Group of boys in cave with metallic blankets (© Royal Thai Navy Facebook Page/AP Images)
تین جولائی کی اِس تصویر میں شمالی تھائی لینڈ کی ایک غار میں پھنسے نوجوان لڑکے اور اُن کا فٹ بال کوچ امدادی کاروائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ غار میں پھنسنے کے نو دن کے بعد اس گروپ کا پتہ چلا۔ (© Royal Thai Navy Facebook Page/AP Images)

درجنوں امریکیوں سمیت دنیا بھر کے غوطہ خور اور امدادی کارکنان شمالی تھائی لینڈ میں سیلابی پانی سے بھرے غار سے 12 لڑکوں اور اُن کے کوچ کو نکالنے کے لیے مل کر کام کرتے رہے۔ ٹیم کو اس غار میں پھنسے ہوئے دو ہفتوں سے زیادہ ہوچکے تھے۔

غار میں پھنسے لوگوں کی جانیں بچانے کی کاروائی کے لیے کئی دنوں تک انتہائی باریک بینی سے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس کاروائی میں تھائی لینڈ کی شاہی بحریہ کے "سیلز" کے نام سے جانا جانے والا زیرآب حملہ کرکے تباہی پھیلانے والا یونٹ، اور برطانیہ، آسٹریلیا، چین اور امریکہ کے خاص دستوں کے جوانوں کے ساتھ ساتھ  دیگر ممالک کے نمائندے بھی شامل تھے۔ جریدے "وائرڈ" کے مطابق اسرائیلی ٹیلی کمیونیکیشن کے آلات بنانے والی ایک کمپنی نے بھی رابطہ قائم رکھنے میں مدد کی۔

امریکہ کی بحر ہند اور بحرالکاہل کی کمان کی طرف سے بھیجے جانے والے غوطہ خوروں نے اس کاروائی میں فٹ بال کے پھنسے ہوئے کھلاڑیوں تک سامان پہنچانے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ غاروں کے اس سلسلے میں محفوظ راستہ بنانے میں بھی ہاتھ بٹایا۔ امریکہ کے محکمہ دفاع نے بتایا کہ انہوں نے غار سے نکالے جانے والے افراد کو جن میں سے بہت سے اچھے طریقے سے تیر بھی نہیں سکتے تھے غار کے آخری حصے سے باہر نکلنے میں مدد کی۔ اس امدادی کاروائی میں تقریباً 40 امریکی فوجیوں نے حصہ لیا۔

At left, people standing around table looking at document (© Lillian Suwanrumpha/AFP/Getty Images). At right, people in diving gear (© Ye Aung Thu/AFP/Getty Images)
بائیں: ایک تھائی فوجی افسر (دائیں سے دوسرے نمبر پر) تھائی لینڈ کے چیانگ رائے صوبے میں تھانگ لوانگ غار کے قریب ایک امدادی کاروائی کے دوران امریکی فوجیوں کو تفصیل بتا رہا ہے۔ (© Lillian Suwanrumpha/AFP/Getty Images) دائیں: 5 جولائی کو جاری امدادی کاروائی کے دوران تھائی غوطہ خوروں نے امدادی سامان اٹھایا ہوا ہے۔ (© Ye Aung Thu/AFP/Getty Images)

اس کاروائی کی پُرخطر نوعیت کا اظہار تھائی بحریہ کے اُس سابقہ سیل کی ہلاکت سے ہوتا ہے جو غار کے اندر آکسیجن کے ٹینک پہنچانے گیا مگر واپسی پر اپنے ٹینک میں آکیسجن ختم ہونے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گیا۔

جب فٹ بال کے 10 تا 16 سال کی عمروں کے کھلاڑیوں اور اُن کے کوچ کو غار سے نکالنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا تھا تو اس دوران غوطہ خور خوراک اور دیگر اشیا کی رسد اُن تک پہنچاتے رہے۔ اُن کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی غار کے اندر گیا۔

غار سے نکالے جانے والے لڑکوں اور اُن کے کوچ کو اب ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے جہاں اپنے خاندانوں سے ملنے سے قبل اُن کے طبی معائنے کیے جا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس ابتلا کے باوجود سب اچھی حالت میں ہیں۔

تھائی لینڈ میں امریکہ کے سفیر گلِن ڈیوس نے کہا، "میں امریکہ کی طرف سے تھائی حکام اور اُن کے بین الاقوامی شراکت داروں کو ان 12 دلیر نوجوانوں اور اُن کے کوچ کو متاثرکن طریقے سے بچانے پر مبارک باد دیتا ہوں جو 23 جون سے چیانگ رائے صوبے میں تھام لوانگ غار میں تیزی سے بلند ہوتے گہرے پانی میں پھنسے ہوئے تھے۔ دنیا بھر کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے ہمراہ امید بھرے دلوں کے ساتھ ہر کہیں موجود تھائی لینڈ کے لوگوں نے اس منفرد کامیابی کے لیے صبر و استقلال سے کام لیا۔"