ایک ملک کی حیثیت سے امریکہ کے وجود میں آنے سے 100 سال قبل، 1654ء میں ایک کشتی برازیل سے 23 سفاردیم یہودی پناہ گزینوں کو لے کر نیو ایمسٹرڈیم (جسے آج ہم نیویارک کے نام سے جانتے ہیں) پہنچی۔

یہ گروپ اُن یہودیوں کی اولادیں تھیں جنہیں مقدمات کے ہسپانوی  احتسابی نظام کے دور میں ملک بدر کیا گیا تھا۔ یہ لوگ ایسے ہی ایک دور یعنی پرتگالی دور کے احتسابی نظام سے جانیں بچا کر یہاں پہنچے تھے۔ یہ یہودی پناہ گزین قریب ترین ولندیزی نوآبادی یعنی نیو ایمسٹرڈیم میں اباد ہوئے۔ اس اقدام سے شمالی امریکہ میں یہودیوں کی مسلکی زندگی کی اولین مثال قائم ہوئی۔ تاہم، مختلف طبقات میں شادیاں کرنے کی بنیادی وجہ سے یہ طبقہ وسیع تر آبادی میں مدغم ہو گیا۔

فورڈ ہیم یونیورسٹی میں امریکی اور یہودی تاریخ پڑھانے والے، ڈینیئل سوئر نے بتایا، “جب تک یہ گروہ نہیں پہنچا تھا، وہ (یہودی) کمیونٹی نہیں تھے۔ درحقیقت صدی کے آخر تک، یعنی 1700 کے اختتام تک، وہ حقیقی معنوں میں ایک کمیونٹی نہیں بنے تھے۔”

 سڑک پر کھڑے لوگوں کی ایک تاریخی تصویر (George Grantham Bain Collection/Library of Congress)
1910ء کے لگ بھگ لوئر مین ہیٹن کے مشرقی حصے میں لوگ نئے یہودی سال، روش حشانہ کا جشن منا رہے ہیں۔ (George Grantham Bain Collection/Library of Congress)

اس کے بعد تارکین وطن کی مختلف لہروں میں امریکہ آنے والوں میں متنوع یہودی تارکین وطن امریکہ آئے۔

امریکی یہودیوں کی کتاب برائے سال 2019 کے مطابق امریکہ میں رہنے والے یہودیوں کی تعداد اندازاً 70 لاکھ ہے۔ ان میں زیادہ تر اشکنازی اور سفاردیم  ہیں۔ اشکنازی وہ یہودی ہیں جن کے آباواجداد کا تعلق وسطی اور مشرقی یورپ سے ہے جبکہ سفاردیم وہ ہیں جن کے آباواجداد کو 1490 کی دہائی کے آخر میں سپین اور پرتگال سے نکالا گیا تھا۔

اس کے علاوہ وہ یہودی ہیں جو ایرانی، ایشیائی، لاطینو، سفید فام ہیں اور دیگر رنگوں اور نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

سوئیر نے بتایا، “خاص طور پر گزشتہ چند دہائیوں میں اپنے مذاہب بدل کر یہودی مذہب اختیار کرنے والوں، مخلوط شادیاں کرنے والوں کے بچوں، اور گود لیے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد وجود میں آئی ہے جن کی شناخت تو غیر سفید فام ہے مگر ان کا تعلق بھی اسی (یہودی) کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔”

سوئیر نے بتایا کہ امریکی یہودیوں کی اکثریت کا تعلق 1870ء اور 1924ء کے درمیان امریکہ آنے والے زیادہ تر مشرقی یورپ کے یہودیوں  سے تھا۔ اس گروپ میں سابقہ روسی سلطنت کے اُن قوانین سے بھاگ کر آنے والے یہودی بھی شامل تھے جن کے تحت انہیں روس کے بڑے حصے سے بیدخل کر کے موجودہ یوکرین، بیلا روس، لتھوینیا، لاتویا، اور مالدووا اور پولینڈ کے اکثریتی حصے پر مشتمل “آباد کاری کا خطہ” کہلانے والے علاقے میں رہنے کا پابند کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد 1930 کی دہائی میں یہودی نازی جرمنی سے اپنی جانیں بچا کر آنے والے یہودیوں کے نسبتاً چھوٹے گروہ امریکہ آتے رہے۔ اِن میں ماہر طبیعیات البرٹ آئین سٹائن، موسیقار آرنلڈ شونبرگ اور علمی ماہر ہنا آرنٹ جیسے سرکردہ سائنس دان، آرٹسٹ اور تخلیقی مفکرین شامل تھے۔

