جانوروں کی تصویریں لینے سے، انہیں معدوم ہونے سے بچایا جا سکے گا: امریکی فوٹوگرافر کی امید

زمانہِ قدیم میں حضرت نوح علیہ السلام کی سیلاب کی تیاری کی طرح، امریکی جوئیل سارٹور بھی جانوروں کو بچاںے کے لیے انہیں اکٹھا کر رہے ہیں۔ مگر وہ انہیں کشتی میں رکھنے کے بجائے، ان کی تصویریں لے رہے ہیں۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کی مدد سے شروع کیا گیا ان کے فوٹو آرک پراجیکٹ  کا مقصد  تقریباً 12,000 ایسے جانوروں کی تصویریں اتارنا ہے جو شکار، رہنے کی جگہوں کے خاتمے اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔

اس پراجیکٹ کی ابتدا ریاست نیبراسکا میں سارٹور کے شہر، لنکن کے ایک مقامی چڑیا گھر سے ہوئی۔ وہ ایک فری لانس فوٹوگرافر ہیں اور آرک پراجیکٹ کے سلسلے میں وہ 40 سے زیادہ ملکوں کا سفر کر چکے ہیں۔ گیارہ برس بعد، وہ مطلوبہ جانوروں کی تصویریں لینے کے سفر میں، نصف سے زیادہ فاصلہ طے کر چکے ہیں۔

سارٹور کو امید ہے کہ ان کی لی ہوئی تصویروں سے اِن جانوروں کو بچانے کے لیے اقدامات کرنے کے ضمن میں لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ان کی پیشگوئی ہے کہ ان میں سے نصف جانور اگلی صدی آنے تک ناپید ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، “اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے سیارے پر موجود زندگی کی انواع کی اکثریت کو بچا لیں۔ ہمیں اس کی فکر کرنی چاہیے اور فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ جس طرح زندگی کی دوسری انواع معدوم ہورہی ہیں، اسی طرح ہم بھی ختم ہو سکتے ہیں۔”

PERMITTED USE: This image may be downloaded or is otherwise provided at no charge for one-time use for coverage or promotion of National Geographic Photo Ark. Copying, distribution, archiving, sublicensing, sale, or resale of the image is prohibited. REQUIRED CREDIT AND CAPTION: Any and all image uses must (1) bear the copyright notice, (2) be properly credited to the Joel Sartore/National Geographic Photo Ark (3) be accompanied by a caption which makes reference to National Geographic Photo Ark. (4) include a prominent link to http://nationalgeographic.org/projects/photo-ark/   DEFAULT: Failure to comply with the prohibitions and requirements set forth above will obligate the individual or entity receiving this image to pay a fee determined by National Geographic. © Photo by Joel Satore/National Geographic Photo Ark A three-month-old baby chimpanzee, Pan troglodytes.
چمپینزی کا ایک تین مہینے کی عمر کا بچہ۔ (© Joel Sartore/National Geographic Photo Ark)

سارٹور کی مسحور کن تصویروں میں یوں لگتا ہے جیسے جانور آپ کو گھور رہے ہوں اور سیاہ و سفید پس منظر میں وہ ان انساتوں کی طرح نظر آتے ہیں جیسے کسی فوٹوگرافی کے سٹوڈیو میں تصویر بنوانے کے لیے پوز بنائے کھڑے ہیں۔

PERMITTED USE: This image may be downloaded or is otherwise provided at no charge for one-time use for coverage or promotion of National Geographic Photo Ark. Copying, distribution, archiving, sublicensing, sale, or resale of the image is prohibited. REQUIRED CREDIT AND CAPTION: Any and all image uses must (1) bear the copyright notice, (2) be properly credited to the Joel Sartore/National Geographic Photo Ark (3) be accompanied by a caption which makes reference to National Geographic Photo Ark. (4) include a prominent link to http://nationalgeographic.org/projects/photo-ark/   DEFAULT: Failure to comply with the prohibitions and requirements set forth above will obligate the individual or entity receiving this image to pay a fee determined by National Geographic. © Photo by Joel Satore/National Geographic Photo Ark FENNEC FOXSAINT LOUIS ZOOThe smallest foxes in the world have enormous ears to cool them down as they traverse sand dunes in the Sahara, where they are common. Their cuteness makes them attractive to the wild-pet trade.
سینٹ لوئی چڑیا گھر میں فینک لومڑیاں۔ یہ دنیا کی سب سے چھوٹی لومڑیاں ہیں۔ عام طور پر یہ صحارا میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے بہت بڑے بڑے کان ہوتے ہیں۔ جب یہ صحارا کے ریت کے ٹیلوں میں پھرتیں ہیں تو اِن کے کان انہیں گرمی کی شدت سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ بہت اچھی لگتی ہیں اور جنگلی پالتو جانوروں کی تجارت کے لیے بہت پُر کشش ہیں۔ (© Joel Sartore/National Geographic Photo Ark)

وہ کہتے ہیں، “فوٹو آرک کی بیشتر تصویریں کھینچنے میں صرف چند منٹ لگتے ہیں جس کے دوران میں یہ امید کر رہا ہوتا ہوں کہ جانور پلٹ کر میری طرف دیکھے گا اور مجھ سے نظریں ملائے گا۔ ہمیشہ تو ایسا نہیں ہوتا، لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو میری دلی مراد بَر آتی ہے کیوں کہ میں بالکل یہی چاہتا ہوں کہ جانور مجھ سے نظریں ملائے۔”

PERMITTED USE: This image may be downloaded or is otherwise provided at no charge for one-time use for coverage or promotion of National Geographic Photo Ark. Copying, distribution, archiving, sublicensing, sale, or resale of the image is prohibited. REQUIRED CREDIT AND CAPTION: Any and all image uses must (1) bear the copyright notice, (2) be properly credited to the Joel Sartore/National Geographic Photo Ark (3) be accompanied by a caption which makes reference to National Geographic Photo Ark. (4) include a prominent link to http://nationalgeographic.org/projects/photo-ark/   DEFAULT: Failure to comply with the prohibitions and requirements set forth above will obligate the individual or entity receiving this image to pay a fee determined by National Geographic. © Photo by Joel Satore/National Geographic Photo Ark A Brazilian porcupine, Coendou prehensilis, at the Saint Louis Zoo.
سینٹ لوئی کے چڑیا گھر میں برازیل کی ایک سیہ۔ (© Joel Sartore/National Geographic Photo Ark)

سارٹور کو یاد ہے کہ بچپن میں انہیں کسی نے پرندوں کے بارے میں ایک کتاب دی تھی جس سے انہیں جانوروں کے ختم ہو جانے کے خطرے کا خیال آیا۔ انھوں نے بتایا، “اوہائیو میں سنسناٹی کے چڑیا گھر میں، جنگلی کبوتروں کی ایک قسم “پیسنجر پجن” یعنی مسافر کبوتروں سے تعلق رکھنے والی مارتھا نامی کبوتری، اس نسل کی آخری کبوتری تھی۔ وہ 1914 میں مر گئی۔ پرندوں کی یہ قسم جوکبھی اربوں کی تعداد میں پائی جاتی تھی، دنیا سے مکمل طور پر ناپید ہو گئی۔ میرے لیے یہ نقصان ناقابلِ برداشت تھا، اور آج بھی ہے۔”

PERMITTED USE: This image may be downloaded or is otherwise provided at no charge for one-time use for coverage or promotion of National Geographic Photo Ark. Copying, distribution, archiving, sublicensing, sale, or resale of the image is prohibited. REQUIRED CREDIT AND CAPTION: Any and all image uses must (1) bear the copyright notice, (2) be properly credited to the Joel Sartore/National Geographic Photo Ark (3) be accompanied by a caption which makes reference to National Geographic Photo Ark. (4) include a prominent link to http://nationalgeographic.org/projects/photo-ark/   DEFAULT: Failure to comply with the prohibitions and requirements set forth above will obligate the individual or entity receiving this image to pay a fee determined by National Geographic. © Photo by Joel Satore/National Geographic Photo Ark A weeper capuchin, Cebus olivaceus, at the Summit Municipal Park in Gamboa, Panama.
گمبوآ، پناما کی سمٹ میونسپل پارک میں ویپر کیپوچن نسل کا بندر۔ (© Joel Sartore/National Geographic Photo Ark)

بعض جانوروں کی تصویریں اتارنا دوسروں کے مقابلے میں آسان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے، “کچھوے میرے پسندیدہ جانور ہیں کیوں کہ وہ زیادہ حرکت نہیں کرتے، اور اس لیے ان پر توجہ مرکوز کرنا آسان ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں منک، قطبی بلّے وغیرہ جیسے نیولے کی نسل کے جانوروں کی تصویریں لینا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے کیوںکہ وہ کسی ایک جگہ پر کبھی نہیں ٹکتے۔ وہ خاص طور سے میرے کیمرے کے لینز پر اپنا منہ لگانا پسند کرتے ہیں، جس سے ان کی تصویر اور بھی دھندلی ہوجاتی ہے۔ انہیں تو خوب مزا آرہا ہوتا ہے لیکن میرا کام بہت مشکل ہوجاتا ہے۔”

سارٹور کی عمر 54 سال ہے۔ انہیں امید ہے کہ وہ اپنا یہ پراجیکٹ مکمل کر لیں گے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو ان کے پاس ایک متبادل منصوبہ ہے۔ ان کے سب سے بڑے بیٹے نے جو اب 22 سال کا ہے، اور جو بعض اوقات تصویریں لینے میں ان کی مدد کرتا ہے، یہ وعدہ کیا ہے وہ ان کے مشن کو جاری رکھے گا۔ انھوں نے کہا، “مجھے امید ہے کہ عام لوگ بالآخر رُک جائیں گے اور اس بات پر توجہ دیں گے کہ یہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔”