ترجمے کے ذریعے دنیا کو زیادہ قابل رسا بنانا

مختلف ملکوں کے پرچموں کے ساتھ کمپیوٹروں کا ایک تصویری خاکہ۔ (State Dept./Doug Thompson)
(State Dept./Doug Thompson)

کیا ہی اچھا ہو اگر آپ کسی بھی زبان میں چھپنے والا اخبار  پڑھ سکتے ہوں؟ یا سائن بورڈ یا ریستورانوں کے مینو پڑھنے میں کسی غلطی کے خوف کے بغیر بیرون ملک سفر کر سکتے ہوں؟ ترجمے کی آن لائن سروسیں برسوں سے دستیاب ہیں لیکن ان کے ترجمے ہمیشہ عجیب وغریب ہوتے ہیں اور بالکل صحیح تو کبھی بھی نہیں ہوتے۔

اب ایسا نہیں ہوگا

گوگل اور بیڈو کی نئی کامیابیاں ملکوں اور ثقافتوں کے درمیان زبان کی رکاوٹوں کو ختم کر رہی ہیں۔ حقیقت میں نئی ٹیکنالوجی، جسے  مشین لرننگ یعنی مشینی اکتسابِ علم کہا جاتا ہے، آن لائن ترجمے کی سروسوں کو نہ صرف زیادہ صحیح  بنا رہی ہے بلکہ  کمپیوٹروں کو سیکھنے اور خود کو بہتر  بنانے کے موقعے بھی  فراہم کر رہی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے؟

گوگل کے مطابق لگ بھگ آدھی ویب سائٹیں انگریزی میں ہیں۔ لیکن انٹر نیٹ صارفین کی تقریباً 20 فیصد تعداد کو انگریزی زبان پر دسترس حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہتر ترجمے کے کاموں کے باعث اربوں لوگوں کو خبروں کے بے شمار وسائل اور آن لائن مواد تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔

لیکن ترجمے کا ایک اور فوری استعمال بھی سامنے آیا ہے۔ گوگل کے چیف ایگزکٹیوسُندر پچھائی کےمطابق گوگل نے حال ہی میں "عربی اور جرمن زبانوں کے ترجموں میں پانچ گنا اضافہ” دیکھا ہے۔ جرمنی نے حالیہ برسوں میں دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کو اپنے ہاں بسایا ہے۔ اس لیے ان کا کام تلاش کرنے اور معاشرے میں رچ بس جانے کے لیے جرمن زبان کو استعمال کرنے کے قابل ہونا انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

گوگل اب تک انگریزی زبان سے ہسپانوی، پرتگالی، جرمن، چینی، جاپانی، کوریائی اور ترک زبانوں میں ترجمے کے لیے مشینی اکتسابِ علم کی ٹیکنالوجی کے سافٹ ویئر نصب کر چکا ہے۔ جبکہ ہر مہینے مزید زبانوں کا اضافہ کیا جاتا رہے گا۔

یہ کس طرح کام کرتا ہے

ابھی حال ہی تک ترجمے کے پروگرام کسی جملے کا ترجمہ کرنے کی کوشش کرتے وقت اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو چنتے اور الفاظ کو لغت میں تلاش کرتے تھے۔ اس کے بعد یہ جاننے کے لیے کہ کونسا لفظ جملے میں کس جگہ پر آئے گا، وہ طے شدہ ضابطوں کے ایک سَیٹ کو استعمال میں لاتے تھے۔

اب  مشینی اکتسابِ علم سے آراستہ سافٹ ویئر، لفظوں کے باہمی تعلق کا پتہ چلاتا ہے اور الگورتھم اس تعلق کے ایک پیچیدہ جال کو  تشکیل دیتا ہے۔  پھرجوں جوں ترجمے کے پروگرام کے ساتھ لوگوں کا تعامل بڑھتا جاتا ہے توں توں کمپیوٹراُس مواد کو پراسس کرتا چلا جاتا ہے اور زبان میں اُن نمونوں کو تلاش کرتا رہتا ہے جو اس کے ترجمے کو بہتر بناتے ہیں۔

مشینی اکتسابِ علم کا مستقبل  روشن ہے

مشینی اکتسابِ علم کی ٹیکنالوجی کی روح، کمپیوٹروں کو یہ کام سکھانے میں ہے کہ زبان میں نمونے کس طرح تلاش کیے جاتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مشینی اکتسابِ علم ٹیکنالوجی صرف ترجمے تک محدود نہیں رہے گی۔ کمپیوٹروں میں اشکال اور ترتیبوں کو پہچان لینے کی صلاحیت کے تقریباً لامحدود استعمالات ہیں جن میں خود کار چلنے والی کاروں کو بہتر بنانے سے لے کر کینسر کی  ابتدائی مرحلے میں تشخیص کے لیے طبی عکس میں کینسر کے پھوڑے کو پہچان لینا بھی شامل ہے۔

تاہم وقتی طور پر دنیا کو ایک دوسرے کے زیادہ قریب لانے اور باہمی رابطوں میں لوگوں کی مدد کرنے کی جانب، ترجموں کو بہتربنانا ایک اہم قدم ہے۔