(© Michele Spatari/AFP/Getty Images)
پانچ اگست کو جوہانسبرگ کے استوائی بیماریوں کے سزوے ہسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر (بائیں جانب) ٹی بی کے ایک مریض کا معائنہ کر رہی ہے۔ (© Michele Spatari/AFP/Getty Images)

ابھی حال ہی تک ایسے لوگوں کے لیے جو دوائیوں کے خلاف شدید مزاحمت رکھنے والے تپدق یعنی ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوا کرتے تھے علاج کی سہولتیں ناکافی اور اس بیماری سے صحت یابی کے امکانات کم ہوا کرتے تھے۔ تاہم آج بدترین قسم کی  ٹی بی کے شکار مریضوں کے لیے ایک نئی دوا سامنے آئی ہے جس سے اُن میں صحت یابی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ماضی میں صورت حال اس کے برعکس ہوا کرتی  تھی۔

گولی کی شکل میں اس نئی دوا  کا نام "پریٹومانیڈ” ہے اور اسے نیویارک کے ‘ٹی بی الائنس’ نامی ایک غیرمنفعتی ادارے کے سائنسدانوں نے تیار کیا ہے۔ مخففا ایف ڈی اے کہلانے والے امریکہ کے غذآ اور دوائیوں کے ادارے نے دوسری دو اینٹی بائیوٹک دواؤں یعنی بیڈا کویلین اور لائنا زولڈ  کے ساتھ اس کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ ٹسٹوں کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ اِن تینوں دواؤں کے استعمال سے تپدق کی مہلک ترین بیماری کے شکار 90 فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

40 برس سے زائد عرصے کے دوران ایف ڈی اے کی جانب سے منظور کی جانے والی پریٹو مانیڈ  ٹی بی کی تیسری دوا ہے۔

نئی دوا عنقریب دنیا بھر میں استعمال کے لیے دستیاب ہوگی کیونکہ صحت کی عالمی تنظیم بالعموم ایف ڈی اے کی جانب سے نئی دواؤں کی منظوری کے بعدد اپنی طرف سے منظوری دے دیا کرتی ہے۔ صحت کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ سال 2018 میں ایک کروڑ افراد ٹی بی کی بیماری کا شکار ہوئے اور اس مرض نے سولہ لاکھ افراد کی جانیں لیں۔

تپ دق یعنی ٹی بی  کا مرض دنیا میں موت کی متعدی وجوہات میں ایڈز پر بھی سبقت لے گیا ہے۔ اگرچہ ٹی بی کے مریضوں کی ایک تھوڑی سی تعداد  اس بیماری کی مہلک ترین قسم کا شکار ہوتی ہے پھربھی ٹی بی کی اس قسم کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔  ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ دواؤں کے نئے سلسلے سے مہینوں کے اندر ایسے زیادہ تر مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں۔

صحت کی عالمی تنظیم کے مطابق 2017ء میں 120 سے زائد ممالک میں دوائیوں کے خلاف  شدید مزاحم ٹی بی  اور کم و بیش 558,000 نئے مریضوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اس میں دواؤں کی شدید مزاحم  ٹی بی کے مریضوں کا ایک چھوٹا سا وہ گروہ بھی شامل ہے جو نئی دوا کے نظام کے تحت کیے جانے والے علاج کا ہدف ہے۔ آج سے پہلے جو علاج تجویز کیا جاتا تھا وہ طویل اور پیچیدہ  ہوتا تھا اور اس میں مریضوں کو مختلف اقسام کے آٹھ  قسم کے ٹیکے اور گولیاں دی جاتی تھیں۔ اکثر مریض اپنے علاج کے مکمل ہونے سے پہلے ہی مر جایا کرتے تھے۔

ٹی بی الائنس نے بتایا کہ وہ صحت کی عالمی تنظیم کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ وہ ایسے ممالک میں تین دواؤں کو گولیوں کی شکل میں لینے کے عمل کو تیز کریں جہاں دواؤں کی شدید مزاحم تپدق کی بیماری وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ممکنہ طور پر اس سے ہر سال  75,000سے زائد مریضوں کی مدد کی جا سکے گی۔