میں گرفتاری کے دوران پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ پولیس افسروں کو برطرف کردیا گیا ہے اور ان پر قتل یا دیگر سنگین جرائم کی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے)۔

گو کہ ایچ بی سی یوز کا سرگرم کارکنوں اور قانونی ماہرین کو گریجوایشن کروانا بہت ہی متاثرکن ہے مگر ایچ بی سی یوز ڈیگریگری جیسے طلبا کو امکانات کا عظیم تر احساس دلانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ 1999 میں ، ڈیگریگری یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی اپنی خاندان کی پہلا فرد تھیں۔ یونیورسٹی کے لیے نئے طلبا تلاش کرنے والے جونز نے، (جو اب ہوورڈ یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پرو ووسٹ ہیں) ڈیگریگری کی فِسک یونیورسٹی میں جزوی سکالرشپ حاصل کرنے میں مدد کی۔ انہوں نے ڈیگریگری کی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ڈیگریگری نے محنت نہ کی تو وہ اُسے ہوائی جہاز پر بٹھا کر گھر واپس بھجوا دیں گے۔ جونز یاد کرتے ہیں کہ ڈیگریگری کی والدہ نے ان پر اور یونیورستی پر بھروسہ کیا۔

اگر آپ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ایچوکیشن یو ایس اے سے معلومات حاصل کریں۔