ترکیہ میں آنے والے زلزلوں کے بعد بحالی کے کاموں میں ایک خاتون شیف کی خدمات

جب 6 فروری کو  ترکیہ میں زلزلہ آیا تو خاتون شیف ایبرو بیبارا دمیر نے زلزلے کے متاثرین کو کھانا کھلانے کے لیے کچن قائم کیے۔

یہ کچن تباہکن زلزلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ترکی کے شہروں عثمانیہ، قہرمان مرعش، آدیامان اور سکندرون میں تعلیمی اداروں کے ہاسٹلوں یا سرکاری عمارتوں میں قائم کیے گئے۔ اِن زلزلوں سے جنوب مشرقی ترکیہ اور شمالی شام میں عمارتیں تباہ ہوگئیں اور 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 30 لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے۔

انہوں نے شیئر امیریکا کو بتایا کہ “میں ایک ایسی فرد ہوں جو [متاثرین] کی مدد کرنے کے مسئلے کے حل کا حصہ ہونے کے حوالے سے فکرمند ہے اور جس کے  ہاتھ میں خوراک شناسی کا فن ہے۔”

دمیر اِن کچنوں کو  Gönül Mutfağı [روحانی کچن] کا نام دیتی ہیں۔ ترکیہ کے طول و عرض سے اِن کچنوں میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے کے لیے آنے والوں میں کھانے پکانے کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے علاوہ ڈاکٹر، انجنیئر اور اساتذہ شامل تھے۔ یہ سب لوگ ترک روائت  imece [امداد باہمی] کے جذبے کے تحت رضاکارانہ طور پر  مدد کرنے آئے تھے اور ہر روز  ہزاروں لوگوں کے لیے کھانا پکانے کے لیے دیگیں اور بڑے بڑے برتن استعمال کرتے تھے۔

کمرشل کچن میں کھڑے لوگوں کی تصویر (Courtesy of Zeynep Boneval)
ترکیہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں نے [پیچھے وسط میں کھڑیں] دمیر کی ترکیہ کے ‘ہاتے’ نامی شہر میں ہزاروں زلزلہ زدگان کے لیےکھانے تیار نے مدد کی۔ (Courtesy of Zeynep Boneval)

کھانا پکانے کے علاوہ رضارکاروں نے صفائی کا کام کیا، کھانے پکانے کی اشیا لے کر آئے اور لوگوں میں کھانا تقسیم کیا۔ دمیر نے بتایا کہ ہمارے ہاں “خوراک سے لے کر انتظامی کاموں کے تمام مراحل رضاکاریت کی بنیاد پر تکمیل پاتے ہیں۔” دمیر امریکہ کے محکمہ خارجہ کے بین الاقوامی مہمانوں کے قیادتی پروگرام یعنی “انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام” (آئی وی ایل پی)  میں بھی شرکت کر چکی ہیں۔

وہ اپنے اس کام کا اعزاز آئی وی ایل پی کو دیتی ہیں جس کے تحت مختلف شعبوں میں ابھرتے ہوئے غیر ملکی لیڈروں کو امریکہ آنے  اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ جان پہچان اور تعلقات بنانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اسی پروگرام کے تحت دمیر بھی امریکہ آئیں اور انہیں اپنے مختلف قسم کے کاروباروں سے متعلقہ بہترین طریقے سیکھنے کا موقع ملا۔

دمیر نے اپنا پہلا ریستوران جنوب مشرقی ترکیہ کے شہر ماردین میں کھولا۔اس کے بعد انہوں نے کھانوں کے ذریعے ترکیہ کے ورثے کو محفوظ رکھنے کی خاطر  سماجی پروگرام شروع کیے اور 2011 میں شام میں شروع ہونے والے بحران کے پناہگزینوں کے لیے مواقع فراہم کیے۔

انہوں نے اپنے پہلے ریستوران کے لیے خواتین کو  تربیت دینے کے علاوہ ملازمتیں بھی دیں۔ یہ ریستوران ایک تاریخی عمارت میں واقع ہے اور  اس سے ماردین شہر میں سیاحت کی صنعت کو فروغ ملا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے “کھیت سے پلیٹ” نامی پراجیکٹ کے ذریعے دیرپا زراعت میں بھی مدد کی۔ اس کے تحت ماردین شہر کے قرب و جوار کے 170 کسانوں کی جانب سے ترکیہ میں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے اور یہ پراجیکٹ زلزلہ زدگان کو خوراک بھیجنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کا کام بھی دیتا ہے۔

ایک بڑے برتن میں ایک آدمی کوئی مائع چیز ڈال رہا ہے جبکہ عورت اس میں موجود کھانے کو مکس کر رہی ہے (Courtesy of Ebru Baybara Demir)
دائیں طرف کھڑی کام کرتی ہوئی دمیر کہتی ہیں کہ روحانی کچن کے رضاکاروں نے 6 فروری کے زلزلوں کے بعد کے دو ماہ کے عرصے میں لگ بھگ ایک کروڑ کھانے تیار کیے۔ (Courtesy of Ebru Baybara Demir)

امریکہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے 315 ملین ڈالر سے زائد کی رقم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ترکیہ کو خوراک اور فوری ضرورت کی اشیا  بھی فراہم کیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے شام میں لوگوں کو تلاش کرنے اور بچانے اور دیگر امدادی کاروائیوں میں بھی مدد کی۔

کئی ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد امریکہ ترکیہ کے تاریخی مقامات کو محفوظ رکھنے کے لیے کی جانے والیں اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ اپنے ثقافتی ورثے کے مرکز کے ذریعے تعمیرِ نو کی ترجیحات طے کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کے ماہرین کے ایک اندازے  کے مطابق انہوں نے ابھی تک ثقافتی ورثے کے حامل جن 2,863  مقامات کا معائنہ کیا ہے اُن میں سے 60 فیصد سے زائد کو نقصان پہنچا ہے۔

دمیر کے یہ روحانی کچن ستمبر میں مقامی طلبا کی کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوبارہ کھول دیئے جائیں گے۔  اِن کچنوں نے پکوانوں کی دنیا سے داد وصول کی ہے۔ جون میں دمیر کو سماجی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پکوانوں کے شعبے میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے پر سال 2023 کا پکوانوں کا باسک عالمی انعام دیا گیا۔

یہ ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد دمیر نے کہا کہ “میرا یہ سفر لوگوں، ماحول، اور معاشرے کو فائدے پہنچانے کے لیے وقف ہے اور یہ کھیت سے پلیٹ تک اور  پھر پلیٹ سے کھیت تک پورے دائرے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔”

یہ مضمون امریکہ کے محکمہ خارجہ کا تعلیمی اور ثقافتی امور کا بیورو ایک مختلف شکل میں اس سے پہلے بھی شائع کر چکا ہے۔