جاز کے مراکز میں شو چل رہے ہیں

کورونا وائرس وبا کی وجہ سے بند ہو جانے والے امریکی جاز کلب اور مقامات پر اب جاز موسیقی ناظرین کے لیے براہ راست پیش کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ انٹرنیٹ کی وجہ سے ممکن ہوا۔

افسانوی شہرت کا حامل نیویارک کا ولیج وین گارڈ نامی جاز کلب 1935ء سے جاز کا ایک مرکزی مقام چلا آ رہا ہے۔ اس کلب کی مالکہ، ڈیبرا گورڈن نے بتایا کہ جون 2020 سے لے کر اس سال فروری کے وسط تک ہر ہفتے کے آخر میں سماجی فاصلہ قائم رکھتے ہوئے موسیقار کلب میں اپنے فن کا مظاہر کرتے رہے اور تین ملازمین اسے فلماتے براہ راست آن لائن سٹریم کرتے رہے۔

 تین آدمی موسیقی کے الات بجا رہے ہیں (© Jack Vartoogian/Getty Images)
کورونا وائرس سے پہلے نیویارک کے ولیج وین گارڈ میں کریگ ٹیبورن (بائیں)، کرس لائٹ کیپ (عقب میں) اور کرس سپیڈ جاز موسیقی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ (© Jack Vartoogian/Getty Images)

اس وقت سٹریمنگ میں ایک عارضی وقفہ ہے کیونکہ کلب کی عمارت کے ہواداری کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ ملازمین اور  شائقین کو ہوا میں موجود جراثیموں سے زیادہ بہتر طریقے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم کلب اس وقت تک پہلے سے ریکارڈ شدہ جاز کے پروگراموں کو دوبار نشر کرتا رہے گا جب تک کلب موجودہ پروگرام کے مطابق اس سال ستمبر میں دوبارہ  کھل نہیں جاتا۔

اِن پروگراموں کو آن لائن دیکھنے والے مداحین 10 ڈالر ادا کرتے ہیں جبکہ بہت سوں نے اس کے علاوہ عطیات بھی دیئے ہیں۔ گورڈن نے بتایا، “ہر کسی کو علم ہے کہ یہ کتنا مشکل وقت ہے۔ جاز کمیونٹی حیققتاً انتہائی پرعزم اور منظم اور فراخ دل ہے۔”

 کلب کے ایک آنجہانی سرپرست کو خراج تحسین

نیو اورلینز کے سنگ ہاربر جاز بسٹرو(Snug Harbor Jazz Bistro) نے اپنے ہاں سے آن لائن سٹریمنگ پروگرام اپریل 2020 تک بھرپور طریقے سے شروع نہیں کیے تھے۔ اس کے بعد اس کلب نے استاد پیانو نواز، ایلیس مارسیلس کو پیش کیے جانے والے ایک ماہ طویل خراج تحسین کے پروگرام تیار کیے اور انہیں نشر کیا۔ مارسیلس اِس کلب کے مخلص سرپرست، ماہر تعلیم اور شہر کے موسیقی کے مشہور ترین گھرانے کے سربراہ تھے۔ 2020ء کے اوائل میں مارسیلس نے اعلان کیا کہ وہ ہفتہ وار ہونے والے اُن شوز میں کمی کر دیں گے جو وہ سنگ ہاربر میں کئی برسوں سے کرتے چلے آ رہے تھے۔ اس کے فوراً بعد یعنی یکم اپریل 2020 کو اُن کا 85 برس کی عمر میں کورونا وائرس سے انتقال ہوگیا۔ اُن کے انتقال سے مارسیلس کو خراج تحسین پیش کرنے کے سلسلے کا آغاز ہوا جو جولائی 2020 تک چلا اور اس کی 20 قسطیں پیش کی گئیں۔

سنگ ہاربر کے میوزک ڈائریکٹر جیسن پیٹرسن نے کہا، “ہم نے یہ شو جمعہ کے روز کیا جب وہ (مارسیلس) عام طور پر کلب میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ وہ کلب کے سرپرست تھے۔”

 ایک کلب کے سٹیج پر موسیقار بیٹھے ہوئے ہیں اور موسیقی کے آلات بجا رہے ہیں (© Jason Patterson/Snug Harbor Jazz Bistro)
مارچ میں مائیکل وائٹ اور اوریجنل لبرٹی جاز بینڈ سنگ ہاربر جاز بسٹرو میں سٹریمنگ ناظرین کے لیے اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ (© Jason Patterson/Snug Harbor Jazz Bistro)

سنگ ہاربر نے اس برس فروری میں آن لائن شوز کا آغاز کیا۔ کلب کے سٹیج سے براہ راست سٹریم کیے جانے والے اِن ورچوئل شوز کا ٹکٹ 15 ڈالر ہے اور انہیں چار مختلف کیمروں سے فلمایا جاتا ہے۔

بعض اوقات موسیقار جذباتی ہوجاتے ہیں۔ پیٹرسن نے بتایا، “بینڈ مستقلاً، بالخصوص اپنے فن کے مظاہرہ کرنے کے بعد ہمارا شکریہ ادا کرتے رہتے ہیں۔ بس وہ خوشی محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک سال میں اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کیا۔”

مستقل تحرک

مارچ 2020ء کے بعد سے لنکن سنٹر کے جاز کے سٹریمنگ کے پروگرام کو ایک تسلسل سے آگے بڑہایا گیا۔ موسیقاروں کے گھروں سے کنسرٹوں کے یہ مفت پروگرام مارچ 2020ء میں شروع کیے گئے اور انہیں سنٹر کے فیس بک پیج پر نشر کیا گیا۔

اس برانڈ کی سیلز اور مارکیٹنگ کی  نائب صدر، گیبریئل ارمانڈ نے بتایا، “لنکن سینٹر کے جاز کے (منتظمین نے)  فوری طور پر فیصلہ کیا کہ تبدیلی لائی جائے۔ اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم دروازوں پر تالے نہیں ڈالیں گے۔ موسیقی کا ہونا مرہم کی سے حیثیت رکھتا ہے۔”

کئی ماہ بعد نیویارک میں قائم اس مرکز نے اپنے ڈزیز کلب میں موسیقاروں کے گروپوں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے واپس لانا شروع کیا۔ اِن کنسرٹوں کو تجویز کردہ 10 ڈالر کا ٹکٹ خرید کر عطیہ دینے والوں کے لیے سٹریم کیا۔ اب ونٹن مارسیلس (جو ایلیس مارسیلس کے  بیٹے ہیں) وبا کَے خلاف حفاظتی اقدامات کے تحت مرکزی سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ونٹن مارسیلس آنے والے کئی ایک ورچوئل کنسرٹوں کی تیاری کر رہے ہیں جنہیں ٹکٹ خریدنے والوں کے لیے سٹریم کیا جائے گا۔ اس پروگرام کا نام “لنکن سنٹر میں ونٹن مارسیلس کے ساتھ جاز” ہے۔

یہ جوش و جذبہ سامعین میں تک بھی پھیل گیا ہے۔ ہر ماہ دس ہزار سے زیادہ افراد فن کے اِن مظاہروں کو دیکھتے ہیں۔ لوگ چھوٹی چھوٹی رقموں کی شکل میں ایک لاکھ  ڈالر کے عطیات دے چکے ہیں۔

ارمانڈ کہتی ہیں، “جاز ایک عالمگیر زبان ہے۔ یہ یقیناً ہر ایک سے مخاطب ہوتی ہے۔”