انسانوں کا بیوپار ایک فوری اور گھمبیر مسئلہ ہے اور امریکی حکومت اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کا محکمہ خارجہ جدید غلامی کے خاتمے پرمزید دو کروڑ پچاس لاکھ ڈالر لگا رہا ہے۔ یہ ایک ایسی اہدافی کوشش ہے جس کا مقصد دنیا کے مخصوص ممالک یا خطوں میں انسانی بیوپار کے پھیلاؤ میں کمی لانا ہے۔

حالیہ اضافی رقم سے امریکہ کی مجموعی سرمایہ کاری کی رقم سات کروڑ پچاس لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جس نے اسے محکمہ خارجہ کا انسانوں کے بیوپار کے خاتمے کا سب سے بڑا پروگرام بنا دیا ہے۔

وزیر خارجہ نے یہ اعلان 29 اکتوبر کو انسانوں کے بیوپار کے خاتمے کے لیے قائم کی جانے والی صدر کی بین الاداراتی ٹاسک فورس کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ یہ ٹاسک فورس اس مسئلے کے بارے میں امریکی حکومت کے اداروں کے مابین رابطہ کاری کا کام کرتی ہے۔

اس اجلاس میں پومپیو کے ساتھ صدر کی مشیر ایوانکا ٹرمپ، انسانی بیوپار سے متعلق امریکی مشاورتی کونسل کے کئی ایک اراکین اور دیگر وفاقی محکموں اور اداروں کے 18 نمائندے بھی شامل تھے۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

ایوانکا ٹرمپ:

امریکہ کے صدر نے بے آوازوں کی آواز بننے کا عہد کر رکھا ہے۔ انسانی بیوپار کا شکار ہونے والے افراد سے زیادہ کمزور اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں اس بری لعنت کے خاتمے کے لیے رابطہ کاری کرنے اور کوششوں کو تیزتر کرنے کی خاطر، وزیر خارجہ پومپیو اور امریکی حکومت کے 19 اداروں کی قیادت کے ساتھ شامل ہوئی۔

انسانوں کے بیوپار کی رپورٹ کے ذریعے محکمہ خارجہ اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ دنیا میں حکومتیں اس جرم کا خاتمہ کرنے کے لیے کیا کر رہی ہیں۔

پومپیو نے 29 اکتوبر کو کہا، “ٹرمپ انتظامیہ انسانی بیوپار کا شکار بننے والے دنیا کے دو کروڑ پچاس لاکھ افراد کی انسانی سمگلنگ کے خاتمے کا پختہ ارادہ کیے ہوئے ہے۔ جدید غلامی کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔”