جرائتمند خواتین کے ایوارڈ کی تقریب میں ایرانی عورتوں کو خراج تحسین

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے 7 مارچ کو منعقد ہونے والی جرائتمند خواتین کے بین الاقوامی ایوارڈ کی سالانہ تقریب میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی ابھرتی ہوئی خواتیں لیڈروں کو ایوارڈ دیئے۔ یہ ایوارڈ 10 ایسی خواتین کو دیئے گئے جنہوں نے انسانی حقوق کی حمایت، نسوانی مساوات اور سماجی ترقی کے لیے اکثر بڑے بڑے خطرات مول لیتے ہوئے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ وہ "زندگی بھر کے تجربے” سے یہ  جانتے ہیں کہ "جرائتمند خواتین وجود رکھتی ہیں اور اُن کی ہر جگہ ضرورت ہے۔”

ایوارڈ حاصل کرنے والی خواتین میں ایک سرکاری وکیل، پولیس فورس کی ایک رکن اور ایک مذہبی لیڈر شامل ہے۔ اِن میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو غربت، دہشت گردی، گھریلو تشدد اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

ایوارڈ حاصل کرنے والی اِن 10 خواتین کے علاوہ اس تقریب میں اُن ایرانی خواتین کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا جو ہراساں کیے جانے، گرفتار کیے جانے، قید کی طویل سزائیں دیئے جانے اور حتٰی کے تشدد کا سامنا کرنے کے باوجود گزشتہ سال کے دوران نڈر اور پرامن طریقے سے بدعنوان حکومت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہیں۔

پومپیو نے کہا، ” گزشتہ برس بالکل انہی دنوں ایران کے طول و عرض میں درجنوں عورتیں اُس قانون کے خلاف شہر کی سڑکوں پر نکل آئیں جس کے تحت عورتوں کے لیے گھر سے باہر ہر وقت حجاب پہننا ضروری ہے۔ اپنی آزادی کے حق کو استعمال میں لاتے ہوئے اِن باہمت عورتوں نے کیمروں کے سامنے چہروں سے اپنے حجاب ہٹا دیئے اور اُن کے چہروں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ انہوں نے اپنے لیڈروں کی سفاکی کا علم رکھتے ہوئے ایسا کیا۔”

ایرانی عورتوں کے حقوق کا دفاع

کم و بیش ہر روز  —  خواہ وہ سوشل میڈیا پر ہوں، سڑک یا کام  پر ہوں  —  ایران میں ایسی عورتیں ہیں جو اپنے اُن حقوق کو واپس لینے کی کوشش میں پرامن اور قانونی اقدامات اٹھاتی ہیں جنہیں انقلابی حکومت نے اُن سے چھین لیا ہے۔

Nasrin Sotoudeh seated at desk (© Arash Ashourinia/AP Images)
نسرین ستودہ۔ (© Arash Ashourinia/AP Images)

انسانی حقوق کی وکیل نسرین ستودہ کو جون 2018 میں کئی ایک ایسی عورتوں کی وکالت کرنے پر گرفتار کر کے بدنام زمانہ اوین جیل میں ڈال دیا گیا جن پر سفید بدھ کی تحریک کے دوران سرعام اپنے سروں سے سکارف اتارنے کا الزام تھا۔ ستودہ کو حال ہی میں "قومی سلامتی” سے متعلق جرائم کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کے مرکز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہادی غائمی نے کہا، "کسی قسم کی بہانے بازی سے یہ حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی کہ ستودہ ایران میں انسانی حقوق کا پرامن دفاع کرنے پرظلم و زیادتیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ اِن حقوق میں حجاب کے پہننے یا نہ پہننے کا انتخاب کرنے کا حق بھی شامل ہے۔”

ایک جلا وطن ایرانی وکیل، سابقہ جج اور 2003ء میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے پر نوبیل کا امن انعام حاصل کرنے والی شیریں عبادی بھی ایران کی باہمت خواتین کی اپنے حقوق واپس لینے کی  روزمرہ کی جدوجہد  کی مسلسل حمایت کر رہی ہیں۔ حال ہی میں عبادی نے فرانس 24 نامی ایک خبر رساں ادارے کو بتایا، "عورتوں کو ہمیشہ حکومت کا مخالف — اور دشمن بھی — سمجھا جاتا ہے۔”

ایوارڈ حاصل کرنے والی خواتین ‘عورتوں کو ہر کہیں با اختیار بناتی ہیں’

جرائتمند خواتین کے بین الاقوامی ایوارڈ دینے کی ابتدا 2007ء میں ہوئی۔ تب سے آج تک 65 مختلف ممالک کی 120 سے زائد خواتین کو یہ ایوارڈز دیئے جا چکے ہیں۔

2019ء کی تقریب میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے کہا، "یہ عورتیں اگلی نسل کے لیے مثالی نمونہ ہیں۔ اپنے کام کے ذریعے وہ عورتوں کو ہر جگہ با اختیار بنا رہی ہیں۔”