جانیے کہ اِن شہروں میں ہوا کا معیار کیسے بہتر ہوا

بہت سے شہروں میں مقامی تنظیمیں ہوا کے معیار سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے اپنی [مقامی] حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ اِن میں سے بہت سی تنظیموں کو مثبت نتائج ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ دیکھیے کہ ذیل کے  تین بڑے شہروں یعنی شکاگو، لاس اینجلیس اور پٹس برگ نے کس طرح اپنے رہاشیوں کے لیے سانس لینا آسان بنا دیا ہے:

شکاگو

Chicago skylines with smog, left, and with clean air, right (Left photo © Kirn Vintage Stock/Alamy. Right photo © M. Spencer Green/AP Images)
شکاگو، ایلانوائے: بائیں 1945 میں اور دائیں 2013ء میں۔ ( بائیں تصویر © Kirn Vintage Stock/Alamy دائیں تصویر © M. Spencer Green/AP Images)

مقامی طور پر “ایرے آف تھنگز” یا اے او ٹی جیسے ٹکنالوجی کے ایسے نئے پروگرام شروع کیے گئے جن کے تحت سارے شہر میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بجلی کے کھمبوں پر ایسے سنسر لگا دیئے گئے ہیں جن سے ماحول سے متعلق انتہائی اہم ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ 2016ء میں شروع ہونے والے اس منصوبے کے تحت اتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے جس کی شہر میں اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ شہر میں آلودہ اخراجوں میں کمی لانے کی خاطر شکاگو نے آلودگی کی روک تھام کا  ایک یونٹ قائم کیا ہے۔ اسی طرح “سانس کی صحت کی تنظیم” مقامی شراکت کاروں کے ساتھ مل کر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور قابل تجدید توانائی پر کام کر رہی ہے۔

لاس اینجلیس

Los Angeles with smog, left, and with clean air revealing the San Gabriel Mountains, right (Both images © Nick Ut/AP Images)
بائیں: 1978ء میں لاس اینجلیس پر چھائی ہوئی آلودہ دھند کی چادر۔ دائیں: 2014ء میں لاس اینجلیس کے اندرونی شہر کے منظر کے پس منظر میں سین گیبریئل پہاڑوں کی برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں۔ (دونوں تصاویر© Nick Ut/AP Images)

لاس اینجلیس 20ویں صدی میں آلودہ دھند کی اونچی سطحوں کی وجہ سے بدنام تھا۔ یہ شہر غالباً سب سے نمایاں تبدیلی لے کر آیا ہے۔ شمسی پینل اور ہائبرڈ اور بجلی کی کاروں جیسی نئی ٹکنالوجیوں نے تعمیراتی اور توانائی کے طور طریقوں کو ماحولیاتی نقطہ نظر سے زیادہ دوستانہ بنا دیا ہے۔ اسی طرح ریاستی پالیسیوں کی مدد سے کیلی فورنیا میں کاربن کے اخراجوں میں 1990 سے لے کر 2010 تک صرف 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لانس اینجلیس شہر کا منصوبہ ہے کہ 2025ء تک آلودگی بالکل خارج نہ کرنے والی گاڑیوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ اور کوئلے کے استعمال کو بالکل ختم کر دیا جائے۔

پِٹس برگ

Black-and-white photo of smog-covered Pittsburgh and color photo of Pittsburgh with clean air (Left photo © Margaret Bourke-White/The LIFE Picture Collection/Getty Images. Right photo © Clarence Holmes Photography/Alamy)
موننگاہیلا اور الیگنی دریاؤں کے سنگم پر واقع پٹس برگ: بائیں 1936ء میں اور دائیں 2014ء میں۔ ( بائیں تصویر © Margaret Bourke-White/The LIFE Picture Collection/Getty Images دائیں تصویر© Clarence Holmes Photography/Alamy)

کسی دور میں فولاد کے کارخانوں کے لیےمشہور، پٹس برگ آج نئے منصوبوں اور صاف ستھرے ماحول  کے لیے نئے نئے پروگراموں کے استعمال کا ایک مثالی شہر بن چکا ہے۔ پٹس برگ آنے والے لوگ “ٹاور ایٹ پی این سی پلازہ” کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک 33 منزلہ دفتری عمارت ہے جس نے “یو ایس گرین بلڈنگ کونسل” کی جانب سے ماحولیاتی لحاظ سے  تصدیق کے مطلوبہ پائیدار معیارات سے بڑھکر تعمیراتی معیارات قائم کیے اور ‘سرٹیفکیشن’ یعنی سند حاصل کی۔ شہر کا ڈرائیوروں کے بغیر بجلی سے چلنے والی گاڑیاں چلانے اور ایسے ٹریفک سگنل اور روشنی کے کھمبے لگانے کا منصوبہ ہے جو زیادہ ماحول دوست ہوں۔ 2016ء میں کارنیگی میلن یونیورسٹی نے “سمیل پٹس برگ” کے نام سے ایک ایپ تیار کیا۔ جب کسی کو آلودگی پھیلانے والے مواد کی بدبو آتی ہے تو وہ شخص اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے آلودہ مواد کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دے سکتا ہے۔ دوسرے شہروں کی مدد کرنے کے لیے اس ایپ کو اب امریکہ بھر کے شہروں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

 یہ مضمون فری لانس مصنفہ لین میکولا نے تحریر کیا۔