جانوروں کا غیرقانونی شکار کرنے والوں کے خلاف موثر کاروائی: امریکہ کی کینیا کے ہوابازوں کی تربیت

کینیا کی جنگلی حیات کے محکمے کے سات پائلٹ ہیلی کاپٹر نما جائرو طیاروں پر تربیت لینے کی خاطر امریکی ریاست لوزیانا کے شہر ہیمنڈ پہنچے۔ اُن کی اس تربیت کا مقصد جنگلی جانوروں کے غیر قانونی شکار کو زیادہ موثر انداز سے روکنا ہے۔

یہ تربیت امریکہ کے محکمہ انصاف کی مالی اعانت سے چلائے جانے والے اُس پروگرام  کا حصہ ہے جس کا مقصد جنگلی حیات کے محافظین کو غیرقانونی شکار کے خاتمے کے لیے درکار وسائل فراہم کرنا ہے۔

غیرقانونی شکار کینیا کے پارکوں کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور خطے میں دہشت گرد گروہوں کی آمدنی کا ذریعہ بنتا ہے۔

کینیا کے جنگلی حیات کے محکمے کا فضائی بیڑہ غیرقانونی شکار، درختوں کی غیر قانونی کٹائی، آتشزدگیوں اور جنگلی جانوروں کو درپیش دیگر خطرات پر نظر رکھتا ہے۔ ہوابازوں کو جہاں کہیں کوئی گڑبڑ نظر آتی ہے تو وہ ریڈیو کے ذریعے زمین پر موجود محافظوں کو اس کی اطلاع کر دیتے ہیں۔ مگر پروں والے روائتی جہاز استعمال کرتے ہوئے جنگلی حیات کو درپیش خطرات سے محفوظ رکھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

Many elephants moving past trees, seen from above (© AOPA)
کینیا کی جنگلی حیات کے محکمے کے ہوا باز فضا سے سے ہاتھیوں کے اس غول کی طرح جانوروں کی حرکات دیکھنے کے ساتھ ساتھ غیرقانونی شکار اور جنگلوں کی غیرقانونی کٹائی جیسی مجرمانہ سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ (© AOPA)

ہوابازی کے انسٹرکٹر سٹیفن ریس ٹنیس کہتے ہیں کہ جائرو طیاروں کو عام طیاروں کی نسبت کم رفتار اور حسب ضرورت دائیں بائیں، اوپر نیچے مختلف سمتوں میں اڑایا جا سکتا ہے۔  پرواز کے دوران اِن طیاروں سے زمین  کی کم و بیش ہرایک چیز ہوابازوں کی نگاہ میں ہوتی ہے۔ زمین پر چیزوں کی حرکات پر نظر رکھنے کے لیے یہ تمام سہولتیں اہمیت کی حامل ہیں۔

ریس ٹنیس بتاتے ہیں کہ ابتدا میں ساتوں ہواباز "جائرو طیاروں کے استعمال کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات کا شکار تھے۔ خوش قسمتی سے چند ایک آزمائشی پروازوں کے بعد انہیں جائرو طیاروں کے فوائد سمجھ آنے لگے۔

ہوابازی کے مسائل کے حل

1990ء میں کینیا کے جنگلی حیات کے محکمے نے 59 پارکوں کی نگرانی کے لیے طیاروں کا استعمال شروع کیا۔ مگر اِن کا  فضائی بیڑہ چھوٹا اور مہنگا تھا۔ ہواباز ہرمہینے 58,265 مربع کلومیٹر پر پھیلے علاقے کے محض آٹھ فیصد رقبے کا سروے کر پاتے تھے۔ بعض پارکوں کا فضائی جائزہ بالکل نہیں لیا جاتا تھا۔

Two pilots in aircraft cockpit (© AOPA)
کینیا کی جنگلی حیات کے محکمے کے ہواباز 11 طیاروں پر مشتمل "کاروان" نامی بیڑے کے ایک طیارے کو سٹارٹ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اِن طیاروں سے جنگلی حیات کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ (© AOPA)

شمالی کیرولائنا کی ایلزبتھ سٹی کی سٹیٹ یونیورسٹی کے ہوابازی کے سائنس دان 2015ء سے فضائی بیڑے سے متعلق متبادلات کا مطالعہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ٹیم کے لیڈر پرفیسر کلدیپ راوت نے بتایا کہ یہ ٹیم ایک ایسے حل کی تلاش میں تھی جو کہ "بنیادی طور پر کم خرچ ہو، جس کی دیکھ بھال آسان اور محفوظ ہو۔"

جائرو یہ تمام ضروریات پوری کرتے ہیں۔ جائرو طیاروں پر، پروں والے عام طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر اٹھنے والی لاگت کا دسواں حصہ لاگت آتی ہے۔ اسی طرح عام جہازوں کی نسبت جائرو طیارے اڑانے کے لیے ہوابازوں کی تربیت کا وقت کم ہو کر آدھا رہ جانتا ہے۔

لوزیانا میں تربیت کے علاوہ ہوابازی کے دو انجنیئر اور ایک فلائٹ انسپکٹر جائرو طیاروں کی دیکھ بھال کے بارے میں تربیت لینے میری لینڈ گئے۔ وہ محکمہ انصاف کی طرف سے خریدے گئے پانچ جائرو طیاروں کی دیکھ بھال کریں گے۔ نئے جائرو طیاروں پر ہوابازوں کی تربیت مکمل کرنے کے لیے نومبر میں ریس ٹینس کینیا جائیں گے۔