تازہ ترین امریکی پابندیوں کا ہدف: ایران کے دھاتوں کے شعبے

صدر ٹرمپ نے 8 مئی کو ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے جس کے ذریعے ایرانی دھاتوں کا کاروبار کرنے والے افراد اور مالیاتی اداروں پر ثانوی پابندیاں لگانے کا اختیار دیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مدد کرنے کے لیے ایرانی حکومت کو درکار کیش کی فراہمی کو روکا جا سکے۔

صدر نے کہا، “ایران کے جوہری ہتھیاروں اور بین الاقوامی بیلسٹک میزائلوں دونوں کے راستے بند کرنے اور مشرق وسطٰی میں ایران کے بدنیتی پر مبنی اثرونفوذ کو کلی طورپر ختم کرنے کی امریکی پالیسی بدستور جاری ہے۔”

انہوں نے کہا، “امریکہ کی یہ بھی پالیسی ہے کہ ایرانی حکومت کی آمدنی کو روکا جائے۔ اس میں ایران کی لوہے، فولاد، ایلومینم اور تانبے کے شعبوں کی مصنوعات کی برآمدات سے حاصل ہونے والی وہ آمدنی بھی شامل ہے جسے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ، دہشت گرد گروہوں اور نیٹ ورکوں، علاقائی جارحیت کی مہموں اور فوجی توسیع کے لیے رقومات فراہم کرنے اور مدد کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔”

Graphic showing four types of metal (State Dept.)
(State Dept.)

ایرانی حکومت کے رویے کو تبدیل کرنے کی خاطر ایران کے جوہری معاہدے میں امریکہ کی شرکت کو ختم  کیے اور “دباؤ کی مہم” کا آغاز کیے ایک سال ہو گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران امریکہ 970 ایرانی اداروں اور افراد اور 70 سے زائد مالیاتی اداروں کو [پابندیوں] کے لیے نامزد کر چکا ہے۔

نیا حکم نامہ ایران کی چوٹی کی برآمدات کے خلاف امریکہ کی ثانوی پابندیوں میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اِن برآمدات میں تیل، پیٹرو کیمیکل اور لوہے، فولاد، تانبے اور ایلومینم سمیت دھاتیں شامل ہیں۔

اپریل میں امریکہ نے پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی سپاہ کو محکمہ خارجہ کی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا اور تمام قابل ذکر استثناؤں کو ختم کرنے کے لیے تیل کی برآمدات پر عائد امریکی پابندیوں کے مکمل نفاذ کے لیے اقدامات اٹھائے۔

ایرانی حکومت کی بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ اِن ایرانی سرگرمیوں میں ذیل کی سرگرمیاں بھی شامل ہیں:-

  • بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور اِن کا پھیلاؤ۔
  • دہشت گردی، انتہاپسندی اور علاقائی آلہ کاروں کی مالی اور مادی مدد۔
  • شامی عوام پر اسد حکومت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی حمایت۔
  • انسانی حقوق کی اذیت ناک  اور مسلسل خلاف ورزیاں اور پامالیاں۔
  • امریکی شہریوں سمیت غیرملکیوں کی جھوٹے الزامات پر اور قانونی عمل کے بغیر من مانی گرفتاریاں۔