ترقی پذیر ممالک کی اپنی مدد آپ کرنے میں امریکہ کی مدد

پانچ آدمی کھیت میں کدالوں سے کھدائی کر رہے ہیں (USAID/Micah Clemens)
تشدد سے اپنی جانیں بچا کر بھاگ جانے والے آئیوری کوسٹ کے خاندان جب واپس آئے تو یو ایس ایڈ نے اُن کی اپنے کھیتوں کو دوبارہ قابل کاشت بنانے میں مدد کی۔ (USAID/Micah Clemens)

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کی جانب سے شائع کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ  دنیا کا سب سے زیادہ بیرونی امداد دینے والا ملک ہے۔ 2019ء میں امریکہ نے  34.6 ارب ڈالر کی بیرونی امداد دی۔

ترقی پذیر ممالک کو دی جانے والی امداد ہنگامی حالات کے لیے تیاری، تباہی کی صورت میں امدادی سامان کی فراہم، اقتصادی ترقی اور غربت میں کمی کرنے میں مدد کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔ امدادی پروگراموں کو چلانے کے لیے امریکی حکومت کے 20 ادارے ہیں اور اِن میں امریکہ کا بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ قائدانہ کردار ادا کرتا ہے۔

یو ایس ایڈ ایسی شراکت داریاں استعمال کرتا ہے جو لوگوں کو روز افزوں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے مہارتیں حاصل کرنے اور استعداد پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ یو ایس ایڈ کے تزویراتی تعاون کے ماہر، کاش ارہا کہتے ہیں کہ اس سوچ میں "منڈی کی ایسی لچکدار معیشتیں تعمیر کرنے کے لیے آزاد اور کھلی، اور کاروبار کی بنیاد پر کی جانے والی ترقی پر زور دیا جاتا ہے جس میں ریاستوں کی خود مختاری اور وقار اور افراد کے حقوق کی قدر کی جاتی ہے۔”

انہوں نے کہا، "اس سے بین الاقوامی برادری اور عالمی معیشت کے معزز ممبروں کی حیثیت سے شراکت دار ممالک کی حکومت چلانے، اداروں، قوانین اور ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی قومی کوششوں کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔”

امریکی حکومت کی بیرونی امداد کچھ ممالک کی طرف سے اختیار کی جانے والی "قرضوں کے جال میں پھنسانے” کی سفارت کاری کے برعکس ہے۔ وہ حکومتیں ایسی شرائط پر قرضے دیتی ہیں جو اتنی سخت ہوتی ہیں کہ مقروض حکومتوں کو انہیں ادا کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ یہ جال کمیونٹیوں اور ممالک کو قرض کے ایک ایسے چکر میں پھنسا دیتا ہے جو انہیں ناجائز دباؤ  کا سامنا کرنے میں کمزور بنا دیتا ہے۔ عام طور پر اِن ممالک کو قرض دینے والی حکومتیں، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنے مزدور ساتھ  لے کر آتی ہیں جس سے قرض لینے والے ممالک کے مزدور روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں۔

کمیونٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا

 دو آدمی اُن ڈبوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جن پر "یو ایس ایڈ" لکھا ہوا ہے (U.S. Embassy India/Gaurav Dhawan)
امریکہ نے بھارت کو 100 وینٹی لیٹر فراہم کیے۔ (U.S. Embassy India/Gaurav Dhawan)

یو ایس ایڈ غذائی سلامتی اور عالمی صحت کے پروگراموں کو فروغ دیتا ہے اور یہ دونوں مقاصد کووڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔

امریکہ نے درجنوں ممالک میں نئے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں مدد کرنے کے لیے 20 ارب ڈالر سے زائد فراہم کرنے کے علاوہ، حال ہی میں غذائی سلامتی کے "فیڈ دا فیوچر” نامی منصوبے کے تحت چار نئی شراکتیں تشکیل دی ہیں۔

یوایس ایڈ کی نائب منتظمہ، بونی گلک نے 17 ستمبر کو اِن شراکتوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے بھوک کے خاتمے میں زرعی جدت طرازی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ گلک نے کہا، "یہ شراکتیں "ہر ایک کو یاد دلاتی ہیں کہ امریکہ کن مقاصد کے لیے کھڑا ہوتا ہے — اور یہ ہیں معاشی خوشحالی، طویل اور صحت مند زندگیاں، اور انسانی وقار۔”