 گرینائٹ سے بنی دیوار کے سامنے، جس پر بہت سے نام کندہ ہیں ایک آدمی ہاتھوں میں کتاب پکڑے عبادت کر رہا ہے (© Alan Diaz/AP Images)
آرنلڈ مائرز ہولوکاسٹ میں ہلاک ہونے والے اپنے والدین اور بہن کے لیے میامی بیچ، فلوریڈا میں واقع یادگار دیوار کے سامنے عبادت کر ر ہے ہیں۔ (© Alan Diaz/AP Images)

اس کے بعد ہولوکاسٹ سے زندہ بچ جانے والوں میں اِن سے بھی چھوٹے گروپ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ آئے۔ اِن میں سے بعض یدیشی زبان بولتے تھے اور دیگر کا تعلق یونان اور بلقان کے علاقوں سے تھا۔

اس کے بعد سوویت یونین سے یہودی تارکین وطن کی دو لہریں اٹھیں۔ پہلی لہر 1970 کی دہائی میں اس وقت اٹھی جب بعض یہودیوں کو اپنے خاندان والوں کے ساتھ جا کر رہنے کی اجازت دی گئی اور دوسری  1990 کی دہائی میں اس وقت اٹھی جب سوویت یونین تحلیل ہوا اور روسی زبان بولنے والے بہت سے یہودیوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے کے لیے ترک وطن کیا۔ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد، ایرانی یہودی اچھی خاصی تعداد میں لاس اینجلیس میں آ کر آباد ہوئے۔

 لمبے کوٹ اور کالے پہنے سیادہ لباسوں میں ملبوس داڑھیوں والے تین آدمی جن کے بالوں کی لٹیں اطراف میں لٹک رہی ہیں، نیویارک کی ایک سڑک پر کھڑے باتیں کر رہے ہیں (Library of Congress/Carol M. Highsmith)
یہودی فرقے ہاسِد سے تعلق رکھنے والے تین یہودی 2018ء میں نیویارک کے بروکلین برو میں ایک سڑک پر کھڑے باتیں کر رہے ہیں۔ (Library of Congress/Carol M. Highsmith)

نیویارک میں آباد یہودیوں کی مضبوط کمیونٹی اور یہاں پر موجود معاشی مواقعوں کی وجہ سے یہودی تارکین وطن ہمیشہ نیویارک میں آ کر آباد ہوتے رہے۔ سال 1900 تک، نیو یارک شہر میں یہودیوں کی دنیا میں سب سے بڑی آبادی تھی۔ سوئیر نے بتایا، “یروشلم اور تل ابیب کی مجموعی آبادی سے زیادہ یہودی [نیویارک] میں رہتے ہیں۔” اس کے علاوہ بھی یہودی امریکہ میں ہر کہیں رہتے ہیں۔

صدر بائیڈن نے مئی کو یہودی امریکیوں کے ورثے کا مہینہ قرار دینے کے بیان میں کہا، ” یہودی قوم کی نسلیں ظلم و جبر، امتیازی سلوک، اور زیادتیوں سے بھاگ کر اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے بہتر زندگی کی تلاش میں اس [امریکہ] ملک میں آئیں۔”

“ان یہودی امریکیوں نے اپنے اور اپنے خاندانوں کی  زندگیوں کو بہتر بنایا اور ہماری قوم کی شہری اور معاشرتی زندگی میں ناگزیر کردار ادا کیے اور اپنی قیادت اور کامیابیوں کے ذریعے ہماری قوم کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔”