تھامس ایڈیسن نے اپنی 1,093 ایجادات کا تحفظ کیسے کیا؟

موجد تھامس ایڈیسن کی تصویر کے سامنے گلی کی بتی کا ایک ماڈل جس میں بجلی کا بلب لگا ہوا ہے۔ (© AP Images)

تھامس ایڈیسن کو ہرکوئی بجلی کے بلب کا خالق مانتا ہے۔ لیکن "مینلو پارک” (نیو جرسی میں واقع ایڈیسن کی مشہورِعالم تجربہ گاہ کی جگہ) کے اس دانا شخص نے اور بھی سینکڑوں اہم ایجادات کیں۔ ایڈیسن نے اپنی پوری زندگی میں، اپنی ایجاد کی ہوئی 1,093  اشیا کے پیٹنٹ  حاصل کیے — جو کہ کسی واحد شخص کے نام پر اتنی تعداد میں پیٹنٹ حاصل کرنے کا ابھی تک ایک ریکارڈ ہے۔

پیٹنٹ، موجدوں کے تصورات اور کام کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں تحقیق اور ترقیاتی کاموں کی ترغیب ملتی ہے۔ پیٹنٹ اُن وسیع قانونی تحفظات کا ایک حصہ ہیں جنہیں املاکِ دانش کے حقوق  (آئی پی آر ) کہا جاتا ہے۔

املاکِ دانش سے مراد ایسا منفرد کام ہے جو کسی شخص کی تخلیقی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہو۔ ایسی بے شمار چیزیں ہمارے آس پاس موجود ہیں — خواہ یہ کوئی موثر ترین دوا ہو، ہالی وُڈ کی کوئی مقبول ترین فلم ہو، یا کوئی بہت کم ایندھن خرچ کرنے والی کار ہو۔

Drawing of lightbulb (© AP Images)
اپنے روشنی کے بلب کے پیٹنٹ کے لیے تھامس ایڈیسن کی تکنیکی ڈرائنگ۔ (© AP Images)

پیٹنٹ، املاکِ دانش کی تین اقسام کے حقوق میں سے ایک ہیں۔ کاپی رائٹ تصنیفی کاموں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جیسا کہ فلموں کی کہانیاں وغیرہ۔ ٹریڈ مارک کسی نام، چیز یا خدمات کی علامت کو تحفظ  فراہم کرتے ہیں (جیسا کہ میکڈانلڈ کی سنہری محرابیں ہیں۔)

آئی پی آر کے تحت حاصل ہونے والے مضبوط حقوق کے بہت سے فائدے ہیں۔ اس سے روز گار کے مواقع  پیدا ہوتے ہیں اور جعلی دوائیں بنانے یا ناقص مصنوعات سازی کی روک تھام  ہوتی ہے۔ اس سے کاروباری انتظام کاروں اور تخلیقی ذہن رکھنے والے لوگوں کو اپنی روزی کمانے میں مدد ملتی ہے، اس لیے کہ یہ حفاظت دوسروں کو حسب ذیل چیزوں کو چوری کرنے یا ان کی نقل کرنے سے روکتی ہے :

  • وہ چیزیں جو موجدین ایجاد کرتے، لکھتے یا بناتے ہیں۔
  • ان کی مصنوعات کے نام یا برانڈ۔
  • ان کی مصنوعات کے ڈیزائین یا نشان۔

عام شہری اس معاملے میں آگاہی میں اضافہ کر کے ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ املاکِ دانش کی عالمی تنظیم کے پاس ایسے وسائل ہیں جو مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اِن وسائل میں پوسٹروں سے لے کر کامیاب میڈیا مہمیں چلانے کی مثالیں موجود ہیں۔

یہ مضمون اس سے پہلے 21 اپریل ، 2016 کو شائع ہوا تھا۔