Man driving utility vehicle toward industrial structures and smokestack (© Luke Sharrett/Bloomberg/Getty Images)
ریاست ٹیکساس کے شہر تھامپسن میں واقع پیٹرا نووا کے اس پلانٹ میں تیل کی صفائی کے دوران پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو اکٹھا کرکے تیل کی پیداوار میں دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ (© Luke Sharrett/Bloomberg/Getty Images)

امریکی تیل کمپنیاں ٹیکنالوجی کی بدولت ایک ایسے غیرروایتی طریقے سے بڑی مقدار میں تیل نکال رہی ہیں جس کے دوران عام طور پر فضا میں تحلیل ہو جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جمع کر کے اسے تیل کی پیداوار میں اضافے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو 'کاربن کیپچر'  یعنی کاربن کو اکٹھا کرنا کہا جاتا ہے اور اس کے ذریعے عام طور پرکاربن ڈائی آکسائیڈ کو تیل یا گیس صاف کرنے کے کارخانے سے دھوئیں کے اخراج کے مقام پر علیحدہ کر کے زیرزمین گہرائی میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں اس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو زیرزمین تیل کے کنوؤں میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ عمل 'تیل کی افزودہ بازیافت' کہلاتا ہے۔ اس میں ماحول کو آلودہ کرنے کے بجائے آلودگی کا باعث بننے والی اس گیس کی مدد سے مزید تیل نکالا جاتا ہے۔

توقع کی جاتی ہے کہ امریکہ 2023 تک  دنیا میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ افقی کھدائی اور آب رسائی سے چٹانیں توڑنے کے 'فریکنگ' نامی طریقہ کار کے ذریعے شیل چٹانوں سے تیل نکالنے والی کمپنیاں  پیداوار میں اضافہ کر رہی ہیں۔

Large gray pipe with smokestack and blue sky behind (© Luke Sharrett/Bloomberg/Getty Images)
تیل کے کنوؤں کی طرف کاربن ڈائی آکسائیڈ لے جانے والے پائپ۔ (© Luke Sharrett/Bloomberg/Getty Images)

وفاقی ٹیکس کے قانون میں تبدیلی سے 'کاربن کیپچر' میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی متوقع ہے۔ خاص طور پر اس نئی ٹیکنالوجی سے کام لینے والی معدنی ایندھن پیدا کرنے والی کمپنیوں کو آئندہ برس اس قانون سازی کے تحت ٹیکس میں کروڑوں ڈالر چھوٹ ملے گی جس پر صدر ٹرمپ نے رواں سال کے اوائل میں دستخط کیے ہیں۔

عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کی ایک رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ٹیکس میں دی جانے والی اس چھوٹ کی بدولت امریکہ میں کاربن کیپچر یعنی کاربن کا ذخیرہ کرنے کی مقدار میں خاطرخواہ اضافے سے ملک میں تیل کی پیداوار میں 50 سے 70 ہزار بیرل یومیہ تک اضافہ ہو جائے گا۔

نئی ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے والی کمپنیاں

ٹیکساس کی 'پیٹرا نووا' نامی تیل کی کمپنی نے جاپان سے تعلق رکھنے والے ادارے 'جے ایکس نیپون' کی شراکت سے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے جلنے کے عمل کے دوران خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو ذخیرہ کرنے والی جدید ٹیکنالوجی نصب کی ہے جس کے بارے میں پیٹرا نووا کا کہنا ہے کہ اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 90 فیصد تک کمی آئے گی۔ دونوں شراکت دار کمپنیوں نے پیداوار میں اضافے کی غرض سے ایک پائپ لائن تعمیر کی ہے جو اکٹھی کی گئی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تیل کے کنوؤں تک پہنچائے گی۔ اس طرح پیٹرا نووا بیک وقت تجارتی اور ماحولیاتی فوائد کا اپنا ہدف حاصل کرلے گی۔

توانائی کے وزیر رک پیری کہتے ہیں، "پیٹرا نووا کے منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صاف کوئلے کی ٹیکنالوجی سے ملک میں توانائی کے تحفظ اور معاشی نمو پر بامعنی اور مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔"

Metal pipes and valves, with blue sky behind (© Ernest Scheyder/Reuters)
آکسیڈینٹل پیٹرولیم کمپنی کا امریکہ کے جنوب مغرب کے پرمیین طاس میں تیل نکالنے کا سب سے بڑے پراجیکٹ کا ایک منظر۔ (© Ernest Scheyder/Reuters)

ٹیکساس ہی سے تعلق رکھنے والی 'نیٹ پاور' اور 'اوکیسڈینٹل پیٹرولیم' نامی دو مزید کمپنیاں زوروشور سے کاربن کیپچر ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں۔

 

بعض ماحولیاتی گروپ اس طریق کار کو متنازع سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے معدنی ایندھن کی صنعت کی مالی مدد ملتی ہے۔ تاہم 'آئی ای اے' سمیت دیگر حلقوں کا کہنا ہے کہ کاربن کیپچر ٹیکنالوجی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 37 فیصد تک کمی آتی ہے۔ وہ ٹیکس میں چھوٹ کو معاشی ترغیب سمجھتے ہیں جس سے کاربن کیپچر ٹیکنالوجی پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی آئے گی اور یہ صاف توانائی کی پیداوار کا مرکزی عنصر بن جائے گی۔

سائنس دان کاربن کو محفوظ رکھنے اور اسے پائیدار تعمیراتی مواد جیسی دیگر چیزوں میں تبدیل کرنے کے لیے نئے طریقے وضع کر رہے ہیں۔